Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2-   موجودہ تورات کی خرافاتی داستان

										
																									
								

Ayat No : 21-25

: ص

وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۲۱إِذْ دَخَلُوا عَلَىٰ دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَاطِ ۲۲إِنَّ هَٰذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ ۲۳قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ۲۴فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ۲۵

Translation

اور کیا آپ کے پاس ان جھگڑا کرنے والوں کی خبر آئی ہے جو محراب کی دیوار پھاند کر آگئے تھے. کہ جب وہ داؤد علیھ السّلام کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے خوف محسوس کیا اور ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو فریق ہیں جس میں ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے آپ حق کے ساتھ فیصلہ کردیں اور ناانصافی نہ کریں اور ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت کردیں. یہ ہمارا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے رَنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کردے اور اس بات میں سختی سے کام لیتا ہے. داؤد علیھ السّلام نے کہا کہ اس نے تمہاری رَنبی کا سوال کرکے تم پر ظلم کیاہے اور بہت سے شرکائ ایسے ہی ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو صاحبان هایمان و عمل صالح ہیں اور وہ بہت کم ہیں .... اور داؤد علیھ السّلام نے یہ خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے لہٰذا انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور ہماری طرف سراپا توجہ بن گئے. تو ہم نے اس بات کو معاف کردیا اور ہمارے نزدیک ان کے لئے تقرب اور بہترین بازگشت ہے.

