اب هم سوال کرتے هیں
وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۲۱إِذْ دَخَلُوا عَلَىٰ دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَاطِ ۲۲إِنَّ هَٰذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ ۲۳قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ۲۴فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ۲۵
اور کیا آپ کے پاس ان جھگڑا کرنے والوں کی خبر آئی ہے جو محراب کی دیوار پھاند کر آگئے تھے. کہ جب وہ داؤد علیھ السّلام کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے خوف محسوس کیا اور ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو فریق ہیں جس میں ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے آپ حق کے ساتھ فیصلہ کردیں اور ناانصافی نہ کریں اور ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت کردیں. یہ ہمارا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے رَنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کردے اور اس بات میں سختی سے کام لیتا ہے. داؤد علیھ السّلام نے کہا کہ اس نے تمہاری رَنبی کا سوال کرکے تم پر ظلم کیاہے اور بہت سے شرکائ ایسے ہی ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو صاحبان هایمان و عمل صالح ہیں اور وہ بہت کم ہیں .... اور داؤد علیھ السّلام نے یہ خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے لہٰذا انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور ہماری طرف سراپا توجہ بن گئے. تو ہم نے اس بات کو معاف کردیا اور ہمارے نزدیک ان کے لئے تقرب اور بہترین بازگشت ہے.
اب هم سوال کرتے هیں:۔
1- وہ نبی کہ گزشتہ آیات میں اللہ نے جس کے دس عظیم اوصاف بیان کیے ہیں اور پیغمبر اسلام کو جس کی سرگزشت سے ہدایت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے، کیاممکن ہے کہ ان نعمتوں کے ہزارویں حصے کی بھی اس کی طرف نسبت دی جا سکے؟
2- قرآن مجید بعد کی آیات میں کہتا ہے :
یاداؤد انا جعلناك خليفة في الارض
اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں اپناخلیفہ اور نمائندہ بنایا
کیایہ آیت مذکورہ خرافات سے ہم آہنگ ہے؟
3- اگر کوئی عام شخص بو، خدا کا نبی نہ ہو اور وہ اس قسم کے جرم کا مرتکب ہو، اپنے وفادار پاک طینت باایمان افسر کی بیوی کو ایسے گھٹیاطریقے سے اس کے ہاتھوں سے کھسکالے تو لوگ اس کے بارے میں کیافیصلہ کریں گے اور اس کی سزا کیا ہو گی؟ یہاں تک کہ اگر یہ کام افسق الفاسقین سے سرزد ہو تب بھی جائے تعجب ہے۔
یہ صحیح ہے کہ تورات نے حضرت داؤد کو پیغمبر قرار نہیں دیا تاہم ان کا ذکر کی بلند مرتبه عادل حکمران کے طور پر کیا ہے ، کہ جو بنی اسرائیل کے عظیم عبادت خانے کا مؤسس تھا۔
4- یہ بات قابل توجہ ہے کہ تورات کی مشہور کتب میں سے ایک "مزامیرداؤد" ہے جس میں حضرت داؤدکی مناجات میں ہیں۔ کیا ایسے شخص کی مناجات اور باتیں مکتب آسمانی کا حصہ قرار دی جاسکتی ہیں ؟
5- جوشخص تھوڑی سی عقل بھی رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ موجودہ تحریف شده تورات کی داستانیں خرافات کا ایسا مجموعہ ہیں جو مکتب انبیاء کے دشمنوں یا بہت ہی سے شعور اور جاہل افراد کی ساختہ و پرداختہ ہیں - لہذا انھیں کس طرح بحث کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے؟
