Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ ” ومن یقترف حسنة ... “ کی تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 21-23

: الشورى

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۲۱تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ۲۲ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ ۲۳

Translation

کیا ان کے لئے ایسے شرکائ بھی ہیں جنہوں نے دین کے وہ راستے مقرّر کئے ہیں جن کی خدا نے اجازت بھی نہیں دی ہے اور اگر فیصلہ کے دن کا وعدہ نہ ہوگیا ہوتا تو اب تک ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور یقینا ظالموں کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے. آپ دیکھیں گے کہ ظالمین اپنے کرتوت کے عذاب سے خوفزدہ ہیں اور وہ ان پر بہرحال نازل ہونے والا ہے اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ جنّت کے باغات میں رہیں گے اور ان کے لئے پروردگار کی بارگاہ میں وہ تمام چیزیں ہیں جن کے وہ خواہشمند ہوں گے اور یہ ایک بہت بڑا فضل پروردگار ہے. یہی وہ فضلِ عظیم ہے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے ایمان اختیار کیا ہے اور نیک اعمال کئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی حاصل کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کردیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدرداں ہے.

Tafseer

									” ومن یقترف حسنة نزد لہ فیھاحسناً “ 
( جوشخص کوئی نیکی کمائے گاہم اس کی اچھائی میں اضافہ کردیں گے ) اس جملے میں لفظ ” اقتراف“ اصل میں ” قرف“ (بروزن ”حرف“ ) کے مادہ سے ہے جس کامعنی ہے درخت کی اضافی چھال کااتار لینا یازخم کی اضافی کھال کااتار لینا کہ بعض اوقا ت جس سے صحت وتند رستی حاصل ہوجاتی ہے . بعد میں یہ کلمہ اکتساب ( کمانے اورحاصل کرنے ) کے معنی میں استعمال ہونے لگا خواہ یہ اکتساباچھا ہویا بر. لیکن راغب کہتے ہیں کہ یہ کلمہ خوبی کی نسبت برائی کے لیے زیادہ استعمال ہوتاہے ( اگر چہ اس آیت میں خوبی کے لیے استعمال ہواہے ) 
یہی وجہ ہے کہ عربوں میں ایک ضرب المثل مشہور ہے :
الاعتراف یزیل الاقتراف
گناہ کااعتراف گناہ کومٹادیتاہے۔ 
یہ بات لائق توجہ ہے کہ ابن عباس اورایک اور متقدم مفسر ”سدّی “ سے منقول ہے کہ آیت میں ” اقتراف حسنة “ سے مراد ، آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مودت ہے ( 1).
ایک اورحدیث میں جوکہ ہم امام حسن علیہ السلام کے حوالے سے بیان کرآئے ہیں ، آیاہے :
اقتراف الحسنة مودتنا اھل البیت 
نیکی کمانے سے مراد ہم اہلبیت کی مودت ہے۔
ظاہر ہے کہ اس طرح کی تفسیروں کی مراد اکتساب حسنہ کے معنی کواہلبیت علیہم السلام کی مودت میں محدودکرنانہیں ہے،بلکہ اس کانہایت وسیع اور عمومی معنی ہے لیکن چونکہ یہاں پر ذ وی القربیٰ کی مودت کے بعد آیاہے لہٰذا اس کاواضح ترین مصداق یہی مودّت ہے۔
 1۔ تفسیر ” مجمع البیان “ اسی آیت کے ذیل میں ، تفسیر صافی اور تفسیر قرطبی ۔