Tafseer e Namoona

Topic

											

									  گروہ در گروہ جنت میں دردد

										
																									
								

Ayat No : 73-75

: الزمر

وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ ۷۳وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ۷۴وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۖ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۷۵

Translation

اور جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا انہیں جنّت کی طرف گروہ در گروہ لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب اس کے قریب پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے خزانہ دار کہیں گے کہ تم پر ہمارا سلام ہو تم پاک و پاکیزہ ہو لہٰذا ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہوجاؤ. اور وہ کہیں گے کہ شکر خدا ہے کہ اس نے ہم سے کئے ہوئے اپنے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے اور ہمیں اپنی زمین کا وارث بنادیا ہے کہ جنت میں جہاں چاہیں آرام کریں اور بیشک یہ عمل کرنے والوں کا بہترین اجر ہے. اور تم دیکھو گے کہ ملائکہ عرش الہٰی کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے اپنے رب کی حمد کی تسبیح کررہے ہیں اور لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ہر طرف ایک ہی آواز ہوگی کہ الحمدللہ رب العالمین.

Tafseer

									  تفسیر
               گروہ در گروہ جنت میں دردد
 یہ آیات و سوره زمر کی آخری آیات ہیں، اسی طرح سے معادسے مربوط مباحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور چکونہ گزشتہ آیات میں تمام کافروں کے جہنم کے درود کی کیفیت کے بارے میں گفتگوتھی، لہذا یہان پرہیزگارمومنین کے جنت میں درود کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے تاکہ تقابل سے مسائل زیادہ واضح اورآشکارہوجائیں۔
 پہلے فرمایا گیا ہے: جنھوں نے تقوائے الٰہی اختیار کیا، انھیں گردہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا (وسیق الذین اتقواربهم الى الجنة زمرا)۔
 " سيبق " ("سوق" کے مادہ سے "شوق" کے وزن پر ہے اور ہانکنے کے معنی میں ہے) کی تعبیر یہاں سوال انگیز ہے بہت سے مفسرین کی توجہ کو اپنی طرف جذب کیا ہے۔ کیونکہ یہ تعبیران مواقع پراستعمال ہوتی ہے جب کوئی کام بغیرشوق اور داخلی جزبے  سے انجام پائے۔ یہ تعبیر دوزخیوں کے بارے میں توصحیح ہے لیکن جنتیوں کے بارے میں کیوں ہے؟ جو پورے شوق کے ساتھ جنت کی طرف جائیں گے ۔
 بعض نے اس تعبیر سے یہ سمجھا ہے کہ بہت سے جنتی اپنے دوستوں کے انتظار میں ہوں گے ۔
 بعض اسے اس بنا پرجانتے ہیں کہ شوق لقائے پروردگار نے پرہیزگاروں کو اس طرح اپنی طرف جذب کررکھا ہوگا کہ وہ اس کے غیر کی طرف یہاں تک کہ جنت کی طرف بھی توجہ نہ کريں گے۔ 
 بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی سواریاں انھیں تیزی کے ساتھ جنت کی طرف ہانک لے جائیں گی۔ 
 باوجودیکہ یہ سب تفسیر اچھی ہیں اور آپس میں کوئی تضادبھی نہیں رکھتیں تاہم ایک نکتہ اوربھی یہاں پر موجود ہے جوممکن هے اس تعبیر کا اصلی راز ہو اور وہ یہ ہے کہ جس قدر پرہیزگاربہشت کے عاشق ہیں، بہشت اور رحمت کے فرشتے ان کے بہشت میں آنے کے ان سے بھی زیادہ عاشق ہیں۔ جیسا کہ بعض اوقات میزبان اپنے مہمان کے دیدار کا اتنا شائق ہوتا ہے کہ وہ جس رفتار سے خود آرا ہوتا ہے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنی طرف لے جاتا ہے ۔ رحمت کے فرشتے بھی انھیں اسی طرح جنت کی طرف لے جائیں گے۔
 بہرحال یہاں بھی لفظ  "زمر"  جو چھوٹے سے گروہ کے معنی میں ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بہشتی بھی مختلف گرہوں کی شکل میں جنت کی طرف جائیں گے اور اس سے ان کے روحانی مقامات و مراتب کی نشاندہی ہوتی ہے۔ 
 یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازےان کے لیے پہلے سے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس وقت جنت کے خازن اور نگهبان، رحمت کے فرشتے ان سے کہیں گے : تم پرسلام ہو، یہ نعمتیں تمھیں بھلی ہوں، جنت میں داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہو (حتی اذا جاء وهاو فتحت أبوابها وقال لهم خزنتها سلام علیکم طبتمر فادخلوها خالدين ۔ ؎1
حاشیه اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں ؟

