Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 6-9

: لقمان

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ۶وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ۷إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتُ النَّعِيمِ ۸خَالِدِينَ فِيهَا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۹

Translation

لوگوں میں ایسا شخص بھی ہے جو مہمل باتوں کو خریدتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ بغیر سمجھے بوجھے لوگوں کو راسِ خدا سے گمراہ کرے اور آیااُ الہٰیہ کا مذاق اڑائے درحقیقت ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے. اور جب اس کے سامنے آیات الہٰیہ کی تلاوت کی جاتی ہے تو اکڑ کر منہ پھیرلیتا ہے جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں ہے اور جیسے اس کے کان میں بہرا پن ہے .ایسے شخص کو درناک عذاب کی بشارت دے دیجئے. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے نعمتوں سے بھری ہوئی جنّت ہے. وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں کہ یہ خدا کا برحق وعدہ ہے اور وہ صاحبِ عزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے.

Tafseer

									بعض مفسرین کہتے ہیں کہ زیر بحث پہلی آیات ”نضر بن حارث “کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، جو ایک تاجر شخص تھا اور تجارت کی عرض سے ایران کا سفر کیا کرتا تھا اور ساتھ ہی ایرانیوں کی داستانیں قریش کے سامنے بیان کیا کرتا تھا ۔اور کہتا تھا کہ اگر محمد (ص) تمھارے سامنے عاد وثمودکی داستانیں بیان کر تاہے تو میں تمھیں رستم اور اسفند یار کے قصے کہانیاں اور کسریٰ اور سلاطین عجم کی خبریں سناتا ہوں چنانچہ وہ اس کے گرد بیٹھ جاتے اور قرآن کو چھوڑ کر اس کی داستانوں کو خوب غور اور کان لگاکر سنتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حصّہ اس کے شخص کے بارے میں نازل ہوا ہے جس نے ایک گویّا لونڈی خرید رکھی تھی جو وہ دن رات گانے گاگاکر اسے یاد خدا سے غافل رکھتی تھی۔
عظیم مفسر طبرسی مرحوم اس شان نزول کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ وہ حدیث جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہے وہ اس نظریے کی تائید کرتی ہے کیونکہ آنحضرت فرماتے ہیں:
”لایحل تعلیم المغنیات ولابیعھن، واثمانھن حرام وقد نزل تصدیق ذلک فی کتاب الله <وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ ....
گانے والی کنیزوں کو تعلیم دنیا اور ان کی خرید وفروخت کرنا اور اس طریقہ سے حاصل کی ہوئی آمدنی سب کچھ حرام ہے اور یہ آیت اسی مطلب پر شاہد ہے: <وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ ....