۲۔مسئلہ تفویض
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ ۴۱تَدْعُونَنِي لِأَكْفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ ۴۲لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ ۴۳فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ ۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ۴۴فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ۴۵النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ۴۶
اور اے قوم والو آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی دعوت دے رہا ہوں اور تم مجھے جہّنم کی طرف دعوت دے رہے ہو. تمہاری دعوت یہ ہے کہ میں خدا کا انکار کردوں اور انہیں اس کا شریک بنادوں جن کا کوئی علم نہیں ہے اور میں تم کو اس خدا کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو صاحب هعزّت اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے. بیشک جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو وہ نہ دنیا میں پکارنے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور ہم سب کی بازگشت بالآخر اللہ ہی کی طرف ہے اور زیادتی کرنے والے ہی دراصل جہّنم والے ہیں. پھر عنقریب تم اسے یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں تو اپنے معاملات کو پروردگار کے حوالے کررہا ہوں کہ بیشک وہ تمام بندوں کے حالات کا خوب دیکھنے والا ہے. تو اللہ نے اس مرد مومن کو ان لوگوں کی چالوں کے نقصانات سے بچالیا اور فرعون والوں کو بدترین عذاب نے گھیر لیا. وہ جہّنم جس کے سامنے یہ ہر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو.
اپنے کاموں کوخدا کے سپر د کرکے اس کی ذات پر توکل کرلینے کانام ” تفویض “ ہے اور اس کی اہمیّت کے بار ے میں امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کایہ فر مان کافی ہے :
الایمان لہ اربعة ارکان ، التوکل علی اللہ ،وتفویض الامر الی اللہ عذو جل والر ضا ء بقضاء اللہ ، والتسلیم لامراللہ
’ ’ ایمان کے چارار کان ہیں خداکی ذات پر توکل ، اپنے تمام کام اس کے سپر د کردینا .اس کی قضا پرراضی ہو جانا اوراس کے فرمان پر سرتسلیم خم کردینا “ ( 1)۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
المفوض امرہ الی اللہ فی راحة الابد ، و العیش الدائم الر غد والمفوض حقا ً ھو العالی عن کل ھمة دون اللہ
جوشخص اپنے امور کو خداکے سپرد کردیتاہے وہ راحت ابدی اورہمیشہ کی با برکت زندگی پالیتا ہے اور جوشخص اپنے کاموں کوصحیح معنوں میں خدا کے سپرد کردیتاہے وہ اس (خدا ( کے سواکسی اور کے بار ے میں سوچ بھی نہیں سکتا ( 2)۔
راغب اصفہانی اپنی کتاب ” مفر دات “ میں کہتے ہیں کہ ” تفویض “ کامعنی ” لوٹانا “ ہے لہذا اپنے مور خدا کوتفویض کردینے کا مقصد اپنے کام اس کے سپر د کردینا ہے نہ کہ ہر قسم کی ہمت اورکوشش سے بھی ہاتھ اٹھالیا جائے . جویقینا معنی میں تحریف کے مترداف ہوگا . لہذا تفویض کامعنی یہ ہوگا کہ انسان اپنے کام کے انجام دینے میں ہر قسم کی سعی و کوشش اور جدو جہد سے کام لے اور جب سخت مشکلات اور موانع آڑ ے آجائیں تو گھبر ائے نہیں ، جوا س باختہ نہ ہو اور نہ ہو ہمت ہار بیٹھے ، بلکہ اپنے امور کو خداکے سپرد کرکے اپنی ہمت ہار بیٹھے ، بلکہ اپنے امور کو خداکے سپرد کرکے اپنی ہمت اورکوشش جاری رکھے ۔
” تفویض “ کی اگرچہ مفہوم کے لحاظ سے ” توکل “ سے زیادہ مشابہت ہے لیکن یہ ایک مرحلہ اس سے با لاتر ہے ، کیونکہ ”توکل “ کی حقیقت خد ا کواپنا وکیل بنانا ہے جبکہ تفویض تفویض کامفہوم یہ ہے کہ سب کچھ مطلقاً اس کے سپر د کردیاجائے . کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انسان کسی کواپنا وکیل بناتاہے لیکن اپنی نگرانی بھی اس پررکھتاہے لیکن تفویض کے سلسلے میں اس قسم کی نگرانی کاسوال پیدا نہیں ہوتا ۔
1۔ بحارالا نوار جلد ۶۸ ص ۳۴۱۔
2۔ کتاب سفینتہ البحار جلد ۲ ،ص ۳۸۷ ( ماد ہ فوض )۔