۲۔ گفتگو کے آداب
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ۱۶يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ۱۷وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ۱۸وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ۱۹
بیٹا نیکی یا بدی ایک رائی کے دانہ کے برابر ہو اور کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں پر ہو یا زمینوں کی گہرائیوں میں ہو تو خدا روزِ قیامت ضرور اسے سامنے لائے گا کہ وہ لطیف بھی ہے اور باخبر بھی ہے. بیٹا نماز قائم کرو, نیکیوں کا حکم دو, برائیوں سے منع کرو, اور اس راہ میں جو مصیبت پڑے اس پر صبر کرو کہ یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے. اور خبردار لوگوں کے سامنے اکڑ کر منہ نہ پُھلا لینا اور زمین میں غرور کے ساتھ نہ چلنا کہ خدا اکڑنے والے اور مغرور کو پسند نہیں کرتا ہے. اور اپنی رفتار میں میانہ روی سے کام لینا اور اپنی آواز کو دھیما رکھنا کہ سب سے بدتر آواز گدھے کی آواز ہوتی ہے (جو بلاسبب بھونڈے انداز سے چیختا رہتا ہے.
لقمان کے پندونصائح میں بات کرنے کے آداب کے ضمن میں اشارہ کیا گیا تھا، اور اسلام میں اس مسئلہ کے لیے ایک وسیع باب کھولا گیا ہے۔ منجملہ اس کے یہ ہے کہ جب تک بات کرنا ضروری نہ ہو تو سکوت بہتر ہے۔
ایک حدیث میں امام جعفرصا دق علیہ السلام سے منقول ہے:
”السکوت راحة للعقل “ ”سکوت ، فکرکے آرام اور راحت کا باعث ہے“۔(1)
ایک اور حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ :
”من علا مات الفقہ العلم والحلم والصمت، ان الصمت باب من اٴبواب الحکمة۔
”عقل وفہم کی نشانیوں میں سے آگاہی، بردباری اور خاموشی ہے۔ سکوت اور خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے (2)
لیکن دوسری روایات میں یہ بات بھی زوردے کر کہی گئی ہے کہ : ”جن مو قعوں پر گفتگو کرنا ضروری ہے موٴ من کو کبھی بھی خاموشی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔“ ”پیغمبروں کو بات کرنے کی دعوت دی گئی ہے نا کہ سکوت کی۔“ ”جنّت میں پہنچنے اور دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ بر محل بات کرنا ہے“۔(3)
1۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
2۔وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
3۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.