Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ حاملین عرش کی چار دعائیں

										
																									
								

Ayat No : 7-9

: غافر

الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ۷رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۸وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ ۚ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۹

Translation

جو فرشتے عرش الہٰی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد معین ہیں سب حمد خدا کی تسبیح کررہے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور صاحبانِ ایمان کے لئے استغفار کررہے ہیں کہ خدایا تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے پر محیط ہے لہذا ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستہ کا اتباع کیا ہے اور انہیںجہّنم کے عذاب سے بچالے. پروردگار انہیں اور ان کے باپ داداً ازواج اور اولاد میں سے جو نیک اور صالح افراد ہیں ان کو ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے کہ بیشک تو سب پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے. اور انہیں برائیوں سے محفوظ فرما کہ آج جن لوگوں کو تو نے برائیوں سے بچالیا گویا ان ہی پر رحم کیا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے.

Tafseer

									یہاں پر یہ سوال آتاہے کہ ان پر چار دعاؤں کا آپس میں کیافرق ہے ؟ آیاان میں سے بعض دعاؤں کاتکرار نہیں ہے ؟
لیکن اگرتھوڑاساغور وفکر کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ ہردعا ایک علیحدہ مطلب پر دلالت کررہی ہے . سب سے پہلے وہ مومنین کے لیے بخشش اور گناہوں کے آثار مٹادیئے جانے کی درخواست کرتے ہیں ۔
یہ بات جہاں پرہرعظیم نعمت تک پہنچنے کامقدمہ ہے وہاں پر خود بھی ایک مطلوب اور پسند یدہ بات ہے ، اس سے بڑھ کر اور کیامہر بانی ہو سکتی ہے کہ انسان خود کو پاک و پاکیزہ محسوس کرے . اس کا خدا اس سے راضی ہو اور وہ اپنے خداسے راضی ہو ؟جی ہاں بہشت اور دوزخ کے موضوع سے ہٹ کر بھی خداکے بندوں کے لیے یہ احساس نہایت قابلِ فخر اور بہت ہی باعظمت احساس ہے ۔
دوسرے مرحلے پر فرشتے انہیں جہنم سے دور رکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور یہ بھی بذاتِ خودان کی روحانی تسکین کاایک بہترین اور اہم ترین ذریعہ ہے ۔
تیسرے مرحلے پر بہشت کے حصوں کی درخواست کرتے ہیں نہ صرف خودان مومنین کے لیے بلکہ ان کے عزیز و اقارب کے لیے بھی کہ جن کا جود مومنین کی روحانی تسکین اورقلبی مسرت کاسبب ہوتاہے ۔ 
تیز چونکہ ہم جہنم کے علاوہ عرصہٴ محشر میں اور بھی کئی قسم کی مشکلات اور مصائب کاسامنا کرناہوگا جیسے محشر کا ہولناک منظر ، تمامخلو ق کے سامنے رسوائی ، لمبی مدت کاحساب و کتاب و غیرہ تو وہ اپنی ایک او ر دعامیں خداسے درخواست کرتے ہیں کہ مومنین کو اس دن کی ہر قسم کی ناخوشگواری اور رسوائیوں سے دور رکھے تاکہ وہ مکمل سکون ،اطمینان ، عزت اوراحترام کے ساتھ بہشت بریں میں داخل ہو جائیں۔