Tafseer

									 2-   موجودہ تورات کی خرافاتی داستان : 
 اب ہم تورات کی طرف رجوع کرتے ہیں تاک دیکھیں کہ وہ اس سلسلے میں کیاکہتی ہے: نیز بعض  ناآگاہ اور بے خبر افراد نے جوتفسیری کی ہیں ، ان کی اصل خبری تلاش کرتے ہیں ۔ 
 تورات کی دوسری کتاب اشموئیل کی فصل 11 میں جملہ 2 تا 27 میں یوں بیان کیا گیاہے :۔ 
  ہوا یہ کہ وقت غروب داؤو اپنے بستر سے اٹھا اور بادشاہ کے گھر کی چھت پر گردش کی ۔ پشت بام سے
  ایک عورت کو دیکھا کر جوغسل کر رہی ہے ۔ وہ عورت بہت ہی خوبصورت اور جاذب نظر تھی ۔ داؤد 
  نے کسی کو بھیجا اور اس عورت کے بارے میں استفسار کیا۔ کسی نے کہا کہ کیا وہ اوریاہ ؎1 حتی کی بیوی
۔--------------------------------------------------------------------
  ؎1     "اوریاہ" حضرت داود کی فوج کے اہم افسروں سے تھے۔اور"حتی" " حت بن کنعان" کی طرف نسبت ہے کہ جس کے قبیلے کو بنی حت کہتے ہیں۔ 
۔--------------------------------------------------------------------
بت شبع نبت الیعام ؎1 تو نہیں۔  
 داؤد نے ایلچی بھیچ کر اسے منگوالیا ۔ وہ اس کے پاس آئی ۔ داؤ د اس کے ساتھ سویا۔ وہ اس کی نجاست سے پاک ہونے کے بعد اپنے گھر واپس چلی گئی ۔ وہ عورت حاملہ ہوگئی۔ اس نے کس کو بھیچ کر داؤد کو خبرکی کہ میں حاملہ ہوں ۔ داؤدنے یوآب ؎2 نکو کہلا بھیجا کہ اوریاہ حتی کو میرے پاس بھیج دے۔یوآب نے اوریاحتی کو اس کے پاس بھیجا ۔ اوریاہ حتی اس کے پاس آیا ۔ داؤد نے یوآب کی سلامتی اورجنگ میں اچھا وقت گزارنے کے بارے میں پوچھا ۔ پھر داؤدنے اور یاہ سے کہا : اپنے گھرجا اور اپنے پاؤں دھو ۔ اوریاہ بادشاہ کے گھر سے باہر آیا ۔ اس کے پیچھے بادشاہ کی طرف سے کچھ کھانا باہرگیالیکن اوریاہ بادشاہ کے گھر کے آگے اپنے آقا کے سارے بندوں کے ہمراہ سو گیا اور اپنے گھرمیں نہ گیا۔ جب واؤدؑ کو خبر دی گئی کہ اوریاہ اپنے گھر میں نہیں گیا تو داؤدنے اوریاہ سے کہا : کیا تو سفرسے نہیں لوٹا؟ اپنے گھرمیں کیوں نہیں گیا؟ 
 اوریاہ نے داؤدؑ سے عرض کی : صندوق ، اسرائیل اور یہود سائبانوں میں قیام پزیر ہیں میرآقایوآب اور میرے آقا کے غلام صحرا میں خیمہ نشین ہیں ، کیا ہوسکتا ہے کہ میں کھانے پینے اور اپنی بیوی کے ساتھ سونے کے لیے اپنے گھر جاؤں؟ آپ کی جان کی قسم میں یہ کام نہیں کروں گا ........... 
 ہوا یہ کہ داؤدؑ نے صبح ایک خط یوآب کو لکھا اور اوریاہ کے ہاتھ بھیجا ۔خط میں لکھاتھا کہ اوریاہ کوشدید جنگ میں دھکیل دو اور خود اس کے پیچھے سے ہٹ جاؤ تاکہ یہ مارا جائے اور مرجائے۔ 
 اسی طرح ہوا۔ یوآب نے شہر کا جائزہ لینے کے بعد اوریاہ کو ایسی جگہ پر رکھا جہاں اسے علم تھا کہ بہادروں کی ضرورت ہے۔ 
 شہر کے مردوں نے باہرآکر یوآب سے جنگ کی ۔ داؤد کے غلاموں کی قوم میں سے بعض گرے۔ 
اوریاہ حتی بھی  مر گیاــــــ اوریاہ کی بیوی نے اپنے شوہر کی موت کا سنا توخصوصیت سے اپنے شوہر کا سوگ منایا ۔ جب یہ سوگ ختم ہوا تو داؤدنے اسے بلوا بھیجا اور اسے اپنے گھر لایا کہ وہ اس کی بیوی ہوگئی ...... 
 لیکن یہ جو کام داؤد نے کیا تھا خدا کو پسند نہیں آیا۔ ؎
------------------------------------------------------ل------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      "بت شبع" اسی عورت کا نام ہے (تورات کے بقول) کہ حضرت داؤد نے چھت تے اسے برہنہ دیکھا اور اس کے عشق کی آگ آپ کے دل میں بھڑک اٹھی۔ یہ عورت ایک صاحب متصب عبرانی شخص "الیعام کی بیٹی تھی ۔ 
  ؎2     " یوآب " حضرت داؤد کی فوج کا کمانڈر تھا۔ 
  ؎3     کتاب اشموئیل ، فصل 11 جملہ 2 تا 27 
