گزشتہ آیات پر ایک نظر
أُولَٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ ۴۱فَوَاكِهُ ۖ وَهُمْ مُكْرَمُونَ ۴۲فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ۴۳عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ۴۴يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ ۴۵بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ ۴۶لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ ۴۷وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ ۴۸كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ ۴۹
کہ ان کے لئے معین رزق ہے. میوے ہیں اور وہ باعزت طریقہ سے رہیں گے. نعمتوں سے بھری ہوئی جنّت میں. آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوئے. ان کے گرد صاف شفاف شراب کا دور چل رہا ہوگا. سفید رنگ کی شراب جس میں پینے والے کو لطف آئے. اس میں نہ کوئی درد سر ہو اور نہ ہوش و حواس گم ہونے پائیں. اور ان کے پاس محدود نظر رکھنے والی کشادہ چشم حوریں ہوں گی. جن کا رنگ و روغن ایسا ہوگا جیسے چھپائے ہوئے انڈے رکھے ہوئے ہوں.
اہل بہشت کے لیے جو طرح طرح کی نعمتیں گزشتہ آیا ت میں بیان ہوئی ہیں وہ مادی و روحانی نعمتوں کامجموعہ ہیں اور جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ پہلی نعمت جو ” اٴُولئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ “ کے سر بستہ جملہ سے معلوم ہوتی ہے ، وہ معنوی و روحانی نعمتوں کے ساتھ مربوط ہے جس کی کسی زبان میں بھی تشریح نہیں کی جاسکتی ۔
لیکن چھ دوسر ے حصّے ِجو جنت کے پھل،شراب طہور،خوبصورت بیویاں، بہت احترام،پاکیزہ مسکن اورلائق ہمنشیں ہیں ، جنت کی نعمتوں کے مختلف جہات کوواضح کرتے ہیں جو غالباًمادی و روحانی نعمتوں کاایک امتزاج ہے۔
لیکن یہ سب کی سب ایسی باتیں ہیں جوہماری زبان میں پیش کی گئی ہیں اوریہ جنت کی نعمتوں کی تمام خصوصیات کومنعکس نہیں کر سکتیں۔
اصولی طورپرجیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں اس کے لیے ایک دوسری زبان ،دوسرے کان دوسرے ادراک اور دوسری نظر کی ضرورت ہے اوراس کے لیے دوسرے ہی الفاظ ،جملہ بندیاں اور گفتگودرکار ہے تاکہ اس حقیقت کو تفصیل کے ساتھ بیان کرسکے . دوسرے لفظوں میں جنّت کی نعمتوں کی اصل حقیقتدنیا والوں سے وہاںجاکر انھیں دیکھے اورحاصل کیے بغیر پوشیدہ رہے۔
بہرحال ” مخلص بندے “اوروہ لوگ جو علم وایمان میں کمال کے مرحلے تک پہنچے ہوئے ہیں، بار گاہِ خداوند ی میں اس قدر عزیز ہیں. کہ ان کے لیے خدا کے الطافِ بے کراں کی توصیف ہوہی نہیں سکتی اورہم جتنا بھی سوچیں اور تصّور میں لائیںوہ اس سے برتر و بالا ہیں ۔