Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حضرت داؤد کی ایک آزمائش

										
																									
								

Ayat No : 21-25

: ص

وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۲۱إِذْ دَخَلُوا عَلَىٰ دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَاطِ ۲۲إِنَّ هَٰذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ ۲۳قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ۲۴فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ۲۵

Translation

اور کیا آپ کے پاس ان جھگڑا کرنے والوں کی خبر آئی ہے جو محراب کی دیوار پھاند کر آگئے تھے. کہ جب وہ داؤد علیھ السّلام کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے خوف محسوس کیا اور ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو فریق ہیں جس میں ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے آپ حق کے ساتھ فیصلہ کردیں اور ناانصافی نہ کریں اور ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت کردیں. یہ ہمارا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے رَنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کردے اور اس بات میں سختی سے کام لیتا ہے. داؤد علیھ السّلام نے کہا کہ اس نے تمہاری رَنبی کا سوال کرکے تم پر ظلم کیاہے اور بہت سے شرکائ ایسے ہی ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو صاحبان هایمان و عمل صالح ہیں اور وہ بہت کم ہیں .... اور داؤد علیھ السّلام نے یہ خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے لہٰذا انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور ہماری طرف سراپا توجہ بن گئے. تو ہم نے اس بات کو معاف کردیا اور ہمارے نزدیک ان کے لئے تقرب اور بہترین بازگشت ہے.

