Tafseer e Namoona

Topic

											

									  وہ دن جب کہ عذر خواہی بے سود ہوگی

										
																									
								

Ayat No : 55-60

: الروم

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ ۵۵وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ ۖ فَهَٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۵۶فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ۵۷وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآيَةٍ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ ۵۸كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۵۹فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ ۶۰

Translation

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرمین قسم کھاکر کہیں گے کہ وہ ایک ساعت سے زیادہ دنیا میں نہیںٹہرے ہیں درحقیقت یہ اسی طرح دنیا میں بھی افترا پردازیاں کیا کرتے تھے. اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ تم لوگ کتاب خدا کے مطابق قیامت کے دن تک ٹہرے رہے تو یہ قیامت کا دن ہے لیکن تم لوگ بے خبر بنے ہوئے ہو. پھر آج ظالموں کو نہ کوئی معذرت فائدہ پہنچائے گی اور نہ ان کی کوئی بات سنی جائے گی. اور ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر آپ ساری نشانیاں لے کر بھی آجائیں تو کافر یہی کہیں گے کہ آپ لوگ صرف اہل ه باطل ہیں. بیشک اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر مہفِ لگادیتا ہے جو علم رکھنے والے نہیں ہیں. لہٰذاآپ صبر سے کام لیں کہ خدا کا وعدہ برحق ہے اور خبردار جو لوگ یقین اس امر کا نہیں رکھتے ہیں وہ آپ کو ہلکانہ بنادیں.

Tafseer

									  تفسیر 
            وہ دن جب کہ عذر خواہی بے سود ہوگی : 
 ہم اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اس سورہ میں "مبداء و معاد" کی بحثیں کپڑے کے تانے بانے کی طرح باہم یک دگر مربوط ہیں ۔ زیر نظر آیات میں مبداء و معاد کی اُن بحثوں پر جو 

قبل انہیں گزر چکی ہیں ، مسئلہ قیامت کا مزید اضافہ کیا گیا ہے اور اس روز مجرموں کا جو دردناک حال ہو گا ، اس کی منظرکشی کی گئی ہے۔ 
 چنانچہ خدا فرماتا ہے کہ : جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ مجرمین قسمیں کھائیں گے کہ ہم تو عالم برزخ میں فقط ایک گھنٹہ 
ہی ربے ہیں : (ویوم تقوم الساعة یقسم المجروون مالبثوا غیرساعة )۔
 البتہ وہ اپنی گزشتہ زندگی میں بھی اسی طرح ادراک حقیقت سے محروم رہے تھے . (كذالك كانوا یوفكون)۔ 
 روز قیاست کو قرآن میں "ساعة" کہا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے کسی ماقبل مقام پر کہا ہے کہ یہ کلمہ یاتو اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ قیامت ایک لحظے میں ناگہانی طور پر آجائے 

گی۔ یا یہ مراد کہ بندوں کے اعمال کا حساب سریح الوقوع ہوگا کیونکہ خدا جلد حساب لینے والا ہے ۔ کلمہ "ساعت " عربي زبان میں زمانے کے ایک خفیف جزء کے لیے بولا جاتا ہے۔ ؎1 
 "مالبشوا غيرساعة" میں مقام توقف کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ " توقف در دنیا  مراد ہے کہ حقیقت میں یہاں کی زندگی ایک لخطہ زود گزر سے زیادہ 

نہیں ہے۔ لیکن آیہ مابعد اس امر کی روشن دلیل ہے کہ "توقف" سے مراد جہان برزخ میں ٹھرنا ہے یعنی وہ عالم مراد ہے جو موت کے بعد اور یوم قیامت کے درمیان ہوگا کیونکہ "لقد لبثتم في كتاب الله 

الى يوم البعث" سے ثابت ہے کہ مقیم اور مقام دونوں کی انتہا روز قیامت تک ہے۔ اس لیے برزخ ہی صحیح ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔ 
 یہ بھی ملحوظ رہے کہ عالم برزخ سب کےلیے یکساں نہ ہوگا ۔ ایک گروہ ایسا ہے جو برزخ میں باشعور زندگی بسرکرتا ہے۔ لیکن دوسرا گروہ ایسا ہے کہ گویا سورہا ہے اور قیامت 

میں خواب سے بیدار ہوگا اور ہزارہا سال کو ایک ساعت سمجھے گا۔ ؎2 
 اس مقام پر دو باتوں کا ذکر اور ضروری ہے۔ اول یہ کہ مجرمین ایسی جھوٹی قسم کیونکر کھالیں گے؟ 
 اس کا جواب بالكل واضح ہے . وہ یہ کہ :- 
 وہ مجرمین درحقیقت یہی سمجھیں گے کہ زمانہ قیام برزخ بہت قلیل تھا کیونکہ اس مقام پر ان کی حالت محو خواب کی طرح ہوگی ۔ مثلًا: 
 اسباب کہف نے جو مومنین اور صالح لوگ تھے طویل خواب سے بیداری کے بعد یہ تصور نہیں کیا تھا کہ وہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہے ہیں ؟ 
 نیز یہ کہ انبیائے ما سلف میں سے ایک نبی (جن کا حال سورہ بقرہ کی آیت 259 میں آیا ہے) جو دنیا سے سفر کرنے کے بعد ایک سو سال کے بعد پھر زندہ ہوگئے تھے ، کیا انھوں نے 

