Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شرح صدر اور قساوت قلب کے عوامل

										
																									
								

Ayat No : 21-22

: الزمر

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ۲۱أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِنْ رَبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۲۲

Translation

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے پھر اسے مختلف چشموں میں جاری کردیا ہے پھر اس کے ذریعہ مختلف رنگ کی زراعت پیدا کرتا ہے پھر وہ کھیتی سوکھ جاتی ہے تو اسے زرد رنگ میں دیکھتے ہو پھر اسے بھوسا بنادیتا ہے ان تمام باتوں میں صاحبانِ عقل کے لئے یاددہانی اور نصیحت کا سامان پایا جاتا ہے. کیا وہ شخص جس کے دل کو خدا نے اسلام کے لئے کشادہ کردیا ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نورانیت کا حامل ہے گمراہوں جیسا ہوسکتا ہے - افسوس ان لوگوں کے حال پر جن کے دل ذکر خدا کے لئے سخت ہوگئے ہیں تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں.

Tafseer

									           شرح صدر اور قساوت قلب کے عوامل 
 قبولیت حق، ادراک مطالب اور خودجوشی کے اعتبار سے سب انسان یکساں نہیں ہیں۔ بعض ایک لطیف اشارے یا ایک مختصرسی گفتگو سے حقیقت کو اچھی طرح سے سمجھ لیتے ہیں. ایک تذکر انھیں بیدار کر دیتا ہے اور ایک ہی نصیحیت ان کی روح میں ایک طوفان برپاکر دیتی ہے۔ جبکہ بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ شدید ترین خطاب اور واضح ترین دلائل اور قوی ترین پند و نصانح بھی ان پر معمولی سا اثر نہیں ڈالتے اور یہ مسئلہ سادہ سا نہیں ہے۔ 
 قران اس سلسلے میں کیسی عمدہ تعبیر بیان کرتا کہ بعض کو شرح صدر اور وسعت روح  کا حامل اور بعض کوتنگ سینے والا قرار دیا ہے۔ جیساکہ سوره انعام کی آیه 125 میں ہے: 
  فمن يرد الله أن يهديه يشرح صدرہ الاسلام و من یردان يضله يجعل صد رہ 
  ضیقًاحرجًا کانما يصعد في السماء 
  جس شخص کوخدا ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہ 
  کرناچاہتا ہے اس کے سینے کو اس طرح سے تنگ کر دیتا ہے جیسے وہ آسمان کی طرف چڑھ جائے گا ۔ 
 یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ افراد کے حالات کے مطالعے سے کامل طور واضح ہوجاتا ہے ۔ بعض کی روح تواس طرح سے وسیع اور کشادہ ہوتی ہے کہ جس قدرحقائق اس میں داخل ہوں وہ آسانی کے ساتھ انھیں قبول کرلیتی ہے لیکن بعض کی روح اور فکر اس طرح سے محدود ہوتی ہے گویا کوئی جگہ کسی حقیقت کے لیے اس میں نہیں ہے ، جیسے ان کا دماغ ایک محفوظ جگہ میں آہنی دیواروں کے اندر بند ہے۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1    تفسیر قرطبی جلد 8 ص  5691 (تفسیر سورہ زمر، زیر بحث آیات کے ذیل میں)یہ حدیث تھوڑے سے فرق کے ساتھ شیخ مفید کی روضۃ الواعظین میں بھی نقل ہوئی ہے : کو   ؎2    تفسیرصافی ، زیربحث آیات کے ذیل ہیں۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 البتہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے کچھ عوامل و اسباب ہیں ۔ ارباب دانش اور صالح علماء کے ساتھ دائمی ربط تعلق ،مسلسل و پے در پے مطالعات، خودسازی اور تہذیب نفس گناہ سے پرہیز خصوصًا حرام غذا سے اور خدا کو یاد کرنا شرح صدر کے عوامل و اسباب میں سے ہے۔ 
