سختیوں میں یادِ خدا لیکن
فَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۴۹قَدْ قَالَهَا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۵۰فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا ۚ وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَٰؤُلَاءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ ۵۱أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۵۲
پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے اور اس کے بعد جب ہم کوئی نعمت دیدیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کے زور پر دی گئی ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہے اور اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے ہیں. ان سے پہلے والوں نے بھی یہی کہا تھا تو وہ کچھ ان کے کام نہیں آیا جسے وہ حاصل کررہے تھے. بلکہ ان کے اعمال کے برے اثرات ان تک پہنچ گئے اور ان کفاّر میں سے بھی جو لوگ ظلم کرنے والے ہیں ان تک ان کے اعمال کے اِرے اثرت پہنچیں گے اور وہ خدا کو عاجز نہیں کرسکتے ہیں. کیا انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ اللہ ہی جس کے رزق کو چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے اور جس کے رزق کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے. ان معاملات میں صاحبان ه ایمان کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں.
تفسیر
سختیوں میں یادِ خدا لیکن...............
یہاں پھر موضوع سخن ہے ایمان اورظالم لوگ ہیں اوران کے قبیح چہروں میں سے ایک اور چہرہ دکھایا جا رہا ہے۔
پہلے فرمایا کیا ہے: جب انسان کو کوئی ضرر با نقصان پہنچتا ہے (اورکوئی در دور نج دفقر پہنچتا ہے) تواپنی مشکل کے حل کے لئے مجھے پکارتا ہے (فاذ امس الانسان ضردعانا)۔
وہی انسان جوگزشتہ آیات کے مطابق خدائے یگانہ کا نام سننے پر اظهار تنفر کرتا تھا، ہاں ! وہي انسان حوادث میں گرفتاری کے وقت لطف الہی کے سایے میں پناہ لیتا ہے۔
لیکن وه بھی وقتی طور پر جس وقت ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کر دیتے ہیں اور اس کا در دورنج دور کر دیتے ہیں تو وہ ہمارے لطف و عطاء کو بھلا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نعمت تو میں نے خود حاصل کی ہے اور یہ میری لیاقت (اور کام جاننے) کی وجے حاصل ہوئی ہے (ثم اذا خولناه نعمة منا قال انما اوتينه على علم)۔ ۔؎1
اس گفتگو کا نمونه سورۂ قصص کی آیہ 78 میں قار دن کی زبانی موجود ہے، جس نے بنی اسرائیل کے ان علما کے سامنے جنھوں نے اسے یہ پندونصحیت کی تھی کہ ان خدادا نعمتوں اسے ان کی رضامندی حاصل کر یہ کہا تھا:
انما اوتيته على علم لندی
یہ وہ نعمات ہیں جنھیں میں نے اپنے علم و دانش کی وجہ سے حاصل کیا ہے۔
یہ ہے خبر غافل کچھ بھی تو نہیں سوچتے کہ وہ علم ودانش بھی توخدا ہی کی طرف سے ایک نعمت ہے ۔ کیا انھوں نے یہ علم و دانش جو ان کی تدبیرمعاش اور فراواں آمدنی کا سبب ہے خود اپنے آپ کو دیا ہے یاکیا یہ ازل سے ان کی ذات کا جزء تھا؟
بعض مفسرین نے اس جملے کی تفسیرمیں ایک اور احتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں : یہ نعمات خدانے ہمیں اس بنا پردی ہیں چونکہ وہ ہماری لیاقت واستعداد کو جانتا تھا۔
اگرچہ یہ احتمال زیربحث آیت توممکن ہے لیکن سورہ قصص کی آیت میں قارون کے بارے میں "عندی" (میرے پاس) کے لفظ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ممکن نہیں ہے اور یہ امر زیربحث آیت کے لیے پہلی تفسیر کی ترجیح کے لیے ایک قرینہ ہوسکتا ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "خول" "تخویل" کے مادہ سے اعطاء وبخشش اور تفضل کے معنی میں ہے اور اسی سوره زمر کی آی 8 کے ذیل میں ہم نے اس لفظ کی مزید نشریح کی ہے "اوتيته" کی ضمیر باوجود اس کے کہ وہ نعمت کی طرف لوٹتی ہے، مذکر کی صورت میں آئی ہے ، کیونکہ اس سے مراد "شییء من النعمة" يا" "قسم من النعمة" ہے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس کے بعد قرآن ان خودغرض اور کم ظرف لوگوں کے جواب میں ، جونعمت حاصل ہوتے ہی بہت جلد خود کو بھول جاتے ہیں اس طرح کہتا ہے : بلکہ یہ نعمت توان کی آزمائش کا ایک ذرایعہ ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے (بل هي فتنة ولكن اكثرهم لا يعلمون)۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ سخت حوادث ظاہر ہونے اور اس کے بعد بڑی بڑی نعمتیں پالینے سے جو کچھ ان کے اندر ہے اسے ظاہر کردی ۔