Tafseer

									  تفسیر
         حضرت داؤد کی ایک آزمائش 
  ان آیات میں حضرت داؤدؑ کے فیصلہ کرنے کے بارے میں سادہ اور واضح گفتگو کی گئی ہے۔ اس ضمن میں جو تحریفات اور غلط تعبیرات کی گئی ہیں ان کے باعث لاشعوری طور مفسرین کے درمیان ایک بڑا نزاع پیدا ہوا ہے اس پر اس قدر شورو غونما ہوا ہے کہ بعض مسلمان مفسرین بھی اس کی زد میں آگئے ہیں اور انھوں نے اس عظیم نبی کے بارے میں غلط اور کہیں کہیں بہت ہی ناروا فیصلے کیے ہیں۔ 
 ہم سب سے پہلے بغیر کسی تشریح کے آیات قرآنی کامتن پیش کرتے ہیں ۔ تاکہ قارئین خالی ذہن کے ساتھ آیات کا مفہوم سمجھ سکیں۔
 گزشتہ آیات میں حضرت داؤد عیلہ سلام کی خاص صفات بیان کی گئی تھیں اور ان پر اللہ تعالٰی کی  عظیم نعمتوں کا ذکر تھا۔ اس کے بعد 
اب دادرسی اور قضاوت کے سلسلے میں حضرت داؤد کو پیش آنے والے ایک واقعے کا تذکرہ ہے۔ 
 پہلے پیغمبراسلام صلی الله علیہ وسلم سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے؟ کیا داؤد کی دیوار محراب سے اوپر جانے والے 
شکایت کنندگان کا واقعہ تجھ تک پہنچا ہے (وهل اتاك نبوالخصم اذ تسور وا المحراب)- 
 "خصم" کا دراصل مصدری معنی ہے اس کا معنی ہے نزاع اور جھگڑا کرتا لیکن ایسا بہت ہوتا ہے کہ جھگڑے کے طرفین کو "خصم" کہتے ہیں۔ یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں مفاہیم کے لیے بولا جاتا ہے اور کبھی اس کی جمع "خصوم" بھی آتی ہے ۔
 " تسوروا" "سور" کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے ایسی دیوار جوگھریا شہر کے اطراف پرمحیط ہو۔ لیکن توجہ رہے کہ یہ مادہ دراصل چھلانگ لگانے اور اوپر جانے کے معنی میں ہے۔ 
 "محراب" صدرمجلس" (مجلس کے نمایاں ترین مقام) یا اوپر والی منزل کے کمروں کے معنی میں ہے اور چونکہ "مقام عبادت" سے اس میں بنایا جاتا تھا۔ لہذا آہستہ آہستہ یہ لفظ "معبد" (عبادت خانہ) کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ روزمرہ میں یہ لفظ خصوصیت سے اس مقام کے لیے استعمال ہونے لگا جہاں امام جماعت قیام نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ مفردات میں منقول ہے کہ "محراب مسجد" کو اس لیے "محراب" کہا جاتا ہے چونکہ یہ شیطان اور ہواۓ نفس سے جنگ کی جگہ ہے۔ 
 بہرحال حضرت داؤد عیلہ سلام کے اردگرد اگرچہ بہت سے محافظین موجود تھے تاہم دو آدمی ایک جھگڑے کے سلسلے میں عام راستے سے ہٹ کر محراب اور دیوار قصر سے اوپرآئے اور اچانک آپؑ کے سامنے آدھمکے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے : وہ اچانک داؤد کے سامنےآنکلے (بغیر کسی اطلاع کے اوربغیرکسی اجازت کے) لہذا ان پر نظر پڑی تو داؤد وحشت زدہ ہوئے اور گھبراۓ کیونکہ انھیں خیال ہوا کہ ہوسکتا ہے ان لوگوں کا ان کے بارے میں غلط ارادہ ہو (اذدخلوا على داؤد ففزع منهم)۔ 
 لیکن انھوں نے بہت جلد آپ کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا : ڈریں نہیں ، ہم دونوں ایک شکایت لے کر آپ کے پاس آئے ہیں ۔ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے اور ہم آپ کے پاس دادرسی کے لیے آئے ہیں ( قالوا لا تخف خصمان بغي بعضنا على بعض)۔ 
 اب آپ ہمارے بارے میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اورظلم روا نہ رکھیں اور راہ راست کی طرف جاری ہدایت کريں (فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط واهدنا الى سواء الصراط)۔ 
  "تشطط"  "شطط"  (بروزن "فقط") کے مادے سے دراصل زیادہ دوری کے معنی میں ہے، ظلم چونکہ انسان کو حق سے بہت دور کر دیا ہے ا س لیےلفظ"شطط" اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح جو بات حقیقت سے دور ہویہ لفظ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ 
 واضح رہے کہ اس مقام پر حضرت داؤد کی پریشانی اوروحشت کم ہوگئی لیکن شاید ایک سوال ان کے ذہن میں ابھی باقی تھا، بہت اچھا، تمھارا کوئی غلط ارادہ نہیں ہے ، تم صرف قاضی کے پاس شکایت لے کر آئے ہو لیکن اس خلاف معمول راستے سے آنے کا مقصد؟ 
