سوره مؤمن/ آیه 30- 33
وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ ۳۰مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۚ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعِبَادِ ۳۱وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ ۳۲يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ ۗ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۳۳
اور ایمان لانے والے شخص نے کہا کہ اے قوم میں تمہارے بارے میں اس دن جیسے عذاب کا خطرہ محسوس کررہا ہوں جو دوسری قوموں کے عذاب کا دن تھا. قوم نوح, قوم عاد, قوم ثمود اور ان کے بعد والوں جیسا حال اور اللہ یقینا اپنے بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ہے. اور اے قوم میں تمہارے بارے میں باہمی فریاد کے دن سے ڈر رہا ہوں. جس دن تم سب پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور اللہ کے مقابلہ میں کوئی تمہارا بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے.
۳۰۔وَ قالَ الَّذی آمَنَ یا قَوْمِ إِنِّی اٴَخافُ عَلَیْکُمْ مِثْلَ یَوْمِ الْاٴَحْزابِ ۔
۳۱۔ مِثْلَ دَاٴْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَ عادٍ وَ ثَمُودَ وَ الَّذینَ مِنْ بَعْدِہِمْ وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ ۔
۳۲۔ وَ یا قَوْمِ إِنِّی اٴَخافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنادِ ۔
۳۳۔ یَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرینَ ما لَکُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ عاصِمٍ وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَما لَہُ مِنْ ہادٍ۔
ترجمہ
۳۰۔ اس بایمان شخص نے کہا : اے میری قوم ! مجھے تمہارے بار ے میں گزشتہ اقوام کے (عذاب کے ) دن کی طرح کاخوف ہے ۔
۳۱۔ میں قوم نوح ،عاد ،ثمود اوران کے بعد والے لوگوں کی (شرک ، کفراور سرکشی جیسی ) عادت سے ڈرتا ہوں . اورخدا بندوں پرظلم نہیں چاہتاا ۔
۳۲۔ اے میری قوم ! مجھے تمہارے لیے اس دن سے خوف ہے جس دن لوگ ایک دوسرے کو بلائیں گے (اورایک دوسرے سے مدد طلب کریں گے لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی جائے گی ۔
۳۳۔جس دن تم منہ پھیرکربھاگ رہے ہوگے لیکن خداکے عذاب سے تمہیں کوئی چیز نہیں بچاسکے گی اور جسے خدا ( اس کے اعمال کی وجہ سے ) گمرا کردے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے ۔