 اس کے برعکس جہالت ، گناه، بٹ دھری، جنگ وجدال، برے لوگوں یعنی فاسقوں، فاجروں اور مجرموں کی صحنت، دنیاپرستی و 
بوس پرستی ، تنگی روح اور قساوت قلب کا باعث بنتی ہے۔ 
 یہ جو قرآن کہتا ہے کہ خدا جس شخص کو ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا شرح صدر کر دیتا ہے یا جسے خدا چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کے سبنے کو 
تنگ کر دیتا ہے۔ یہ "چاہنا" اور "نہ چاہنا" ، بلاوجہ نہیں ہوتا۔ اس کا سر چشمہ خود ہماری ہی ذات ہوتی ہے 
 ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے : 
  اوحی الله عزوجل الى موسٰی یا موسٰی لا تفرح بكثرة المال، ولا تدع 
  ذكرى علٰى كل حال ، فان كثرة المال تنسي الذنوب، وان ترك ذكرى 
  يقسي القلوب 
  خدانے موسٰی کی طرف وحی بھیجی کہ اے موسٰی ! مال کی کثرت پر خوش نہ ہونا اور میری یاد کوکسی حالت 
  میں ترک کرنا کیونکہ مال کی زیادتی اکثر گناہوں کی فراموشی کا سبب بن جاتی ہے اور میری یل کو ترک 
  کردینا دل کوسخت کر دیتا ہے۔ ؎1 
 ایک دوسری حدیث میں امیرالمومنینؑ سے منقول ہے :
  ماجفت الدموع الالقسوة القلوب ، وما قست القلوب الاكثرة 
  الذنوب 
  آنسو خشک نہیں ہوتے مگردلوں کے سخت ہوجانے سے اور دل سخت نہیں ہوتے مگر گناہوں کی 
  زیادتی سے۔ ؎2 
 ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت موسٰیؑ کو پروردگار کا ایک پیغام یہ تھا : 
  یاموسٰی لا تطول في الدنيا املك ، فيقسو قلبك، والقاسي القلب 
  منی بعید 
  اے موسٰی دنیامیں اپنی آرزوؤں کو لمبانہ کر، کیونکہ اس سے تیرا دل سخت اور انعطاف نا پذیر ہو جائے گا 
  اورسنگدل مجھ سے دور ہوتے ہیں۔ ؎3 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1  ؎2    بحارالانوار ، جلد 70 ص 55  (حدیث 23-24)
  ؎3              کافی جلد دوم، باب "القسوة" حدیث 1
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 ایک اورحدیث میں امیرالمومنینؑ سے اس طرح منقول ہے :
  المتان لمة من الشيطان ولمة من الملك ، فلمة الملك الرقة و
  القهم، ولمة الشيطان السهو والقسوة 
  القاء دوقسم کے ہوتے ہیں۔ ایک القائے شیطانی اور دوسرا القائے ملک (فرشتہ) فرشتے کا القاء دل   کی نرمی اور فہم و ذکاء میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور شیطانی القاء یہود ونسیان اور قساوت 
  قلب کاباعث ہوتا ہے۔ ؎1
 بہرحال شرح صدر حاصل کرنے اور قساوت قلبی سے رہائی پانے کے لیے بارگاہ خداوندی کی طرف رخ کرنا چاہیے تاکہ وہ نورالٰہی جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے انسان کے دل میں روشن ہو۔ دل کے آئنے کو گناہ کے زنگ سے صاف و صقیل کرنا چاہیے اور دل کے گھر کو ہواوہوس کی غلاظت سے پاک رکھنا چاہیے تاکہ وہ محبوب کی پزیرائی کے لیے آمادہ ہو۔ خوف خداسے آنسو بہانا اوراس بے مثال محبوب کے عشق میں گریہ وبکا کرنا، رقت قلبی ، نرم دلی اور روح کی وسعت کے لیے عجیب وغریب اثر رکھتا ہے اور آنکھ کا جمود اور خشک ہونا سنگدلی کی نشانی ہے۔ 

   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    کافي جلد دوم "باب القسوه" حدیث 3 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------