Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ مومن آل فرعون کی داستان ایک درس ہے

										
																									
								

Ayat No : 41-46

: غافر

وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ ۴۱تَدْعُونَنِي لِأَكْفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ ۴۲لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ ۴۳فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ ۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ۴۴فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ۴۵النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ۴۶

Translation

اور اے قوم والو آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی دعوت دے رہا ہوں اور تم مجھے جہّنم کی طرف دعوت دے رہے ہو. تمہاری دعوت یہ ہے کہ میں خدا کا انکار کردوں اور انہیں اس کا شریک بنادوں جن کا کوئی علم نہیں ہے اور میں تم کو اس خدا کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو صاحب هعزّت اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے. بیشک جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو وہ نہ دنیا میں پکارنے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور ہم سب کی بازگشت بالآخر اللہ ہی کی طرف ہے اور زیادتی کرنے والے ہی دراصل جہّنم والے ہیں. پھر عنقریب تم اسے یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں تو اپنے معاملات کو پروردگار کے حوالے کررہا ہوں کہ بیشک وہ تمام بندوں کے حالات کا خوب دیکھنے والا ہے. تو اللہ نے اس مرد مومن کو ان لوگوں کی چالوں کے نقصانات سے بچالیا اور فرعون والوں کو بدترین عذاب نے گھیر لیا. وہ جہّنم جس کے سامنے یہ ہر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو.

Tafseer

									خدا کے دین اورآسمانی مذاہب جوطاغوتوں اور جبار وں کے ساتھ مقابلے کاحکم دیتے ہیں شروع شروع میں یہ مذاہب مٹھی بھر افراد کے ذ ریعے پیش کئے گئے . اگروہ لوگ اپنے افراد کی قلت اورمخالفین کی کثرت کوان کی حقانیت کی دلیل سمجھتے تو یہ مذاہب ہرگز کامیاب نہ ہوتی ۔ 
اورایسے لائحہ عمل میں حکم فرما بنیادی اصول وہی ہے جسے امیر المو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے فرمان حقیقت ترجمان میں یوں ارشاد فرمایا ہے : 
ایھا الناس لا تستو حشوافی طریق الھدٰی لقلة اھلہ 
” الے لوگوں ! راہ حق میں افرادی قلب سے ہرگز نہ گھبراؤ “ ( 1)۔ 
مومن آل فرعون اس مکتب کاایک نمونہ اوراس راہ کے ایک راہی تھے . انہوں نے اپنے طرز عمل سے بتادیا کہ ا یک باعزم انسان اپنے ایمان بھرے راسخ عقید ے اور ارادے کے ساتھ جابر فرعونوں کے ارادوں تک متز لزل کرکے اللہ کے عظیم پیغمبر کوبہت بڑے خطرے سے نجات دلا سکتا ہے ۔ 
اس شیردل اور زیرانسان کی تاریخ زندگی بتاتی ہے کہ حق کے طرفداروں کاہر ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھنا چاہیئے .اگر ضرورت ہوتو ایمان کااظہار کرکے اپنی آواز کودُور دُور تک پہنچاجا چاہیئے اوراگر حالات اس امر کے متقاضی نہ ہوں تو قلیل المیعاد اور طویل المیعاد مقاصد کے پیش نظراپنے ایمان کوچھپا لیناچاہیئے ۔ 
اور تقیہ بھی اسی چیز کانام ہے کہ انسان اپنے نیک اورمقدس مقاصد کے لیے ایک خاص مد تک اپنے عقائد کااظہار نہ کرے ۔ 
جس طرح دشمن کی سرکوبی کے لیے ظاہر ی اسلحے سے لیس ہوناضرور ی ہے اسی طرح منطقی اسلحے سے مسلح ہونا بھی ایک ناگزیر امر ہے کیونکہ اس کااثر ظاہری اسلحے سے کئی گنابہتر ہے . لہذا جو کام مومن آل فرعون نے اپنے منطقی دلائل کے اسلحے سے انجام دیا، ان خاص حالات میں کوئی اسلحے انجام نہیں دے سکتاتھا ۔ 
بہرحال مومن آل فرعون کے واقعے سے ظاہر ہوتاہے کہ خدا وند عالم اس جیسے مومن افراد کوکبھی تنہانہیں چھوڑ تا اور اگر وہ خطرات میں گھر جائیں توا نہیں اپنے لطف وکرم کی پناہ میں لے لیتاہے ۔ 
یہاں پر اس نکتے کی وضاحت بھی ضرور ی معلوم ہوتی ہے کہ بعض روایات کے مطابق مومن آل فرعون کوشہید کردیاگیا . جب کہ قرآن مجیدکرتا ہے کہ خدانے اسے فر عونیوں کی غلط چالوں سے بچا لیاتواس سے مراد ہے کہ خدا وند ذو الجلال نے اسے اپنے عقیدے سے منحرف ہو کر کفر وشرک اختیار کرنے سے بچا لیا ( 2)۔ 
انہوں نے اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیالیکن تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کس لحاظ سے اس کی حفاظت کی وہ یہ کہ دین کے بار ے میں اسے گمراہی اورفتنے سے بچالیا . تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۵۲۱)۔
1۔ نہج الباغہ خطبہ ۲۰۱ ۔
2۔ کاب ” محاسن برقی “ میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پوچھا گیاکہ ” فوتاہ اللہ سیّئات مامکروا “ کی کیاتفسیر ہے ؟ توآ پ علیہ السلام نے فرمایا :
اما لقدسطو ا علیہ وقتلوہ ولکن اتد رون ماوقاہ ؟ و قاہ ان یفتنوہ فی دینہ