 لیکن انھوں نے حضرت داؤدؑ کوزیادہ موقع نہ دیا۔ ایک نے شکایت کرنے میں پہل کی ، کہنے لگا : میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس ایک سے زیادہ نہیں، لیکن یہ اصرار کرتا ہے کہ یہ ایک بھی مجھے دے دے ، گفتگومیں ہے مجھ پر باری ہے اور مجھ سے زیادہ باتونی ہے (ان هذا اخی له تسع و تسعون نعجة ولي نعجة واحدة فقال اکفلنيها وعزني في الخطاب)۔ 
 "تعجۃ" "بھیڑ" کے معنی میں ہے ۔ جنگلی گائے اور پہاڑی بھیڑ کو بھی "نعجۃ" کہتے ہیں۔ 
 " اکفلنيها" "کفالت" کے مادے سے ہے۔ یہاں دے دینے کے مفہوم میں بے (معنی یہ ہے کہ اس کی کفالت میرے سپر کردے) 
 "عزني" "عزت" کے مادہ سے "غلبہ" کے معنی میں ہے۔ یہاں اس لفظ کا معنی ہے "اس نے مجھ پر غلبہ کیا ہے"۔ 
 آیات قرآنی سے ظاہری طور پر معلوم ہوتا ہے حضرت داؤد نے دوسرے فریق کی بات کے سنے بغیر شکایت کرنے والے سے کہا: اپنی بھیڑوں میں تیری بھیڑ کا اضافہ کرنے کے لیے اس نے تقاضاکرکے ظلم روارکھا ہے۔ (قال لقد ظلمك بسؤال نعجتک الى نعاجه)۔ 
 لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں "بہت سے دوست اور ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے پرظلم کرتے ہیں" ۔ (وان كثيرًا من الخلطاء ليبغى بعضهم علی بعض )۔ ؎1 سوائے ان کے جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک عمل کیے ہیں" ( الا الذين آمنوا وعملوا الصالحات)" لیکن وہ بہت تھوڑے ہیں" (وقليل ماهم)۔ ؎2 
 جی ہاں! معاشرت اور دوستی میں دوسروں کے حق کا لحاظ رکھنے والے اور اپنے دوستوں پر ذرہ بھر بھی زیادتی نہ کرنے والے افراد بہت کم ہیں ۔ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کا اس پورے عدل و انصاف سے ویی ادا کر سکتے ہیں جو ایمان اورعمل صالح خوب بہرہ مند ہیں۔ 
 بہرحال یوں لگتا ہے کہ طرفین یہ بات سن  کر مطمئن ہو گئے اور حضرت واؤدؑ کے ہاں سے چلے گئے ۔ لیکن داؤدؑ سوچ میں پڑ گئے۔ انھوں نے فیصلہ تو عدل کی بنیاد پر کیا تھا کیونکہ اگر فریق ثانی کو مدعی کا دعوی قبول نہ ہوتا تو یقینا وہ اعتراض کرتا۔ اس سکوت اس امر کے لیے بہترین دلیل تھا کہ معاملہ وہی ہے جو شکایت کرنے والے نے پیش کیا ہے لیکن ان سب امور کے باوجود عدالتی اقدار کا تقاضا تھا کہ داود اپنی بات میں جلدی  نہ کرتے بلکہ فریق ثانی سے بھی شخصًا سوال کرتے اور پھر فیصلہ سناتے۔ لہذا اس کام پروہ خود پشیمان ہوئے اور داؤد نے گمان کیا کہ اس واقعے کے ذریعے ہم نے اس کا امتحان لیا ہے  (وظن داؤد انما فتناه)۔ 
 اس نے استغفار کی، اپنے رب سے طلب بخشش کی ، سجدے میں گر گیا اور توبہ کی  (فاستغفر ربه وخر راکعًاواناب)۔ 
 "خر" "خرير" کے مادے سے آواز کے ساتھ بلندی سے گرنے کے معنی میں ہے جیسے بشار کی آواز ہوتی ہے۔ سجده کرنے والے افراد چونکہ بلندی سے نیچھے آتے ہیں اور سجدہ کرتے ہوئے تسبیح کرتے ہیں لہذایہ تعبیر سجدہ کرنے کے لیے کنائے کے طور آئی ہے۔
 "راکعًا" اس آیت میں یاتو اس بنا پر ہے کہ "رکوع" بھی لغت میں سجدے کے معنی میں آیا ہے یا پھراس لیے کہ رکوع سجدے کے مقدمہ ہے۔ 
 بہرحال اللہ نے ان پر اپنا لطف وکرم کیا اور اس ترک اولٰی میں ان کی لغزش کو معاف کر دیا۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں قران کہتا ہے: ہم نے اس کے عمل کو بخش دیا (فغفرنالہ ذالك). 
 اور وہ ہمارے نزدیک عالی مقام اور نیک مستقبل کا حامل ہے (وان له عندنا لزلفي وحسن ماب) 
 "زلفی" کامعنی ہے "مقام" (اور بارگاہ الٰہی میں قرب) اور "حسن ماب" بہشت کی اور اخروی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔  
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     "خلطاء" "خليط" کی جمع ہے۔ اس کامعنی ہے ایسے اشخاص یا ایسے امور سےجو ایک دوسرے سے مخلوط ہیں۔ نیزدوست ، شریک اور ہمسائے پربھی اس کا اطلاق 
ہوتا ہے ظلم وزیادتی اگرچہ صرف ان ہی سے نہیں ہوتی لیکن ان کا خصوصی ذکریا اس بنا پر ہے کہ ایک دوسرےسے میل جول رکھنے سے لین دین کے بہت سے معاملات ہیں آتے رہتے ہیں یا اس بنا پر ہے کہ اپنوں ، دوستوں، عزیزوں اور ہمسایوں سےظلم کی توقع نہیں ہوتی۔ 
  ؎2   جملہ کی ترکیب یوں ہے "هم" مبتداء" قيل" اس کی خبر ہے اور "ما" زئدہ ہے کہ جو یہاں کمی اور قلت کے مبالغے کے لیے آیا ہے۔