سوره صافات / آیه 33 - 40
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ۳۳إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ ۳۴إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ۳۵وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ ۳۶بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ ۳۷إِنَّكُمْ لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ ۳۸وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۳۹إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ ۴۰
تو آج کے دن سب ہی عذاب میں برابر کے شریک ہوں گے. اور ہم اسی طرح مجرمین کے ساتھ برتاؤ کیا کرتے ہیں. ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو اکڑ جاتے تھے. اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک مجنون شاعر کی خاطر اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں گے. حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والا تھا. بیشک تم سب دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو. اور تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق ہی بدلہ دیا جائے گا. علاوہ اللہ کے مخلص بندوں کے.
۳۳۔ فَإِنَّہُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذابِ مُشْتَرِکُونَ ۔
۳۴۔ إِنَّا کَذلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمینَ ۔
۳۵۔إِنَّہُمْ کانُوا إِذا قیلَ لَہُمْ لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہُ یَسْتَکْبِرُونَ ۔
۳۶۔ وَ یَقُولُونَ اٴَ إِنَّا لَتارِکُوا آلِہَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ ۔
۳۷۔ بَلْ جاء َ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلینَ ۔
۳۸۔ إِنَّکُمْ لَذائِقُوا الْعَذابِ الْاٴَلیمِ ۔
۳۹۔ وَ ما تُجْزَوْنَ إِلاَّ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۔
۴۰۔إِلاَّ عِبادَ اللَّہِ الْمُخْلَصینَ۔
ترجمہ
۳۳۔وہ سب کے سب (گمراہ پیشو اپیر وکار ) اس دن عذاب میں مشترک ہوں گے ۔
۳۴۔ہاں ! ہم مجرموں کے ساتھ ایساہی سلوک کیاکرتے ہیں ۔
۳۵۔کیوکہ جب ان سے ” الا الہ الاّ اللہ “ کہاجاتا تھا تووہ تکبّر کیاکرتے تھے
۳۶۔اورہمیشہ یہی کہتے تھے کہ :کیاہم اپنے خداؤں کو ایک دیوانے شاعر کی خاطر چھوڑ دیں ؟
۳۷۔ (جبکہ ) ایسانہیں ہے ، بلکہ وہ تو حق لے کر آیاہے اوراس نے گزشتہ پیغمبر وں کی تصدیق کی ہے۔
۳۸۔لیکن (دل کے اندھے مستکبر) یقینی طور پر (خدا کے ) درد ناک عذاب کامزہ چکھو گے ۔
۳۹۔ اور جو اعمال تم انجام دیاکرتے تھے بدلہ توتمہیںصرف اسی کا ملے گا ۔
۴۰۔پروردگار کے مخلص بندوں کے سوا ( جواس تمام عذاب اورسزا سے محفوظ رہیں گے ) ۔