۲۔ گمراہ پیشوااور پیرو کا ر
وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ۲۴مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ ۲۵بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ ۲۶وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ۲۷قَالُوا إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ ۲۸قَالُوا بَلْ لَمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ۲۹وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ ۳۰فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ ۳۱فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ ۳۲
اور ذرا ان کو ٹہراؤ کہ ابھی ان سے کچھ سوال کیا جائے گا. اب تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ہو. بلکہ آج تو سب کے سب سر جھکائے ہوئے ہیں. اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال کررہے ہیں. کہتے ہیں کہ تم ہی تو ہو جو ہماری داہنی طرف سے آیا کرتے تھے. وہ کہیں گے کہ نہیں تم خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے. اور ہماری تمہارے اوپر کوئی حکومت نہیں تھی بلکہ تم خود ہی سرکش قوم تھے. اب ہم سب پر خدا کا عذاب ثابت ہوگیا ہے اور سب کو اس کا مزہ چکھنا ہوگا. ہم نے تم کو گمراہ کیا کہ ہم خود ہی گمراہ تھے.
ان آیات میں اورقرآن مجیدکی دوسری آیات میں قیامت کے دن یا جہنم میں گمراہ پیشواؤں اورپیرو کاروں کے آپس میں جھگڑ نے کے با ر ے میں کچھ معنی خیز اشارے کیے گئے ہیں ۔
یہ ان تمام لوگوں کے لیے جواپنی عقل اور دین کو گمراہ بہروں کے اختیار میںدے دیتے ہیں ایک سبق آموز تنبیہ ہے۔
اس دن اگر چہ ہرشخص یہی کوشش کرے گا کہ دوسرے سے براء ت کرے ، یہاں تک کہ اپنا گناہ بھی دوسر ے ہی کی گردن پرڈال دے لیکن اس کے باوجود کوئی بھی اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکے گا ۔
زیربحث آ یات میں ہم نے دیکھاہے کہ گمراہ کرنے والے پیشوااپنے تابعین کوصراحت کے ساتھ کہیں گے کہ تم پرہمارے اثر کااصل سبب خود تمہاری سر کشی ہی تھی ( بَلْ کُنْتُمْ قَوْماً طاغین) ۔
اس سرکشی ہی نے ہماری طرف سے گمراہ کرنے کا میدان ہموار کیااوراسی سے وہ انحرافات جوہم میںپائے جاتے تھے تمہاری طرف منتقل کرنے پر ہم قادر ہوئے (فَاٴَغْوَیْناکُمْ إِنَّا کُنَّا غاوینَ ) ۔
”اغو ا “ ” غی “ کے مادہ سے ہے . اس کے دقیق معنی پر غور کیاجائے تو مطلب اوربھی زیادہ واضح و روشن ہوجاتاہے کیونکہ ” غی “ ” مفردات “ میں ” راغب “کے قول کے مطابق اس جہالت کے معنی میں ہے ، جس کاسرچشمہ فاسد عقیدہ ہو . ہو گمراہ پیشوا عالم ہستی اور زندگی کے حقائق سے بے خبر رہ گئے اوراس جہالت اوراعتقاد وفاسد کو اپنے پیرو کاروں میں منتقل کردیا جوفر مان ِ خدا کے مقابلے میں پہلے ہی سرکش کیے ہوئے تھے ۔
اسی بنا پر وہاں یہ اعتراف کریں گے کہ وہ خود بھی عذاب کے مستحق اوران کے پیرو کارو بھی(فَحَقَّ عَلَیْنا قَوْلُ رَبِّنا إِنَّا لَذائِقُ) ۔
لفظ ” رب “ کاخاص طو ر پرذکر کرنا پُر معنی ہے ، یعنی انسان کامعاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا کہ وہ خدا جوا س کا مالک و مر بیّ ہے اور جوا س کی بھلائی اور نیکی کے سوااور کچھ نہیں چاہتا،اسے اپنے درد ناک عذاب کا مستحق قرار دے دیگا اور یقینا یہ بھی اس کی ربو بیّت کی ایک شان ہے۔