۳ صدیقین کون ہیں ؟
وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ۲۸يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ ۲۹
اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو حُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے. میری قوم والو بیشک آج تمہارے پاس حکومت ہے اور زمین پر تمہارا غلبہ ہے لیکن اگر عذاب خدا آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں عقلمندی کے راستے کے علاوہ اور کسی راہ کی ہدایت نہیں کررہا ہوں.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث میں ہے کہ
الصدیقون ثلاث ” حبیب النجار “ موٴ من آل یٰس الذی یقول ” فاتبعو االمرسلین اتبعوامن لایسئلکم اجراً “ و ” حز قیل “ موٴ من اٰل فرعون ، و ” علی بن ابی طالب (ع) “ وھوا فضلھم
” سب سے پہلے (بزرگ انبیاء کی ) تصدیق کرنے والے تین لوگ ہیں حبیب نجار موٴ من آل یٰس جس نے ( انطاکیہ ) کے لوگوں سے کہا خدا کے رسولوں کی پیروی کرو،ان لوگوں کی اتباع کرو جوتم سے کسی قسم کی اجرت بھی نہیں مانگتے اورخود ہدایت یافتہ ہیں اورحز قتل موٴ من آل ِ فرعون اور علی بن ابی طالب جوان سب سے افضل اور بر تر ہیں “ ۔
یہ حدیث شیعہ اورسنی دونوں مذاہب کی کتابوں میں موجود ہے ( 1)۔
سچ بات بھی یہی ہے کہ ان افراد نے خداکے انبیاء کی اس وقت تصدیق کی اوران پر ایمان کا اظہار کیا جب انبیاء کے لیے زبردست بحرانی لمحات تھے انہوں نے اس وقت اور بحرانی لمحوں میں پیش قدمی کی اورصحیح معنوں میں ”صدیق “ کہلانے کے حقدار ہیں. یہ ان لوگوں کے سرخیل ہیں جنہوں نے خداکے انبیاء کی تصدیق کی خصوصاً علی بن ابی طالب علیہ السلام اکہ جنہوں نے اپنی ساری زندگی وقف ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کر دی تھی . آپ علیہ السلام نے خود پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بلکہ ان کی رحلت کے بعد ایثار وفدا کاری کی ایسی روشن مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیاتک یاد گار رہیں گی ۔
1۔ ملاحظہ ہو ” امالی شیخ صدوق “ اورابن حجرکی کتاب ”صواعق محرقہ “ فصل ثانی باب ۹۔