Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سورة زمر / آیه  21 - 22

										
																									
								

Ayat No : 21-22

: الزمر

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ۲۱أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِنْ رَبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۲۲

Translation

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے پھر اسے مختلف چشموں میں جاری کردیا ہے پھر اس کے ذریعہ مختلف رنگ کی زراعت پیدا کرتا ہے پھر وہ کھیتی سوکھ جاتی ہے تو اسے زرد رنگ میں دیکھتے ہو پھر اسے بھوسا بنادیتا ہے ان تمام باتوں میں صاحبانِ عقل کے لئے یاددہانی اور نصیحت کا سامان پایا جاتا ہے. کیا وہ شخص جس کے دل کو خدا نے اسلام کے لئے کشادہ کردیا ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نورانیت کا حامل ہے گمراہوں جیسا ہوسکتا ہے - افسوس ان لوگوں کے حال پر جن کے دل ذکر خدا کے لئے سخت ہوگئے ہیں تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں.

Tafseer

									(21) اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٝ يَنَابِيْعَ فِى الْاَرْضِ ثُـمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٝ ثُـمَّ يَهِيْجُ فَتَـرَاهُ مُصْفَرًّا ثُـمَّ يَجْعَلُـهٝ حُطَامًا ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِى الْاَلْبَابِ 
(22) اَفَمَنْ شَرَحَ اللّـٰهُ صَدْرَهٝ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُـوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوْبُـهُـمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّـٰهِ ۚ اُولٰٓئِكَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ 

  ترجمہ

(21) کیا تو نے نہیں دکھا کر خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اسے چشموں کی صورت میں زمین میں داخل کیا پھراس سے زرعی پیدوار نکالتا ہے جو مختلف رنگ کی ہوتی ہے پھر یہ
 خشک ہوجاتی ہے اس طرح سے کہ تم دیکتے ہوکہ وہ زرد اور بے روح ہے وہ اسے درہم بھرہم کردیتاہےاورریزہ ریزہ بنادیتا ہے۔اسےماجرےمیں صاحبان عقل کےلیےایک نصیحت ہے۔  
(22) کیاوہ شخص جس کاسینہ خدا نے اسلام کے لیے کشادہ کر دیا ہے اور وہ نورالٰہی کے مرکب پر سوار ہے (ان دل کے اندھوں کی طرح ہے جن کے دل میں نور ہدایت داخل نہیں ہوا)
 وائے ہے ان کے لیے جو ذکر خدا کے مقابلے میں سخت دل رکھتے ہیں وہ واضح گمراہی میں ہیں۔