Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۵۔ ” سقوا“

										
																									
								

Ayat No : 15

: محمد

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ ۱۵

Translation

اس جنّت کی صفت جس کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں کسی طرح کی بو نہیں ہے اور کچھ نہریں دودھ کی بھی ہیں جن کا مزہ بدلتا ہی نہیں ہے اور کچھ نہریں شراب کی بھی ہیں جن میں پینے والوں کے لئے لذّت ہے اور کچھ نہریں صاف و شفاف شہد کی ہیں اور ان کے لئے ہر طرح کے میوے بھی ہیں اور پروردگار کی طرف سے مغفرت بھی ہے تو کیا یہ متقی افراد ان کے جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہّنم میں رہنے والے ہیں اور جنہیں گرما گرم پانی پلایا جائے گا جس سے آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی.

Tafseer

									( انہیں پلایا جائے گا) کی تعبیر فعل مجہول کے ساتھ کی گئی ہے جواس حقیقت کی غماز ہے کہ ان ( جہنمیوں) کو کھولتا اور جلتا پانی زبر دستی پلا یاجائے گا وہ اپنی خوشی سے نہیں پئیں گے اور جہنم کی اس آگ میں ان کے سیراب ہونے کے بجائے ، ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور دوزخ کے معمول کے مطابق پھر وہ اپنی اصل حالت میں آ جائیں گے ،کیونکہ وہاں موت نہیں ہے ۔