وہ لوگ جو خدا کے نام سے گھبراتے ہیں
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ۴۵قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۴۶وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِنْ سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ ۴۷وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۴۸
اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہوجاتے ہیں اور جب اس کے علاوہ کسی اور کا ذکر آتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں. اب آپ کہئے کہ اے پروردگار اے زمین و آسمان کے خلق کرنے والے اور حاضر و غائب کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان مسائل کا فیصلہ کرسکتا ہے جن میں یہ آپس میں اختلاف کررہے ہیں. اور اگر ظلم کرنے والوں کو زمین کی تمام کائنات مل جائے اور اتنا ہی اور بھی مل جائے تو بھی یہ روزِ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلہ میں سب دے دیں گے لیکن ان کے لئے خدا کی طرف سے وہ سب بہرحال ظاہر ہوگا جس کا یہ وہم و گمان بھی نہیں رکھتے تھے. اور ان کی ساری بدکرداریاں ان پر واضح ہوجائیں گی اور انہیں وہی بات اپنے گھیرے میں لے لے گی جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے.
تفسیر
وہ لوگ جو خدا کے نام سے گھبراتے ہیں
ان آیات میں پھر توحید اور شرک کے متعلق گفتگو ہورہی ہے۔ پہلی زیر بحث آیت میں مشرکین اور معاد کے منکرین کا توحید کے مقابلے میں ایک انتهائی قبیح اور براچہرہ دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جس وقت خدائے یگانہ ویکتا کا نام لیا جائے تو ان لوگوں کے دل جوآخرت پرایمان نہیں رکھتے متنقر بوجاتے ہیں لیکن جب دوسرے معبودوں کے بارے میں کوئی گفتگو ہوتی ہے تو مسردرمیں ڈوب جاتے ہیں (واذا ذكر الله وحده اشمازت قلوب الذين لا يؤمنون بالأخرة واذا ذكر الذين من دونه اذاهم يستبشرون)۔ ؎1
کبھی انسان برائیوں کا ا س طرح سے عادی ہوجاتا ہے اور پاکیزگیوں اور نیکیوں سے ایسا بیگانہ ہوجاتا ہے کہ حق کا نام سننے سے ناراحت اور متنفر ہوتا ہے اور باطل کے ذکر سے مسردر اور خوش ہوتا ہے جوخدا عالم ہستی کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سامنے سرتعظیم نہیں جھکاتا ، لیکن پتھر اور لکڑی کے ٹکڑے کے سامنے جواس کا اپنا بنایا ہوا ہے یا انسانوں اور اپنے ہی جیسے دوسرے موجودات کے آگے زانوئے ادب جھکا دیتا ہے اوران کی تعظیم و تکریم کرتا ہے۔
اسی معنی کے مشابہ سورة بنی اسرائیل کی آیہ 46 میں بھی ہے :
واذا ذكرت ربك في القرأن وحده ولواعلٰى اد بارهم نفورًا
جس وقت تو اپنے پروردگارکا قرآن میں وحدانیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ
کھڑے ہوتے ہیں۔
خدا کے عظیم پیغمبرنوح اس قسم کے کج فکروں کی بارگاہ خداوندی میں شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں :-
وافي كلما دعوتهم لتغفرلهم جعلوا أصابعهم في آذانهم واستغشوا
ثیابهم واصروا واستكبروا استكبارًا
خداوندا! جب بھی میں نے انھیں دعوت دی کہ وہ تیری بارگاہ میں آئیں تاکہ تو انھیں بخش دے توانھوں نے
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "اشمأزت" "اشمنزاز" کے مادہ سے گرفتگی اور کسی چیز ہے تنفرکے معنی میں ہے وحد منصوب منصوب یا مفعول مطلق کے عنوان سے ۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے سر اور چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ میری آواز
نہ سن سکیں اور انھوں نے گمراہی کی راہ میں اصرار کیا اور بہت شدت کے ساتھ تکبرواستکبارکیا۔
(نوح ــــــــــ 7)
ہاں! ہٹ درهم تعصب کرنے والوں اور مغرورجاہلوں کا یہی حال ہے۔
ضمنی طور پر کی آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اسی گروہ کی بدختی کا سرچشمہ دو چیزیں تھیں ، اصول توحید کا انکار اور آخرت پر ایمان نہ رکھنا -