جی ہاں! قرآن کی یہ عظمت ہے کہ وہ ایسی خرافات سے بالکل پاک ہے۔
3۔ اسلامی روایات اورقصۂ داؤدؑ :
اسلامی روایات میں تورات کی بیان کردہ قبیح اور بے ہودہ داستان کی نہایت سختی سے تکذیب کی گئی ہے ۔ ان میں سے ایک روایت امیرالمومنین علی عیلہ اسلام سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا :۔
الااوتی برجل يزعم داؤد تزوج امرئة اوريا الا جلدته حدين حدًا للنبوة
وحدًا للإسلام
اگرکسی ایسے شخص کو میرے پاس لایا جائے کہ جو یہ کہے کہ داؤد نے اوریاہ کی بیوی سے شادی کی ۔ تو
میں اس پر دو حدیں جاری کروں گا ایک حد نبوت کے لیے اور دوسری اسلام کے لیے۔ ؎1
کیونکہ اس میں ایک طرف تو ایک مومن کی طرف ایک غیر شرعی امرکی نسبت ہے اور دوسری طرف مقام نبوت کی ہتک حرمت ہے ۔ لہذا ایسی بات کرنے والے پر دومرتبہ حدِ قزف جاری ہونی چاہیے اور اسے دو مرتبہ اسی کوڑے لگائے جانے چاہییں۔
امام بزرگوار حضرت علیؑ ہی سے یہی مفہوم ایک اور انداز سے منقول ہے ۔ آپؑ فرماتے ہیں۔
من حدثکم یحديث داود علی مایرویہ القصاص جلد تد مائة ستين
جو شخص تم سے قصہ داؤد اس طرح بیان کرے کہ جیسے افسانہ گو کہتے ہیں تو میں اسے ایک سوساٹھ
کوڑے لگاوں گا۔ ؎2
ایک اور حدیث شیخ صدوق نے امام جعفرصادق علیه السلام سے امالی میں درج کی ہے ، آپؑ فرماتے ہیں :۔
أن رضا الناس لا يملك، وألسنتهم لا تضبط ، الم ينسبوا داود
إلى أنه تبع الطير حتى نظر الى امرئة اوريا فهواها، و ان
قدم زوجها امام التابوت حتى قتل تزوج بها
سب لوگوں کو راضی نہیں کیاجاسکتا اور سب کی زبانیں بند کی جاسکتی ہیں ۔ کیا انھوں نے یہ (انتہائی
قبیح) تمت داؤدؑ پر نہیں باندھی کہ وہ ایک پرندے کے پیچھے اپنے مل کی چھت پر گئے تو ان کی نظر
اوریاہ کی بیوی پڑی اور وہ اس پر فریفتہ ہو گئے ۔ پھر اس کے شوہر کو میدان جنگ میں تابوت کے آگے
کے بیچ دیا (جس میں انبیاء بنی اسرائیل کی یادگاریں رکھی جاتی تھیں اور برکت کے طور پر اسے فوج کے
آگے رکھا جاتا تھا) ۔ یہاں تک کہ وہ مارا گیا اور پھرانھوں نے اس کی بیوی سے شادی کرلی (جب اللہ کاعظیم
نبی لوگوں کی زبان سے مامون رہا ہو تو دوسروں کو ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے)۔ ؎3
ایک حدیث عیون الاخبارمیں امام علی بن موسی الرضا علیهم السلام سے منقول ہے ۔ آپ مختلف مذاہب کے ارباب مذہب سے
ا--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان، زیربحث آیات کے ذیل میں ۔
؎2 تفسير فخرالدین رازی ، زیربحث آیات کے ذیل ہیں
؎3 نورالثقلین جلد 4 ص 446- بجواله امام صدوق ۔
ز--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عصمت انبیاء کے بارے میں بات کررہے تھے ۔ اس دوران میں آپ نے حاضرین میں سے علی بن جہم سے فرمایا: "تم داود کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟
اس نے کہا: کہتے ہیں کہ داؤ دا پنی محراب میں مشغول عبادت ھتے کہ شیطان ایک خوبصورت پرندے کی صورت میں ان کے سامنے آیا۔ داؤد نے نماز توڑ دی اور اس پرندے کے پیچھے ہولیے .......... پھر انھوں نے اوریاہ کی بیوی کوغسل کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر عاشق ہو گئے ۔ پھر انھوں نے اس کے شوہر کو تابوت کے آگے آگے میدان جنگ میں بھجوا دیا، وہ مارا گیا تو داؤدؑ نے اس کی بیوی سے شادی کرلی۔
