Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان ِ نزول

										
																									
								

Ayat No : 51

: الشورى

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ۵۱

Translation

اورکسی انسان کے لئے یہ بات نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر یہ کہ وحی کردے یا پس پردہ سے بات کر لے یا کوئی نمائندہ فرشتہ بھیج دے اور پھر وہ اس کی اجازت سے جو وہ چاہتا ہے وہ پیغام پہنچا دے کہ وہ یقینا بلند و بالا اور صاحبِ حکمت ہے.

Tafseer

									بعض مفسرین نے اس آیت کی ای شان نزول بیان کی ہے جس کاخلاصہ یہ ہے کہ کچھ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اورآکر عرض کی ” آ پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ،خدا کے ساتھ براہ راست باتیں کیوں نہیں کرتے ؟اسے اپنی آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھتے؟اگرآپ نبی ہیں توجیسے موسٰی نے خداسے گفتگو کی ہے اوراُسے دیکھاہے توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بھی ایساہی کرنا چاہیئے ، ہم اس وقت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پریمان نہیں لائیں گے جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) یہی کام انجام نہیں دیں گے ! یہ سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے ارشاد فر مایا ” موسٰی علیہ السلا م نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا “ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی ( کہ جس میں یہ بتایاگیاہے کہ انبیاء کارابط اللہ سے کن ذ رائع سے ہوتاہے ( ۱).
 ۱۔ تفسیر قرطبی، جلد ۸ ،ص ۵۸۷۳۔