 یہ بات قابل توجہ ہے کہ دوزخیوں کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے جس وقت وہ دوزخ کے قریب پہنچیں گے تو اس کے  دروازے کھل جائیں گے لیکن بہشتیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ اس کے دروازے پہلے سے کھلے ہوئے ہوں گے اوریہ ایک خاص احترام واکرام کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ بات بالکل اس عشق و محبت رکھنے والے میزبان کی کیفیت کے مانند ہے جو اپنے گھر کے دروازے مہمان کے آنے سے پہلے ہی کھول دیتا ہے اور دروازے کے پاس اس کے انتظارمیں کھڑا رہتا ہے۔ رحمت الٰہی کے فرشتے کی بھی یہی حالت ہوگئی .  
 گزشتہ آیات میں دوزخیوں کے بارے میں تویہ بیان کیا تھاکہ عذاب کے فرشتوں کی ان سے پہلی گفتگوسخت ملامت و سرزنش ہوگی۔ کہ وه اسباب ہدایت رکھنے کے باوجود انھیں یہ روز بد کیوں دیکھنا پڑا ہے؟ 
 لیکن بہشتیوں کے لیے پہلی گفتگو "سلام و درود اور احترام و اکرام ہے اور پھربہشت جاوداں کی طرف درود کی دعوت ہے۔
 "طبتم"  "طیب" (بروزن  "صید")  کے مادہ سے پاکییزگی کے معنی میں ہے اور چونکہ یہ اسلام ودرود کے بعد کہاگیا ہے، لہذا زیادہ مناسب پر ہے کہ "انشائی" مفہوم رکھتا ہو۔ یعنی پاک و پاکیزو رہو ، خوش وخرم رہو یا دوسرے لفظوں میں یہ پاکیزہ نعمتیں تمھیں بھلی ہوں ، اے پاک سرشت پاک دل لوگو :
 لیکن بہت سے مفسرین نے اس کی "خبر" کے معنی میں تفسیر ہے اور یہ کہا ہے کہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم آلودگی اور ناپاکی سے پاک ہو چکے ہوا ور ایمان اور عمل صالح کے ذریعے تمھارا قلب و روح پاک ہوگیا ہے اور گناہوں اور معاصی سے بھی تم پاک ہوگئے ہو ۔ یہاں تک کہ بعض نے یہ روایت نقل کی ہے کہ جنت کے دروازے پر ایک درخت ہے جن کے نیچے صاف پانی کے دو چشمے ابل رہے ہیں ، مومنین ایک چشمے کا پانی پئیں گے تو ان کا باطن پاک و پاکیزہ ہوجائے گا اور دوسرےچشمے کے پانی سے نہائیں گے توان کا ظاہر پاک و صاف ہو جائے گا اور یہ وہ موقع ہے جب نگہبان جنت ان سے کہیں گئے (اسلام علیکم طبتم فادخلوها خالدين)۔ 1
 یہ بات قابل توجہ ہے کہ دوزخیوں کے بارے میں بھی "خلود" اورہمیشگی کی تعبیرآئی ہے اور بہشتیوں کے بارے میں بھی تاکہ اگر پہلا گروہ ہے یہ جان لے کہ نجات کا کوئی راستہ موجودنہیں ہے اور دوسراگروہ بھی نعمت خداوندی کے زوال کے بارے میں ہرگز پریشان نہ ہو۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بعد والی آیت میں چارمختصراور معنی خیز جملے جو بہشتیوں کی انتہائی خوشنودی اور دلی مسرت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انھی کی زبانی نقل ہوئے ہیں: "وہ کہیں گے : حمد و ستائش خدا ہی کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمارے بارے میں اپنے وعدے کی وفاکی  "(و قالوا الحمدلله الذي صد قناوعده).
