شان ِ نزول
وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ ۲۷وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ ۲۸وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ ۲۹وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ۳۰وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۖ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ۳۱
اور اگر خدا تمام بندوں کے لئے رزق کو وسیع کردیتا ہے تو یہ لوگ زمین میں بغاوت کردیتے مگر وہ اپنی مشیت کے مطابق معیّنہ مقدار میں نازل کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر ہے اوران کے حالات کا دیکھنے والا ہے. وہی وہ ہے جو ان کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش کو نازل کرتاہے اور اپنی رحمت کو منتشر کرتا ہے اور وہی قابل تعریف مالک اور سرپرست ہے. اور اس کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کی خلقت اور ان کے اندر چلنے والے تمام جاندارہیں اور وہ جب چاہے ان سب کو جمع کرلینے پر قدرت رکھنے والا ہے. اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی باتوں کو معاف بھی کردیتاہے. اور تم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے ہو اورتمہارے لئے اس کے علاوہ کوئی سرپرست اور مددگار بھی نہیں ہے.
مشہور صحابی خباب بن ارت کہتے ہیں کہ پہلی آیت ” ...“ہم لوگوں کے بار ے میں نازل ہوئی ہے . اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمار ی یہود ی قبائل بنی قریظہ ،بنی نضیر اور بنی قینقاع کے فراواں مال پر نظر تھی اور ہماری آ رز و تھی کہ اسے کاش ! ہمارے پاس بھی ایساہی مال ہوتا . اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے ہمیں خبر دار کردیا کہ اگر خداوندعالم اپنے بندوں کی روزی فراواں کردے تو وہ سرکشی پراتر آئیں گے ( ۱).
تفسیر ” در منثور“ میں ایک اورحدیث بیان ہوئی ہے وہ یہ کہ آیت اصحاب صفہ کے بار ے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ ان کی آرزو تھی کہ ان کی دنیا وی زندگی بہتر ہوجائے (۲).
۱۔ تفسیر فخررازی ،تفسیر ابو الفتوح رازی ،اور تفسیرقرطبی ، (اسی آیت کے ذیل میں ) ۔
۲۔ تفسیر درمنثور میں اس روایت کوحاکم ،بہیقی اور ابو نعیم سے نقل کیاگیاہے ( ج ۶ ، ص ۸)