شان نزول
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۳۶وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ ۳۷
کیا خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے اور یہ لوگ آپ کو اس کے علاوہ دوسروں سے ڈراتے ہیں حالانکہ جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے. اور جس کو وہ ہدایت دیدے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے کیا خدا سب سے زیادہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے.
شان نزول
بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ کے بت پرست پیغمبراکرمؐ کوبتوں کے غیض وغضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کی بدگوئی نہ کرو اور ان کے برخلاف اقدام نہ کرو کیونکہ وہ تمھیں دیوانہ کردیں گے اور تکلیف واذیت پہنچائیں گے (اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیاگیا)۔ ؎1
بعض نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وقت "خالد" پیغمبراکرمؐ کے حکم پر مشہورنت "عزی" کو توڑنے پر مامور هوا تومشرکین نے :کہا! بتوں کے غضب سے ڈرو کیونکہ ان کا غضب بہت سخت ہے (وہ تجھے لاچارکردے گا) خالد نے وہ کلہاڑا جو اس کے ہاتھ میں تھا مضبوطی کے ساتھ اس بت کی ناک پر مارا اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور کہا:
كفرًالک ياغزی لا سبحانك ـــــ سبحان من اهانکانی رایت الله قد أهانك
اے عزی تیری نافرانی اور برائی کرتا ہوں تو ہرکز منزہ اورپاک نہیں ہے منزه وہ ہے جس نےتیری توہین
کی ہے ، میں نے دیکھ لیا ہے کہ خدا نے تیری اہانت کی ہے ۔ ؎2
لیکن خالد داستان جواصولی طور پرفتح مکہ کے بعد ہونی چا ہیے شان نزول نہیں ہوسکتی کیونکہ سوره زمر ساری کی ساری مکی ہے۔ اس بنا پر ممکن ہے کہ تطبیق کے طور پر ہو۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیرکشاف ، تفسير مجمع البیان ، تفسیر ابوالفتوح رازی اور تفسیر فی ظلال (مختلف تعبیروں کے ساتھ)
مجمع البیان، زیربحث آیات کے ذیل میں (کشاف اورقرطبی میں بھی یہ روایت مختصرًا بیان ہوئی ہے)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