Tafseer e Namoona

Topic

											

									  مخلصین کا اجر وثواب

										
																									
								

Ayat No : 33-40

: الصافات

فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ۳۳إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ ۳۴إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ۳۵وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ ۳۶بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ ۳۷إِنَّكُمْ لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ ۳۸وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۳۹إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ ۴۰

Translation

تو آج کے دن سب ہی عذاب میں برابر کے شریک ہوں گے. اور ہم اسی طرح مجرمین کے ساتھ برتاؤ کیا کرتے ہیں. ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو اکڑ جاتے تھے. اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک مجنون شاعر کی خاطر اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں گے. حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والا تھا. بیشک تم سب دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو. اور تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق ہی بدلہ دیا جائے گا. علاوہ اللہ کے مخلص بندوں کے.

Tafseer

									قرآن کریم کی آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ” مخلص “ زیا دہ “ ترایسے مواقع پر استعما ل ہواہے ،جب انسان تربیّت و اصلاح اورخود سازی کے مرحلوں میں ہوتاہے اورابھی ضروری تکامل وارتقاء کی منزل تک پہنچا ہوانہیں ہوتا . لیکن ” مخلص “ اس مرحلے کے لیے کہاجاتاہے،جب انسان ایک مدّت تک جہاد بالنفس کرنے اورمعرفت وایمان کے مراحل طے کرنے کے بعد اس منزل پر فائز ہوجاتاہے جہاں شیطان کے وسوسوں کے اثر سے محفوظ ہو جاتاہے جیساکہ قرآن ابلیس کے قول کونقل کرتاہے۔
َ فَبِعِزَّتِکَ لَاٴُغْوِیَنَّہُمْ اٴَجْمَعینَ ،إِلاَّ عِبادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصینَ 
تیر ی عزّت کی قسم ! تیرے مخلص بندوں کے سو. میں ان سب کو گمراہ کردوں گا ( ص . ۸۲ ، ۸۳) ۔
یہ جملہ جو بار ہاقرآن کی آیات میں آیا ہے ” مخلصین “ کے مقام کی عظمت کوواضح کرتاہے . یہ یوسف علیہ السلام جیسے صدّیق افراد کا مقام ہے جو عظیم آز مائش کے میدان کوعبور کرتے ہیں : 
کَذلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوء َ وَ الْفَحْشاء َ إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصین
ہم نے یوسف علیہ السلام کو اس طرح سے اپنی برہان دکھائی تاکہ برائی اوربدی کو ہم اس سے دُور کردیں ،کیونکہ وہ ہمار ے مخلص بندوں میں سے تھا ( یوسف .۲۴) ۔
یہ ان لوگوں کامقام ہے جو جہاد اکبرمیں کامیاب ہوجاتے ہیں اورلطفِ پروردگار کاہاتھ ، تمام غیر خالص باتوں کو ان کے وجود سے پاک کردیتاہے اورحوادث کی بھٹی میں وہ اس طرح سے پگھل جاتے ہیں کہ معرفتِ خالص کے سونے کے سواان میں کوئی چیز باقی نہیں رہتی ۔ 
یہ وہ منزل ہے جہان ان کااجر عمل کے معیار پر نہیں ہوتابلکہ خدا کے فضل ورحمت کے معیار پرہوتاہے۔
علامہ طبا طبائی نے اس مقام پر ایک بات کہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ 
خدا زیر بحث آ یت میں فر ماتا ہے تمام لوگ اپنے اعمال کااجر پائیں گے ،خدا کے مخلص بندوں کے سوا۔
کیونکہ وہ اپنی عبودیت کی بنا پر خود کوکسی چیزکامالک نہیں سمجھتے اورجوکچھ خدا چاہتاہے اس کے سوا کسی اور چیز کاارادہ نہیں کرتے اورجس چیز کاوہ مطالبہ کرتاہے اس کے سوا کسی اور چیز کوانجام نہیںدیتے ۔
مخلص ہونے کی بنا پر خدانے انھیں اپنے لیے منتخب کرلیاہے . و ہ اس کی پاک ذات کے سوا کسی اور چیز کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے ۔ 
ان کے دل میں اللہ کے سواکوئی چیز نہیں ہے ، نہ رزق و برق دنیا ہے اورنہ ہی آ خرت کی نعمتوں کاخیال ۔ 
اب یہ بات واضح ہے کہ جوشخص ان صفات کاحامل ہے اس کی لذّت ونعمت اور روزی ایسی چیز ہے جودوسر وں کاحاصل نہیں ہے . جیساکہ 
بعد والی آیت میں بیان ہواہے:
اٴُولئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ
ان کی روزی ایسی خاص اورمخصوص ہے کہ جو دوسروں سے جُدا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ وہ بھی دوسرے اہل بہشت کی طرح بہشت میں زندگی بسر کتے ہیں لیکن ان کا حصّہِ دوسروں کے حصّے کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتا.( وہ خداکی پاک ذات کے جلووں سے باطنی لذّات محظوظ ہوتے ہیں اوران کا دل اس کے پیما نہ ٴ شوق سے لبر یز ہوتاہے اور وہ اس کے عشق ووصال میں غرق ہوتے ہیں ( 1) ۔
 1۔ المیزان ،جلد ۱۷ ،ص ۱۴۱۔