Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 36-37

: الزمر

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۳۶وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ ۳۷

Translation

کیا خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے اور یہ لوگ آپ کو اس کے علاوہ دوسروں سے ڈراتے ہیں حالانکہ جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے. اور جس کو وہ ہدایت دیدے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے کیا خدا سب سے زیادہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے.

Tafseer

									  شان نزول

 بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ کے بت پرست پیغمبراکرمؐ کوبتوں کے غیض وغضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کی بدگوئی نہ کرو اور ان کے برخلاف اقدام نہ کرو کیونکہ وہ تمھیں دیوانہ کردیں گے اور تکلیف واذیت پہنچائیں گے (اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیاگیا)۔ ؎1
 بعض نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وقت "خالد" پیغمبراکرمؐ کے حکم پر مشہورنت "عزی" کو توڑنے پر مامور هوا تومشرکین نے :کہا!  بتوں کے غضب سے ڈرو کیونکہ ان کا غضب بہت سخت ہے (وہ تجھے لاچارکردے گا) خالد نے وہ کلہاڑا جو اس کے ہاتھ میں تھا مضبوطی کے ساتھ اس بت کی ناک پر مارا اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور کہا:
  كفرًالک ياغزی لا سبحانك ـــــ سبحان من اهانکانی رایت الله قد أهانك 
  اے عزی تیری نافرانی اور برائی کرتا ہوں تو ہرکز منزہ اورپاک نہیں ہے منزه وہ ہے جس نےتیری توہین 
  کی ہے ، میں نے دیکھ لیا ہے کہ خدا نے تیری اہانت کی ہے ۔ ؎2


 لیکن خالد داستان جواصولی طور پرفتح مکہ کے بعد ہونی چا ہیے شان نزول نہیں ہوسکتی کیونکہ  سوره زمر ساری کی ساری مکی ہے۔ اس بنا پر ممکن ہے کہ تطبیق کے طور پر ہو۔
   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    تفسیرکشاف ،  تفسير مجمع البیان ، تفسیر ابوالفتوح رازی اور تفسیر فی ظلال (مختلف تعبیروں کے ساتھ)  
مجمع البیان، زیربحث آیات کے ذیل میں (کشاف اورقرطبی میں بھی یہ روایت مختصرًا بیان ہوئی ہے)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