اس نے یہ افسانہ بیان کیا تو امام علی بن موسی الرضابہت ناراض ہوئے، آپ کو بہت دکھ ہوا ، آپ نے اپنا ہاتھپیشانی پر مارا اور فرمایا :
انا لله وانا اليه راجعون
لقد نسبتم نبيًا من انبياء الله الى التهاون بصلاته حتى خرج
في اثر الطير، ثم بالفاحشة ثم بالقتل
انا لله و انا الیه راجعون ،
تم نے انبیاءالٰہی میں سے ایک نبی کی طرف اپنی نماز میں ستی کرنے اور اسے معمولی سمجھنے کی نسبت
دی۔ یہاں تک کہ ( تمھاری نسبت کے مطابق وہ بچوں کی طرح )پرندے کے پیچھے گیا۔ پھرتم نے اس کی
طرف فحشاء اور برائی کی نسبت دی اور اس کے بعد ایک بے گناہ انسان کے قتل سے متہم کیا۔
علی بن جہم نے پوچها ؛ پھر داؤد کی لغزش کیا تھی؟ کہ جس پرانھوں نے استغفار کی اور قران میں سب کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
امام نے مسئلہ قضاوت میں حضرت داؤد کی جلد بازی کا ذکر کیا اور بعد والی آیت کو بطورشاہدپیش فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہے:
یا داؤد اناجعلنا خليفة في الارض
اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے
امام فرماتے :
حضرت داؤد کے زمانے میں جن عورتوں کے شوہر مرجاتے یاقتل ہوجاتے وہ پھر کبھی شادی نہ کرتی تھیں
(اور یہ امربہت سی برائیوں اور قباحتوں کی بنیاد تھا) حضرت داودؑ وہ پہلے شخص تھے جن پراللہ نے اس کام
کو مباح قرار دیا( تاکہ یہ رسم ختم ہوجائے اور بیوہ عورتیں اس مصیبت سے نجات پائیں) لہذاجب اوریاہ( اتفاق
سے ایک جنگ میں مارے گئے تو داؤد نے ان کی بیوی سے شادی کر لی ، اور امرا س زمانے کے لوگوں پر بہت
گراں گزرا (اور بعد ازاں اس پر انھوں نے افسانے گھڑ لیے) ۔ ؎1
ا-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نورالثقلين ، جلد 4 ص 445 بحوالہ عیون الاخبار
--------------------------------------------------------------------
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ اوریاہ کی ایک سادہ سی حقیقت پر بنیاد تھی۔ حضرت داؤد نے ایک کام الٰہی ذمہ داری کے طور پر انجام دیا تھا لیکن دانادشمنوں، نادان دوستوں اورافسانہ طرازوں نے کہ جنھیں عجیب و غریب باتیں بنانے اور جھوٹ گھڑنے کی عادت تھی اس واقعے پر خوب حاشیہ آرائی کی اور ایسی ایسی باتیں بنائیں کہ انسان کو وحشت ہوتی ہے۔
کسی نے کہا : اس شادی کی کچھ نہ کچھ بنیاد تو ضرور ہے۔
دوسرے نے کہا : ضروری بات ہے کہ اوریا کا گھر داؤد کی ہمسائیگی میں ہوگا۔
آخر کسی نے داؤد کی نظریں اوریا کی بیوی پر ڈلوائیں ، پرندے کا قصه گھڑا۔
آخر کار اس عظیم پیغمبر کو طرح طرح کے شرمناک گناہان کبیرہ سے متہم کیا گیا۔ پھر بے وقوف جاہلوں نے ایک زبان سے دوسری زبان تک پہنچایا اور اگر اس افسانے کا ذکر مشہور کتب میں نہ ہوتا تو بھی اسے نقل کرتاغلط سمجھتے۔
البتہ حضرت امام رضا علیه اسلام کی مذکورہ روایت امیرالمومنین علی علیہ اسلام کی روایت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ حضرت علیؑ سے منقول حدیث میں اس مشهور جھوٹی داستان کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں (نعوذ باللہ) اس عظیم نی کی طرف زنا وغیرہ کی نسبت دی گئی ہے۔