ک--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 اس داستان کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک روز داؤد اپنے محل کی چھت پر جاتے ہیں۔ ساتھ والے گھر میں ان کی نظر پڑتی ہے تو انھیں ایک عورت غسل کرتے ہوئے برہنہ دکھائی دیتی ہے ۔ وہ اس کے عشق میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ پھر جیسے بن پڑتا ہے اسے اپنے گھر لے آتے ہیں اور وہ واؤد سے حاملہ ہوجاتی ہے۔ اس عورت کا شوہرلشکر داؤد کا ایک اہم افسر تھا۔ وہ ایک پاک طینت اور باصفا شخص تھا۔ داود (نعوذباللہ ایک بزدلانہ سازش کے ذریعے اسے ایک خطرناک جنگ میں بھجواکرقتل کروا دیتے ہیں اور پھر اس کی بیوی کو قانونی طور پر اپنے نکاح میں لے آتے ہیں ۔ 
 اب آپ داستان کا باقی حصہ موجودہ تورات کی زبانی سنیں۔ اسی کتاب دوم اشموئیل کی 12 ویں فصل میں ہے۔ 
 خداوند نے ناثان ؎1  کو داؤد کے پاس بھیجا اور کہا: 
 ایک شهرمیں دو آدمی رہتے تھے۔ ایک امیر تھا دوسرا غریب۔ امیر آدمی کے پاس بہت کی بھیڑیں اور غائیں تھیں۔ غریب کے پاس بھیڑ کے ایک بچے کے سوا کچھ نہ تھا۔ ا یک روز ایک مسافر امیر آدمی کے ہاں آیا۔ اس نے اپنی بھیڑوں میں سے مہمان کے لیے غذا تیار کرنے میں پس و پیش کیا۔ غریب کا بھیڑ کابچہ لے کر اسے زبح کر دیا ۔ 
 اب کیا ہونا تھا، داؤد انتہائی غصے ہوئے ۔ ناثان سے کہنے لگے : بخدا جسں نے یہ کام کیا وہ قتل کامستحق ہے۔ اس ایک کی جگہ پر چار بھیڑیں دینی چا ہیں۔ لیکن ناثان نے داؤرسے کہا 
 "وہ شخص تو ہے "۔
 داؤد اپنے غلط کام کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کی لیکن اس کےباوجودان پر بھاری مصیبتیں آئیں۔ 
 اس مقام پر تورات میں ایسی عبارت ہے جس کے ذکر سے قلم کو شرم آتی ہے لہذا ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں تورات کی داستان کے اس حصے میں بعض نکات خصوصیت کے ساتھ قابل غور ہیں ، مثلًا: 
 1- حضرت داؤد کے پاس کوئی شخص قضاوت کے لیے نہیں آیا، بلکہ ان کے ایک مشیرجو نبی تھے انھوں نے نصیحت کے طور پر ان سے ایک داستان بیان کی ۔ اس میں دو بھائیوں کا واقعہ اور ان میں سے ایک کا دوسرے سے تقاضا کرنامذکور نہیں ہے بلکہ ایک امیراورایک غریب آدمی کا ذکر ہے جن میں سے ایک کے پاس بہت سی بھڑیں اور گائیں تھیں جبکہ دوسرے کے پاس بھیڑ کا صرف ایک بچہ تھالیکن امیر آدمی نے اپنے مہمان کے لیے غریب آدمی کا بھیڑ کا بچہ ذبح کردیا۔ اس واقعے میں محراب کی دیوار سے اوپر جانے کا ذکر ہے نہ آپ کے وحشت زدہ ہو جانے کی بات ہے ، نہ دوبھائیوں کے دورے کے دعوے کا معاملہ ہے اور ہی توبہ و بخشش کی درخواست کا بیان ہے۔ 
 2-  داؤد نے اس ظالم امیر شخص کو قتل کا مستحق سمجھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بھیڑ کے لیے آخرقتل کیوں؟ 
ل-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1   بنی اسرائیل کےایک نبی اور حضرت داؤد کے مشیر 
ت------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
 3-  ساتھ ہی انھوں نے اس حکم کے خلاف حکم صادر کیا اور کہا کہ ایک بھیڑ کے بد لے اسے چار بھیڑیں دینی چاہیں۔ آخری بناء پر؟ 
 4-  داؤد نے اوریاہ کی بیوی کے بارے میں خیانت سے متعلق اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔ 
 5-  خدانے انھیں معاف کر دیا (اتنی آسانی سے کس بناء پر؟ )۔ 
 6-  اللہ نے داؤد کے بارے میں عجیب وغریب سزا کا فیصلہ کیا کہ جسے نقل نہ کرنا بہتر۔ 
 7-  یہی عورت سے "روشن ماضی " کے باوجودسلیمان کی ماں بنی۔ 
 ان داستانوں کا ذکر واقعًا تکلیف دہ ہے لیکن کیا کیا جا سکتا ہے کہ بعض جاہل افراد نے نادانی سے ان اسرائیلی روایات کے زیراثر قرآن مجید کی پاک و پاکیزہ آیات کا چہرہ سیاہ کر دیا ہے اور ایسی باتیں کہی ہیں کہ حق کو واضح کرنے کے لیے اس رسوا داستان کا حصہ ذکر کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