قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں:
وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰ إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۱۶وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ ۱۷فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ ۱۸فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ۱۹
اور ان میں سے کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو آپ کی باتیں بظاہر غور سے سنتے ہیں اس کے بعد جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ انہوں نے ابھی کیا کہا تھا یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات کا اتباع کرلیا ہے. اور جن لوگوں نے ہدایت حاصل کرلی خدا نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا اور ان کو مزید تقویٰ عنایت فرما دیا. پھر کیا یہ لوگ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ اچانک ان کے پاس آجائے جب کہ اس کی علامتیں ظاہر ہوگئی ہیں تو اگر وہ آبھی گئی تو یہ کیا نصیحت حاصل کریں گے. تو یہ سمجھ لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اپنے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کرتے رہو کہ اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹہرنے سے خوب باخبر ہے.
یہ آیا ت وحی الہٰی ، آیات قرآنی اوراحادیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں منافقین کی کیفیت کی تصویر کشی اور دشمنانِ اسلام کے ساتھ جنگ و جہاد کے مسئلے کو بیان کررہی ہیں ۔
مدنی سُورتوں میں منافقین کابہت تذ کرہ ملتا ہے جب کہ مکّی سُور توں میں ایسانہیںہے ، کیونکہ فقت اور نفاق کامسئلہ اسلام کی کامیابی اوراس کے مکمل طورپر مسلط ہوجانے کے بعد پیدا ہوا ،کیونکہ مخالفین کی طاقت کمزور ہو گئی تھی اوروہ کھلم کھلا طورپر اسلام کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے ، لہذا وہ بظا ہر اسلام کالبادہ اوڑھ کراسلام کے دائر ے میں در آ ئے تاکہ اس طرح سے وہ مسلمانوں کے غیظ وغضب سے بچے رہیں ،لیکن باطنی طورپر مختلف سازشوں میں مصروف رہے ، مدینہ کے یہودی جوفوجی اوراقتصادی لحاظ سے بہت طاقت ورتھے وہ بھی منافقین کے پشت پنا ہ ثابت ہوئے ۔
بہرحال ،وہ سچے موٴ منین کی صفوں میںگھُس آ ئے ،نماز جمعہ اور دیگر اجتما عات میں سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوتے ،لیکن قرآنی آیات کے مقابلے مین ان کا ردّ عمل ان کے دلوں کی بیماری کا آئینہ دار ہوتا۔
اس لیے زیر تفسیرآیات میں سے پہلی آیت میں فر مایاگیا ہے : ان میں سے کچھ لوگ تیرے پاس آ تے ہیں ۔