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    جملہ شرطیہ "اذا جاء وها" کی جزاکیا ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان بجٹ ہے ۔ سب سے زیادہ مناسب یہی ہے " قال لهم خزنتها " کاجملہ جزا ہے اوراس کی واؤ زائدہ ہے۔ یہ احتمال بھی ظاہر کیاگیا ہے کہ جزاایک محزوف جملہ ہے اور تقدیرمیں "سلام من الله عليكم"  ہے یا یہ جزا کا محزوف ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مطلب اس قدروسیع وعالی ہے کہ قابل توصیف نہیں ہے بعض نے "فتحت" کو بھی جزا سمجھا ہے اور واؤ کوزائدہ سمجھا ہے۔
  ؎2   تفسیر قرطبی جلد 8 ص  5730
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 بعدوالے جملہ میں مزید فرمایا گیا ہے : (کہ وہ کہیں گے) اور جنت کی زمین کو ہماری میریث قرار دے دیا ہے اورا سے ہمیں بخش دیا (واورثنا الأرض).
 یہاں زمین سے مرادجنت کی زمین ہے اور "وارث کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ یہ ساری نعمتیں انھیں تھوڑی سی زحمت کی وجہ سے دے دی گئی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ میراث ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے انسان عام طور پر کوئی زحمت نہیں اٹھاتا اوریا یہ اس لحاظ سے ہےہرانسان کے لیے ایک مکان تو جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں ہے۔ جب وہ اپنے اعمال کی وجہ سے دوزخی ہوجاتا ہے تواس کا جنت والامکان دوسروں کے سپرد کردیا جاتا ہے اور اگروہ بہشتی ہوجائے تواس کا دوزخی مکان دوسروں کے لیے رہ جاتا ہے اور یا اس بنا پر ہے کہ وه انتہائی آزادی کے ساتھ اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ میراث سے استفادہ کیاجاتا ہے کیونکہ انسان اس سے استفاده کرنے میں مکمل طور پرآزاد ہوتا ہے۔  یہ جملہ حقیقت میں اس وعده الٰہی کاٹھیک ٹھیک طور سے پورا ہونا ہے جو سورہ مریم کی آیہ 63 میں آیا ہے۔
  تلك الجنة التي نورث من عبادنا من كان تقيًا
  یہ وہ بہشت ہے جو ہم اپنے پرہیزگاربندوں کو میراث میں دیں گے۔ 
 تیسرے جملہ میں پروردگارکی وسیع جنت سے استفادہ کرنے میں اپنی مکمل آزادی کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں: 
 ہم جنت میں جس جگہ چاہیں قیام کریں اور ٹہریں (نتبوأ من الجنة حيث نشاء).
 قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہشت بہت سے باغات سے مل کر بنی ہے۔ اسی لیے ان میں "جنات عدن" (بہشت کے جادوانی باغات) (توبہ - 72)  کی تعبیرآئی ہے اور بہشتی لوگ اپنےسلسلہ مراتب اور اپنے مقامات روحانی کے لحاظ سے ان میں ساکن ہوں گے۔ اس بناپران کی آزادی بہشت کے انھیں وسیع باغات کے اندر ہے جو ان کے اختیار میں ہیں، ان بالا تر مقامات میں نہیں جن کے لیے وہ خود کو ابل اور لائق نہیں پاتے اور بنیادی طور وہ ایک قسم کا کوئی تقاضابھی نہیں کرتے۔
 آخر میں آخری جملے میں ہے : عمل کرنے والوں کے لیے پروردگار کے حکم سے کیسا اچھااجروثواب ہے (فنعم اجر العاملين)۔
 اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ وسیع نعمتیں "بہا" (قیمت) کے ساتھ دی جاتی ہیں "بہانہ" کے ساتھ نہیں دی جاتیں۔ ایمان اور عمل صلح لازمی اور ضروری ہے تاکہ اس کی وجہ سے اس قسم کاحق اور لیاقت واہلیت پیدا ہوجائے۔
 کیا یہ جملہ بہشتیوں کا ہی ہے یا یہ پروردگار کا کلام اورگفتگو ہے، جو ان کی باتوں کے بعد کی گئی ہے۔ 