یہ نہیں کہا تھا کہ ان دونوں زندگانیوں کے درمیان فاصلہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     اس مضمون کے متعلق مختصل بحث اسی سورہ روم کی آیت 14 کے تحت کی گئی ہے۔ 
  ؎2     "برزخ" کے متعلق جلد چودہ سورہ مؤمنوں آیت نمبر 100 کے تحت مفصل بحث کی گئی ہے اور اسی آیت جو نکتہ ہے وہ بھی تشریح سے بیان کیا گیا ہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اندریں حال اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ برزخ کی مخصوص حالت کے پیش نظر مجرموں کا تصور بھی بوجہ ناواقفیت ایسا ہی ہو۔
 اسی لیے آیت مابعد میں یہ مضمون ہے کہ مومنین آگاہ ان سے کہیں گے کہ تمہیں غلط فہمی ہے . تم تو برزخ میں روز قیامت تک رہے ہو اور آج ہی وہ روز قیامت ہے۔  
 دوسری بات یہ ہے کہ نکتہ بالا کو پیش نظر رکھتے ہوئے جملہ "كذالك كانوا يؤفكون" کی تفسیر بھی واضح ہوجاتی ہے۔ کیونکہ کلمہ "افک" کے وضعی معنی حقیقت کو دگرگوں کرنا اور 

حق سے منحرف ہونے کے ہیں ۔ یہ مجرمین بھی برزخ میں اپنی وضع کی وجہ سے ، حقیقت کا ادراک نہ کرسکیں گے اور انھیں اس مقام پر مدت قیام کا اندازہ ہی نہ ہوگا۔ 
 وہ مطالب جوہم ہے سطور بالا میں بیان کیے ان کو نظر میں رکھا جائے تو ان طولانی بحثوں نے اعتناکی ضرورت نہیں ہے۔ جو انھوں نے اس امر کو موضوع قرار دے کرکی ہیں کہ " 

مجرمین بروز قیامت عمدًا جھوٹ کیوں بولیں گے"؟ 
 کیونکہ آیت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے " دروغ عمدی" ثابت ہو۔ 
 البتہ قرآن میں بروز قیامت مجرمین کے دروغ و کذب کا ذکر بھی نظر آتا ہے ۔ جس کا مفصتل جواب ہم نے جلد پنجم میں سورہ انعام کی آیت 23 کے تحت دیا ہے۔ دیگر یہ کہ اس بحث 

کا ان آیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 
 آیت مابعد میں اس جواب کا ذکر ہے جو حق آگاہ مومنین آن مجرمین کو دیں گے جو عالم برزخ اور قیامت کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں ۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے ، وہ لوگ کہ جنھیں علم و 

ایمان دیا گیا ہے کہیں گے کہ تم لوگ کہ خدا کے مطابق روز قيامت عالم برزخ میں رہے ہو اور آج روز قیامت اور قبروں سے اٹھنے کا دن ہے مگر تم اس حقیقت کو جانتے تھے۔وقال الذين أوتوا العلم 

والايمان لقد لبثتم في كتاب الله الى يوم البعث فهذا يوم البعث ولكنکم كنتم لاتعلون) 
 اس آیت میں کلمہ "علم" کو "ایمان" پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علم ہی اساس ایمان بے۔ 
 دیگر یہ کہ " في كتاب الله " سے ممکن ہے کہ "کتاب تکوینی"  مراد ہو یا کتب آسمانی مراد ہوں یا دونوں مراد ہوں۔ 
 یعنی خدا کے تکوینی اور تشریعی حکم کے مطابق یہ مقدر تھا کہ تم اتنی مدت برزخ میں رہو ۔ اس کے بعد تم بروز قیامت محشور ہو۔ ؎1
 اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ " الذين أولوالعلم والايمان" کا مصداق کون لوگ ہیں ؟ 
 بعض مفسرین نے اس سے فرشتے مراد لیے ہیں ۔ جو مسلم اور ایمان دونوں رکھتے ہیں اور ایک دوسری جماعت نے 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    آیا اس آیت کے کلمات کی نسبت میں تقدیم وتاخیر ہے؟  اس بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ في كتاب الله جملہ "اوتوالعلم والايمان" سے متعلق ہے، تب معنی 

یہ ہوں گے کہ : جو لوگ کہ کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ یہ بات کہنے ہیں مگر بعض مفسرین جملہ  مذکور کو "لبنم متعلق سمجھتے ہیں، ہم نے بھی سطور بالا میں یہی 

