شان ِ نزول
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۲۱تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ۲۲ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ ۲۳
کیا ان کے لئے ایسے شرکائ بھی ہیں جنہوں نے دین کے وہ راستے مقرّر کئے ہیں جن کی خدا نے اجازت بھی نہیں دی ہے اور اگر فیصلہ کے دن کا وعدہ نہ ہوگیا ہوتا تو اب تک ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور یقینا ظالموں کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے. آپ دیکھیں گے کہ ظالمین اپنے کرتوت کے عذاب سے خوفزدہ ہیں اور وہ ان پر بہرحال نازل ہونے والا ہے اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ جنّت کے باغات میں رہیں گے اور ان کے لئے پروردگار کی بارگاہ میں وہ تمام چیزیں ہیں جن کے وہ خواہشمند ہوں گے اور یہ ایک بہت بڑا فضل پروردگار ہے. یہی وہ فضلِ عظیم ہے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے ایمان اختیار کیا ہے اور نیک اعمال کئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی حاصل کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کردیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدرداں ہے.
تفسیر مجمع البیان میں اس سورت کی ۲۳ ویں تا ۲۶ ویں آیت کی شان نزول پیغمبراسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بار ے میں مروی ہے جس کا خلاصہ اس طرح ہے :
” جب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مدینہ تشریف لاچکے اور اسلام کی بنیاد یں مضبوط ہوگئیں توانصار نے کہا کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں جاکر عرض کرتے ہیں کہ اگر آپ کو مالی مشکلات درپیش ہیں توہمارے یہ ما ل غیر مشروط طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی خدمت میں حاضرہیں . جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ان کی باتیں سُن لیں تو یہ آیت نازل ہوئی ”قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی“ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اپنی رسالت کااجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے نزدیکیوں سے محبت کرو توآنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے یہ آیت انہیں سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی فر مایا کہ میرے بعد میرے قریبیوں سے محبت کرنا د۔
یہ سُن کر وہ خوشی خوشی وہاں سے واپس آگئے ،لیکن منافقین نے یہ شوشہ چھوڑ دیاکہ یہ بات ( معاذاللہ ) رسول نے از خود کہی ہے اورخدا پر جھوٹ باندھا ہے اوراس کامقصد یہ ہے کہ وہ اپنے بعد ہمیں اپنے رشتہ داروں کے آگے ذلیل ورسوا کرے ۔
چنانچہ اس کے بعد اگلی آیت نازل ہوئی ” اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَری عَلَی اللَّہِ کَذِباً ...“
جوان لوگوں کاجواب تھا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کوبھیج کریہ آیت انہیں سنائی . کچھ لوگ نادم ہوکر رونے لگے اور سخت پریشان ہوئے آ خر کار اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس میں کہاگیا ہے ” وَ ہُوَ الَّذی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِہِ وَ یَعْفُوا عَنِ السَّیِّئاتِ وَ یَعْلَمُ ما تَفْعَلُونَ...“
آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے پھر کسی کوبھیج کر یہ آیت ان تک پہنچائی اورانہیں خوشخبری دی کہ ان کی خالص توبہ قبول بار گا ہ ہوچکی ہے “ ( ۱).
۱۔ مجمع البیان جلد ۹ ،ص ۲۹۔