کیا وہ مصیبت کے وقت مایوس اور نعمت کے وقت مغرورہوجا تے ؟
کیا ان انقلابات میں بھی خدا کو یاد کرتے ہیں یا دنیا میں غرق ہوجاتے ہیں ؟
کیا وہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں یا اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے خدا کو پہلے سے بھی زیادہ یاد کرتے ہیں؟
لیکن افسوس! زیادہ تر لوگ فراموش کارہی ہیں اور وہ ان حقائق سے آگاہ نہیں ہیں۔
اس حقیقت کو قرآنی آیات میں بارہا دہرایا گیا ہے کہ خداوند حکیم کبھی تو انسان کو مشکلات کی سختیوں میں مبتلا کرتا ہے اورکبھی عیش و آرام اور آسائش ونعمت میں تاکہ ان طریقوں سے اسے آزمائے ، اس کے وجود کی قدر وقمیت کو بلند کردے اور اسے اس حقیقت سے آشنا کر دے کہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔
اصولی طور پرفضا ساز شدائد فطرت کو ظاہرکرنے والے ہوتے ہیں، جیسے نعمتیں معرفت کا مقدمہ بنتی ہیں (اس سلسلہ میں جلد 16 سورۂ عنکوبت کی آیہ 65 کے ذیل میں بھی ہم نے گفتگو کی ہے)
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ انسان آیا ہے اور فراموش کار اور مغرور کے طور پراس کا ذکر کیاگیا ہے۔ یہ ایسے انسانوں کی طرف اشارہ ہے جوخدائی مکاتب کے زیر تربیت نہیں آئے اور جن کا کوئی مربی اور راہنما نہیں تھا۔ ان کی خواہشات آزاد تھیں اور وہ ہواوہوس میں غوطہ زن تھے اور خودرو گھاس کے مانند تھے۔ ہاں! یہی وہ لوگ ہیں کہ وقت وہ درد و رنج میں گرفتار ہوتے ہیں تو خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اورجب حوادت کا طوفان رک جاتا ہے اور انھیں نعمتیں حاصل ہوجاتی ہیں تو پھرخدا کو بھول جاتے ہیں (اس سلسلے میں مزید تشریح "انسان قرآن کریم میں" کے عنوان کے تحت جلد سورہ یونس کی آیہ 12 کے ذیل میں مطالعہ کریں)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے : یہ بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے گزرے ہیں (وہ بھی یہی دعوٰی کیا کرتے تھے کہ ہماری نعمتیں ہمارے علم و لیاقت کی پیداوار ہیں) لیکن جو کچھ انھوں نے حاصل کیا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا (قد قالها الذين من قبلهم فما ! غنٰى عنهم ما كانوايكسبون )۔ ؎1
ہاں قارون جیسے مغرور افراد اپنے اموال کواپنی لیاقت و قابلیت کی پیداوار سمجھتے تھے اوران پرجو خدا کی نعمتیں تھیں انھیں وہ
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "قد قالها" کی ضمیر "کلمہ" یا "مقالہ" کی طرف لوٹتی ہے ۔ یہ امر سابقہ جملے سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے مراد "نما اوتيته علٰی علم " کا جملہ ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بھلا چکے تھے۔ انھوں نے مبدء اصلی سے غافل ہوکر صرف ظاہری اسباب پر نظريں جمالی تھیں ، لیکن تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جس وقت خدا نے انھیں اور ان کے خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا تو کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں تھا اور ان کا مال و دولت ان کی حالت کے لیے کوئی فائدہ نہ دے سکا۔جیسا کہ قران کہتا ہے:
فخسقنا به و بدارہ الارض فما كان له من فنة ينصرونه من
دون الله (قصص ــــــــــــــــــ 81)
نہ صرف قارون بلکہ عاد و ثمود اور قوم سبا جیسی اقوام بھی اسی انجام میں گرفتار ہوئیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد فرمایا گیا ہے : ان کے برے اعمال انھیں دامن گیر ہو گئے (فاصا بهم سیئات ماکسبوا ).