 مفسرین نے دونوں احتمال ذکر کیے ہیں لیکن پہلا معنی یعنی اس کا اہل بہشت کی گفتگو ہونازیادہ ہم آہنگ ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آخرکارآخری زیربحث آیت میں جو سورہ زمر کی آخری آیہ ہے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے: تواس دن فرشتوں کو دیکھ گا کہ وہ عرش خدا کے  گردحلقہ کیے ہوئے طواف کر رہے ہیں اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجالا رہے ہیں ۔ (وترى الملائكة حافين من حول العرش يسبحون بحمد ربهم)۔  
 عرش خدا کے گرد فرشتوں کی وضع و کیفیت کے طرف اشارہ یا تو اس بنا پر ہے کہ اوا مرالٰہی کے اجرء کے لیے ان کی آمادگی کوبیان کیا جائے یا اس پرارزش اور قابل قدر باطنی حالت مشہود کی طرف اشارہ ہے جو خاصان و مقربان بارگاہ خداوندی کو اس دن حاصل ہوگی اگرچہ یہ تینوں معنی آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتے لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظرآتا ہے۔
 لہذا اس کے بعد فرمایا گیا ہے : اس دن بندوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ ہوگا (وقضی بینهم بالحق)۔
 اورچونکہ یہ امور ، پروردگار کی ربوبیت کی نشانیاں اور ہر قسم کی حمد وستائش کے لیے اس کی ذات پاک کی لیاقت کے دلائل میں ، لہذا آخری جملے میں فرمایاگیا ہے: اس دن کہا جائے گا ، حمد و سپاس عالمین کے پروردگار کے لیے مخصوص ہے (وقيل الحمد لله رب العالمين)۔
 کیا اس بات کے کہنے والے فرشتے ہیں ؟ یا بہشتی اور پرہیزگار ؟ یا وہ سب کے سب؟ آخری معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے کیونکہ خداکی حمد و سپاس تمام صاحبان عقل و فکر اور تمام خاصان خدا اور مقربان بارگاہ الٰہی کاطرزعمل ہے اور فعل مجہول قیل کالانا بھی اسی معنی کامؤید ہے۔
 خداوندا! ہم بھی تمام فرشتوں اور تیرے فرمانبردار بندوں کے ساتھ ہم صدا اور ہم آواز ہوتے ہیں اور تیری ان تمام نعمتوں پرجو تونے میں عنایت فرمائی میں شکر بجالاتے ہیں خصوصًا اس عظیم نعمت پر ہم تیرا شکر کرتے ہیں کہ تو نے اپنے قرآن مجید کی آیات میں فکرونظرکی ہمیں توفیق دی ہے اور عرض کرتے ہیں: الحمد لله رب العالمین
 بارالٰہا : ہم تجھے تیرے عظیم پیغمبر کی ، تیرے حاملین عرش کی اور تیری بارگاہ کے تمام مقربین کی قسم دیتے ہیں کہ ہمیں اس جہان میں بھی اور اس جہان میں بھی اس جہان میں بھی ان سے جدا نہ فرما۔ 
 بارالٰہا! ہمیں ان لوگوں کے زمرے میں قرار دےجو تقوٰی اور عمل صالح کے سایے میں گروہ درگروہ تیری بہشت بریں میں وارو ہوں گے اورتیرے فرشتے جن پرسلام ودرود کریں گے ۔ آمین یارب العالمین۔
    سوره زمر کی تفسیر کا اختتام 
    اورتفسیر نمونہ کی جلد 19 کا اختتام 3 ذی الحجہ
    1410ھ مطابق 8 جوان 1938ء
  اس انیسویں جلد کا ترجمہ ـــــ بدھ ـــــــ سو ایک بجے بعد 
  دوپہر 13 ذی الحجہ 1406ھ (30 اگست 1986ء) برمکان سیٹھ 
  نوازش علی ساعتی 81ای ماڈل ٹاؤن لاہور بدست حقیر پرتقصیر سید صفدر حسین   نجفی فرزند سید غلام سرورنقوی مرحوم اختتام پذیر ہوا۔ . 
  والحمد لله اولا وأخيرا والصلوة على النبي واله ابداً سرمدًا

    احقرصفدرحسين نجفي