Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ کشتی نجات

										
																									
								

Ayat No : 21-23

: الشورى

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۲۱تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ۲۲ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ ۲۳

Translation

کیا ان کے لئے ایسے شرکائ بھی ہیں جنہوں نے دین کے وہ راستے مقرّر کئے ہیں جن کی خدا نے اجازت بھی نہیں دی ہے اور اگر فیصلہ کے دن کا وعدہ نہ ہوگیا ہوتا تو اب تک ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور یقینا ظالموں کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے. آپ دیکھیں گے کہ ظالمین اپنے کرتوت کے عذاب سے خوفزدہ ہیں اور وہ ان پر بہرحال نازل ہونے والا ہے اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ جنّت کے باغات میں رہیں گے اور ان کے لئے پروردگار کی بارگاہ میں وہ تمام چیزیں ہیں جن کے وہ خواہشمند ہوں گے اور یہ ایک بہت بڑا فضل پروردگار ہے. یہی وہ فضلِ عظیم ہے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے ایمان اختیار کیا ہے اور نیک اعمال کئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی حاصل کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کردیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدرداں ہے.

Tafseer

									جناب فخر الدین رازی نے اسی بحث کے ذیل میں ایک نکتے کوبیان کیاہے اوراسے اپنا پسند یدہ نکتہ قرار دیاہے اور مفسر آلوسی نے بھی اسے ” ایک لطیف نکتہ “ کے عنوان سے اپنی تفسیرروح المعانی میں انہیں سے نقل کیا ہ ، یہ وہ نکتہ ہے جو ان کے خیال کے مطابق بہت سے تضادات کوبر طرف کررہاہے:
ایک طرف پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ارشاد فرماتے ہیں ” مثل اھل بیتی کمثل سفینة نوح من رکبھا نجٰی “ (میرے اہل بیت کشتی نوح کے مانند ہیں جواس پر سوار ہو اوہ نجات پاگیا ) اور دوسری طرف اشارہ فر ماتے ہیں ”اصحابی کالنجوم بایھم اقتد یتم اھتد یتم “ (میر ے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کروگے ہدایت پاجاؤگے ) ۔
اب ہم فرائض کی ادائیگی کے سمندر میں گرفتار ہیں ، شکوکوشبہات اورخواہشات نفسانی کی موجیں ہمیں ہرطرف سے گھیر ے ہوئے ہیں اور جسے سمندر عبور کرناہوتاہے اسے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک کشتی جو ہر طرح کے عیب ونقص سے پاک ہو اور دوسرے چمکد ار اورروشن ستار ے جن کے ذ ریعے کشتی کی راہوں کو متعین کیاجاتاہے ، جب انسان کشتی پر سوار ہوجائے اوراپنی نگاہیں ستارو ں پرلگا ئے رکھے تونجا ت کی امید ہوسکتی ہے . اسی طرف اہل سنت میں جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کی کشتی پرسوار ہوکرستاروں جیسے اصحاب پر اپنی نگاہیں جمائے رکھے تواُمید ہے کہ خدا اسے دنیا و آخر ت کی سلامتی اورسعادت سے بہرہ مندکر دے ( 1).
لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ شاعر انہ تشبیہ اگرچہ ظاہر ی طورپر دلکش اورجاذب نظر توہے لیکن صحیح منعوں میں درست نہیں ہے کیونکہ 
ایک تو : کشتی نوح اس وقت نجات کاذریعہ بنی جبکہ طوفان کے پانی نے ہرجگہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور وہ ہمیشہ چلتی رہی تھی ،دوسری عام کشتیوں کے مانند کسی ایک منزل مقصود کی طرف اس کی حر کت نہیں تھی کہ ستاروں کے ذریعے اس منزل کاتعین کیا جات. بلکہ منزل مقصود خود کشتی ہے تھی اوریہ اس وقت تک اپنے حال پرقائم رہی جب تک کہ طوفان کاپانی ختم نہیں ہو گیا اور کشتی کوہ جود ی پر ٹھہرنہیں گئی اور کشتی کے سوا روں نے نجات نہیں پالی ۔
دوسرے یہ کہ : اہلسنت بھائیوں کی کتابوں میں درج ایک روایت میں جوکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے منقول ہے یوں آیاہے :
النجوم امان الاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الا ختلاف فی الدین 
ستارے اہل زمین کے لیے امان ہیں ان کی غرق ہونے سے اورمیرے اہل بیت میری امت کے لیے دین میں اختلاف سے امان ہیں ( 2).
1۔ تفسیرفخررازی جلد ۲۷ ،ص ۱۶۷ ۔
2۔ مستد رک حاکم جلد ۳ ،ص ۱۴۹ منقول از عباس ، حاکم پھرکہتے ہیں ” ھٰذاحدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ “ (یہ حدیث معتبر ہے لیکن بخاری اور مسلم نے اسے نقل نہیں کیا ہے ).