Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ گفتگو کے آداب

										
																									
								

Ayat No : 16-19

: لقمان

يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ۱۶يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ۱۷وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ۱۸وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ۱۹

Translation

بیٹا نیکی یا بدی ایک رائی کے دانہ کے برابر ہو اور کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں پر ہو یا زمینوں کی گہرائیوں میں ہو تو خدا روزِ قیامت ضرور اسے سامنے لائے گا کہ وہ لطیف بھی ہے اور باخبر بھی ہے. بیٹا نماز قائم کرو, نیکیوں کا حکم دو, برائیوں سے منع کرو, اور اس راہ میں جو مصیبت پڑے اس پر صبر کرو کہ یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے. اور خبردار لوگوں کے سامنے اکڑ کر منہ نہ پُھلا لینا اور زمین میں غرور کے ساتھ نہ چلنا کہ خدا اکڑنے والے اور مغرور کو پسند نہیں کرتا ہے. اور اپنی رفتار میں میانہ روی سے کام لینا اور اپنی آواز کو دھیما رکھنا کہ سب سے بدتر آواز گدھے کی آواز ہوتی ہے (جو بلاسبب بھونڈے انداز سے چیختا رہتا ہے.

Tafseer

									لقمان کے پندونصائح میں بات کرنے کے آداب کے ضمن میں اشارہ کیا گیا تھا، اور اسلام میں اس مسئلہ کے لیے ایک وسیع باب کھولا گیا ہے۔ منجملہ اس کے یہ ہے کہ جب تک بات کرنا ضروری نہ ہو تو سکوت بہتر ہے۔ 
ایک حدیث میں امام جعفرصا دق علیہ السلام سے منقول ہے: 
”السکوت راحة للعقل “ ”سکوت ، فکرکے آرام اور راحت کا باعث ہے“۔(1) 
ایک اور حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ : 
”من علا مات الفقہ العلم والحلم والصمت، ان الصمت باب من اٴبواب الحکمة۔ 
”عقل وفہم کی نشانیوں میں سے آگاہی، بردباری اور خاموشی ہے۔ سکوت اور خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے (2) 
لیکن دوسری روایات میں یہ بات بھی زوردے کر کہی گئی ہے کہ : ”جن مو قعوں پر گفتگو کرنا ضروری ہے موٴ من کو کبھی بھی خاموشی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔“ ”پیغمبروں کو بات کرنے کی دعوت دی گئی ہے نا کہ سکوت کی۔“ ”جنّت میں پہنچنے اور دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ بر محل بات کرنا ہے“۔(3)
1۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
2۔وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
3۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.