ان میں سے سب عذاب الٰہی کی کسی ایک قسم طوفان سیلاب ۔ زلزلہ یا صحیہ آسمانی میں گرفتار ہو گئے اور تباہ و برباد ہو گئے ۔
مزید فرمایا گیا ہے:یہ انجام انھیں میں منحصرنہیں تھا بلکہ مکہ کے یہ ظالمین ومشرکین بھی بہت جلہ اپنے برے اعمال میں گرفتار ہوں گے اور ہرگز عذاب الہی کے چنگل سے بھاگ کر نہیں نکل سکتے (والذين ظلموا من هؤلاء سيصيبهم سیئات ما كسبوا وما هم بمعجزین)۔
بلکہ یہ بات تو ان سے بھی اوپر جاتی ہے اور ہر دور خدا سے بےخبر اور مغرور ستم گر اس میں شامل ہیں۔
" سيصيبهم میئات ماکسبوا" سے مراد دنیاوی عذاب ہے یا اخروی. اس بارے میں دونوں احتمال ذکر کیے گئے ہیں لیکن "فاصا بهم سيئات ما كسبوا " (ان سے پہلے لوگ بھی اپنے برے اعمال میں گرفتار ہوئے تھے ، کے قرنیہ سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظرآتی ہے)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جو کہتے تھے ہماری نعمتیں خود ہماری آگاہی اور توانائی کی وجہ سے ہیں ،قرآن ان سے کہتا ہے کہ گزرے ہوئے لوگوں کی تاریخ پڑھو اور دیکھو کہ یہی بات دوسرے لوگوں نے بھی کہی تھی اور وہ کیسے کیسے مصائب اور عذاب میں گرفتار ہوئے ، یہ ایک تاریخی جواب ہے۔
اس کے بعد والی آیت میں ایک عقلی جواب دیتے ہوئے قرآن کہتا ہے ؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ یا تنگ کردیاہے (اولم يعلموا أن الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر)۔
کتنے بہت سے ایسے اہل اور لائق افراد ہیں جو زندگی میں محروم اور گوشہ نشیں ہیں اور کتنے بہت سے ایسے کمزور ناتواں افراد ہیں جو ہر لحاظ نعمتوں سے بہرہ مند ہیں ، اگر ساری کی ساری مادی کامیابیاں خود افراد کی اپنی سعی و کوشش اور لیاقت و قابلیت کی بنا پر انھیں حاصل ہوتیں تو پھر ہمیں یہ منظر نظر نہ آتے۔
یہی چیز خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عالم اسباب کی پشت پر ایک اور طاقتور ہاتھ بھی ہے جو اسے جچے تلے نظام کے مطابق چلا رہا ہے۔
یہ ٹھیک ہے انسان کو زندگی میں سعی و کوشش کرنا اس چاہیے ، یہ بھی درست ہے کہ جہاد و کوشش بہت سی مشکلات کے حل کی کلید ہے ، لیکن یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ ہم سبب الاسباب کوہی بھول جائیں اور صرف اسباب پر نظر رکھیں اور خود اپنے ہی آپ کو مؤثر حقیقی سمجھ بیٹھیں۔
بہت سے لائق اور لوگوں کے ناکام رہنے کا راز اور بہت سے جاہل افراد کے کامیاب ہونے کا بھید یہی ہے ، یہ بات تمام لوگوں کے لیے ایک تنبیہ ہے تاکہ وہ عالم اسباب میں گم نہ ہوجائیں اور صرف اپنی ہی شخصی قوت پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔
لہذا آیت کے آخر میں مزید فرمایاگیا ہے : اس میں ان لوگوں کے لیے، جو ایمان لائے ہیں آیات اور نشانیاں ہیں (ان في ذالك لآيات لقوم يؤمنون)
خدا کی پاک ذات کے لیے نشانیاں ، جیساکہ امیرالمومنین علیؑ نے فرمایا ہے:-
عرفت الله بفسخ العزائم وحل العقود ونقص الهمم
میں نے خدا کو پختہ اورمصمم ارادوں کے ٹوٹ جانے اور مشکلات کی گرہیں کھلنے اور ارادوں کے درہم برہم
ہونے سے پہچانا ہے ۔ ؎1
یہ انسان کے ضعف و ناتوانی کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کوگم نہ کر بیٹھے اور غرور وخودبینی میں گرفتار ہوجائے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نہج البلاغہ ، کلمات قصار ، کلمہ 250
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------