شان ِ نزول
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ۵۱
اورکسی انسان کے لئے یہ بات نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر یہ کہ وحی کردے یا پس پردہ سے بات کر لے یا کوئی نمائندہ فرشتہ بھیج دے اور پھر وہ اس کی اجازت سے جو وہ چاہتا ہے وہ پیغام پہنچا دے کہ وہ یقینا بلند و بالا اور صاحبِ حکمت ہے.
بعض مفسرین نے اس آیت کی ای شان نزول بیان کی ہے جس کاخلاصہ یہ ہے کہ کچھ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اورآکر عرض کی ” آ پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ،خدا کے ساتھ براہ راست باتیں کیوں نہیں کرتے ؟اسے اپنی آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھتے؟اگرآپ نبی ہیں توجیسے موسٰی نے خداسے گفتگو کی ہے اوراُسے دیکھاہے توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بھی ایساہی کرنا چاہیئے ، ہم اس وقت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پریمان نہیں لائیں گے جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) یہی کام انجام نہیں دیں گے ! یہ سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے ارشاد فر مایا ” موسٰی علیہ السلا م نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا “ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی ( کہ جس میں یہ بتایاگیاہے کہ انبیاء کارابط اللہ سے کن ذ رائع سے ہوتاہے ( ۱).
۱۔ تفسیر قرطبی، جلد ۸ ،ص ۵۸۷۳۔