سوره صافات / آیه 62 - 70
أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ ۶۲إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِلظَّالِمِينَ ۶۳إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ ۶۴طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ۶۵فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ۶۶ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ۶۷ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ ۶۸إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ ۶۹فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ ۷۰
ذرا بتاؤ کہ یہ ن نعمتیں مہمانی کے واسطے بہتر ہیں یا تھوہڑ کا درخت. جسے ہم نے ظالمین کی آزمائش کے لئے قرار دیا ہے. یہ ایک درخت ہے جوجہّنم کی تہہ سے نکلتا ہے. اس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے شیطانوں کے سر. مگر یہ جہنّمی اسی کو کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے. پھر ان کے پینے کے لئے گرما گرم پانی ہوگا جس میں پیپ وغیرہ کی آمیزش ہوگی. پھر ان سب کا آخری انجام جہّنم ہوگا. انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا تھا. تو ان ہی کے نقش قدم پر بھاگتے چلے گئے.
۶۲۔ اٴَ ذلِکَ خَیْرٌ نُزُلاً اٴَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ ۔
۶۳۔إِنَّا جَعَلْناہا فِتْنَةً لِلظَّالِمینَ ۔
۶۴۔ إِنَّہا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فی اٴَصْلِ الْجَحیمِ ۔
۶۵۔ طَلْعُہا کَاٴَنَّہُ رُؤُسُ الشَّیاطینِ ۔
۶۶۔فَإِنَّہُمْ لَآکِلُونَ مِنْہا فَمالِؤُنَ مِنْہَا الْبُطُونَ ۔
۶۷۔ثُمَّ إِنَّ لَہُمْ عَلَیْہا لَشَوْباً مِنْ حَمیمٍ ۔
۶۸۔ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَإِلَی الْجَحیمِ ۔
۶۹۔ إِنَّہُمْ اٴَلْفَوْا آباء َہُمْ ضالِّینَ ۔
۷۰۔فَہُمْ عَلی آثارِہِمْ یُہْرَعُونَ۔
ترجمہ
۶۲۔کیا یہ (جنت کی جا وداں نعمتیں ) بہتر ہیں یازقوم کا (نفرت انگیز ) درخت ۔
۶۳۔ہم نے اسے ظالموں کے لیے دردورنج کا سبب قرار دیاہے۔
۶۴۔وہ ایسا درخت ہے جو قعر جہنم سے آگتاہے۔
۶۵۔اس کاشگوفہ شیاطین کے سروں کے مانند ہے۔
۶۶۔ وہ ( مُجرم ) اس میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنا پیٹ بھریں گے ۔
۶۷۔پھر اس کے اوپر گرم بدبو دار پانی پئیں گے ۔
۶۸۔پھر ان کی باز گشت جہنم کی طرف ہے۔
۶۹۔کیونکہ انھوں نے اپنے آبا ؤ اجداد کو گمراہ پایا ۔
۷۰۔اس کے باوجود وہ تیزی کے ساتھ انھیں کے پیچھے دوڑ تے ہیں ۔