سوره صافات / آیه 50 - 61
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ۵۰قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ ۵۱يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ ۵۲أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ ۵۳قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ ۵۴فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ۵۵قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ ۵۶وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ۵۷أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ ۵۸إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ۵۹إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۶۰لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ ۶۱
پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال کریں گے. تو ان میں کا ایک کہے گا کہ دار دنیا میں ہمارا ایک ساتھی بھی تھا. وہ کہا کرتا تھا کہ کیاتم بھی قیامت کی تصدیق کرنے والوں میں ہو. کیا جب مرکر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا. کیا تم لوگ بھی اسے دیکھو گے. یہ کہہ کہ نگاہ ڈالی تو اسے بیچ جہّنم میں دیکھا. کہا کہ خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے بھی ہلاک کردیتا. اور میرے پروردگار کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی یہیں حاضر کردیا جاتا. کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم اب مرنے والے نہیں ہیں. سوائے پہلی موت کے اور ہم پر عذاب ہونے والا بھی نہیں ہے. یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے. اسی دن کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے.
۵۰۔فَاٴَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَساء َلُونَ ۔
۵۱۔قالَ قائِلٌ مِنْہُمْ إِنِّی کانَ لی قَرینٌ ۔
۵۲۔ یَقُولُ اٴَ إِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقینَ ۔
۵۳۔ اٴَ إِذا مِتْنا وَ کُنَّا تُراباً وَ عِظاماً اٴَ إِنَّا لَمَدینُونَ ۔
۵۴۔قالَ ہَلْ اٴَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ ۔
۵۵۔فَاطَّلَعَ فَرَآہُ فی سَواء ِ الْجَحیمِ۔
۵۶۔ قالَ تَاللَّہِ إِنْ کِدْتَ لَتُرْدینِ ۔
۵۷ ۔وَ لَوْ لا نِعْمَةُ رَبِّی لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرینَ ۔
۵۸۔اٴَ فَما نَحْنُ بِمَیِّتینَ ۔
۵۹۔ إِلاَّ مَوْتَتَنَا الْاٴُولی وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبینَ ۔
۶۰۔إِنَّ ہذا لَہُوَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ ۔
۶۱۔ لِمِثْلِ ہذا فَلْیَعْمَلِ الْعامِلُونَ۔
ترجمہ
۵۰۔(اس حال میں جبکہ وہ اپنی باتوں میں مگن ہوں گے ) بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں کی طرف رُخ کرکے سوال کریں گے ۔
۵۱۔ان میں سے ایک کہے گا :میراایک ساتھی تھا ۔
۵۲۔جوہمیشہ یہ کہا کرتاتھا : کیا(سچ مُچ) تونے بھی بات کو مان لیا ہے ؟
۵۳۔کہ جب ہم مرجائیں گے اورمٹی اورہڈ یاں ہوجائیں گے تو (دوبارہ ) زندہ کیے جائیں گے اور ہمیں جزا وسزادی جا ئے گی ؟
۵۴۔(اس کے بعد ) کہے گا : کیا تم اس کی کوئی خبرلاسکتے ہو؟
۵۵۔اس موقع پروہ تلاش کرنے لگے گااوراِدھراُدھرنظر دوڑائے گا تواچانک اسے جہنم کے وسط میں دیکھے گا ۔
۵۶۔اسے دیکھ کروہ کہے گا : خدا کی قسم کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی کہ تومجھے بھی جہنم کی طرف کھینچ لے جائے ۔
۵۷۔ اور اگر میرے پر وردگارکی نعمت اوراحسان نہ ہو تا تومیں بھی جہنم میں حاضر کیے جانے والوں میں سے ہوتا ۔
۵۸۔ (اے دوستو! ) کیاہم اب کبھی نہیں مریں گے ( اور دائمی جنت میں رہیں گے ) ؟
۵۹۔اوراس پہلی موت کے سوااب اورکوئی موت ہمارے پاس نہیں آئے گی اورہمیں کبھی سزانہیں دی جائے گی (خدا کی یہ میرے لیے کیسی نعمت ہے )
۶۰۔سچ مچ یہ تو بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔
۶۱۔ہاں ! کوشش کرنے والوں کو ایسی جزا کے لیے کوشش اور عمل کرنا چاہیے ۔