ان کے مدمقابل وہ مومن ہیں جو خداوند یگانہ کا نام سن کر اس کے مقدس نام کی طرف اس طرح کھنچتے اور جذب ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ہرچیز اس کی راہ میں نثار کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔ محبوب کا نام ان کے کام ودہن کو شیریں. ان کے مشام جاں کو معطراوران کے سارے دل کو روشن کر دیتا ہے ، نہ صرف اس کا نام بلکہ ہروہ چیز جواس سے ارتباط اور تعلق رکھتی ہے ان کے لیے سرور آفرین ہے۔
یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ صفت زمانہ پیغمبرؐ کے مشرکین کے ساتھ مخصوص تھی بلکہ ہر زمانے میں ایسے تاریک دل منحرفین ہوتے ہیں جو خدا کے دشمنوں کے نام اور الحادی مکاتب فکر اور ظالموں کی کامیابی کا ذکر سننے سے خوش ہوتے ہیں لیکن نیک اور پاک لوگوں، ان کے پروگراموں اور کامیابیوں کا نام ان کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس لیے بعض روایات میں اس آیت سے ایسے لوگ مرادلیے گئے ہیں جو اہل بیت پیغمبر کے فضائل سننے سے یا ان کے مکتب کی پیروی سے ناراحت اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ ؎1
جب گفتگو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ یہ ہٹ دھرم گردہ اور مغرور جاہل خداوند یگانہ کا نام تک بھی سننے سے متنفر و بیزار ہیں تو اللہ اپنے پیغمبرؐکو حکم دیتا ہے کہ ان سے منہ پھیرے اور اپنے پوروردگار کی بارگاہ کی طرف رخ کرلے ، اس سے ایسے لب ولہجہ کے ساتھ گفتگوکرجو اس کے عشق سے سرشار اورگہرے ایمان کا ترجمان ہے اوراس کی بارگاہ میں اس گروہ کی شکایت کرتا کہ اپنے دل کو بھی جو غم زده ہے آرام وسکون دے سکے اور اس طریقہ سے سوئے ہوئے غافل انسانوں کی ارواح کوبھی بلاسکے۔ فرمایا گیا ہے ، کہہ دے : خداوندا ! اے وہ کہ جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور پنہاں و آشکار بھیدوں سے آگاہ ہے ، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کے لیے جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے فیصلہ کرے گا (قل اللهم فاطر السماوات والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفنون)۔ ؎2
ہاں قیامت کا دن ، جو تمام اختلافات اٹھ جانے کا دن ہے اور پوشیدہ حقائق ظاہر ہو جانے کا دن ہے، اس دن حاکم مطلق اور فرمانرواتو ہی ہے، تو ہی سب چیزوں کا خالق ہے اور ان کے اسرار سے بھی آگاہ ہے ، وہاں تیرے فیصلے سے اختلافات ختم ہوجائیں کے اور یہ ہٹ دھرم گمراہ اپنی غلطی کو سمجھ لیں گے اور وہاں فکر و نظر کی تلافی ہوجائے گی، لیکن انھیں کیا فائده ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اصول کافی اور روضہ کا في (نورالثقلين جلد ص 490 کے مطابق )
؎2 (فاطر السماوات ) منصوب ہے مناوائی مضاف کے عنوان سے ۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حقیقت ان آیات میں مشرکین اور ظالموں سے مربوط چار باتیں بیان ہوئی ہیں؛
پہلی یہ کہ اس دن عذاب الٰہی کا ہول و وحشت اس قدر زیادہ ہوگا کہ اگر ان کے پاس روئے زمین کی ثروت واموال کا دگنا بھی ہو تو وه عذاب سے رہائی پانے کے لیے تمام کا تمام دینے پر تیار ہوجائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ بن پائے گا۔
دوسری یہ کہ خدا کی سزاؤں کی وہ اقسام جو کبھی بھی ان کے ذہن میں نہیں آئی تھیں ان کے سامنے ظاہر ہوجائیں گی ۔
تیسری یہ کہ ان کے برے اعمال ان کے سامنے آحاضر ہوں گے اورمجسم ہوجائیں گے ۔
چوتھی یہ کہ جس بات کو معاد کے سلسلے میں مذاق سمجھتے تھے اسے حقیقت عینی کی صورت میں دیکھ لیں گے اور نجات کے تمام دروازے ان کے لیے بند ہوجائیں گے۔
اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن کہتا ہے کہ "ان کے برے اعمال آشکار ہوجائیں گے" یہ آیت تجسم اعمال کے مسئلہ پرایک دلیل ہوگی کیونکہ یہ لازم و ضروری نہیں ہے کہ لفظ مجازات اور کیفر کو مقدر مانا جائے ۔