مفہوم مراد لیا ہے ۔ کیونکہ تقتدیم و تاخیر کے لیے کوئی واضح قرینہ ہونا چاہیئے اور اس مقام پر کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
مومنین حق آگاه مراد لیےہیں۔ ہمارے نزدیک دوسرے معنی زیادہ واضح ہیں۔ 
 بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ " الذين اوتوالعلم والايمان" سے امیر المونین حضرت علی علیہ السلام اور آئمہ طاہرین مراد ہیں ۔ اس تفسیر میں جن ذوات کو آیت کا مصداق 

ٹھہرایا گیا ہے وہ اس کا روشن مصداق ہیں۔ مگر اس سے آیت کا وسیع مفہوم و مخدود نہیں ہوجاتا۔ 
 اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ عالم برزخ  کے متعلیق دو گروہوں میں وجہ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ گروہ اول جو عالم برزخ میں وقت قیام کو 

صرف ایک ساعت سمجھتا ہے ، وہ عذاب الٰہی کا خوف ہے اور یہ خواہش رکھتا ہے کہ جتنی بھی زیادہ دیر ہوجائے اچھا ہے اور دوسرا گروہ جو طول وقت کی حقیقت سے آگاہ ہے وه چونکہ بہشت 

اور اس کی جادوانی نعمتوں کا منتظر ہے اسے یہ مدت قیام بہت طویل معلوم ہوتی ہے۔ ؎1
 بہرحال جس وقت مجرمین یہ دیکھیں گے کہ روز قیامت کے درد ناک عواقب ان کے روبرو ہیں تو وہ عذر خواہی اور توبہ کرنے لگیں گے۔ لیکن ـــــ قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ : اس 

روز ظالموں کو ان کی عذر خواہی کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی ۔ ( فيومئذٍ لا ينفع الذين ظلموا معذرتھم ولا ھم يستعتبون)۔ ؎2 
 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کی بعض آیات میں بہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ مجرموں کو عذر خواہی کی اجازت پر ہرگزنہیں دی جائے گی : ولا يؤذن لھم فیعتذرون  (مرسلات 

- 32) 
 لیکن اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے : ان کی عزر خواہی کچھ مفید نہ ہوگی ۔ اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عذر خواہی توکریں گے مگر میں اس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ 
 ان آیات میں کچھ تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ قیامت کے مختلف مراحل ہوں گے۔ کسی ایک مرحلے میں ان مجرمین کو عذر خواہی اور بولنے کی ہرگز اجازت نہ ہوگی اور ان کے منہ مہر 

لگا دی جائے گی ۔ البتہ ان کے دست و پا ، اعضا و جوارح اور وه زمین جس پر انھوں نے گناہ کیا ہے ان کے اعمال کا حال بیان کریں گے ۔ لیکن دوسرے مرحلے میں ان کی زبان کھل جائے گی اور 

عذرخواہی کرنے لگیں گے۔ مگر بے سود ۔ 
 ان کا عذر یہ ہوگا کہ اپنے گناہوں کو کفر و نفاق کے آئمہ ضلالت کے سر تھوپیں گے اور ان سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مؤمن ہوتے"۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      تفسیر فخررازی ، زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔ 
  ؎2     "يستعنبون"  کا ماده عتب " (بروزن "حتم" ہے۔ اس کے وضعی معنی ولی بے چینی کے ہیں۔ جب یہ میں کلمہ باب افعال میں آتا ہے(الحتاب) تو اس معنی بے چینی کو دور کرنے کے ہوجاتے 

ہیں "لسان العرب" میں یہ تصریح ہے  کہ جب یہ کلمہ استفعال (استعتاب) میں جاۓ تب بھی اس کے معنی ولی بے چینی کو دور کرتے ہی ہیں اس کے مجازی معنی "استرضا " یعنی کسی کی رضاطلب 

کرنے اور توبہ کرنے کے ہیں اور آیت زیر بحث میں انہی معنی میں استعمال ہواهے ۔ یعنی مجرمین قیامت میں توبہ نہ کرسکیں گے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 سورۂ سبا آیت 31: 
  لولا انتم لكنا مؤمنين 
  لیکن وہ آئمہ ضلالت ان کے جواب میں کہیں گے : 
  انحن صدد ناكم عن الهدی بعد اذ جاء کم 
  کیا ہم نے تمہیں اس وقت ہدایت سے روک دیا تھا جب وہ تمہارے قریب 
  آگئی تھی اور تم اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے؟ (سبا - 32) 
 یہ مجرمین کبھی اپنی عذر خواہی میں کوشش کرتے ہوئے راہ راست سے اپنے انحراف کو شیطان کے سرتھوپیں گے اور اس نے ان کے دل میں جو وسوسے ڈالے ہیں ان پر اسے 

ملامت کریں گے ۔ مگر ابلیس میں انھیں یہ جواب دے گا : 
  فلاتلو مونی ولو موا انفسكم 
  تم مجھے ہیں بلکہ اپنے نفوس کو ملامت کرو . ( ابراہیم - 22) 
 میں نے تمہیں کسی کام پر مجبور تو نہیں کیا تھا ۔ میں نے توتمہیں صرف دوستان دعوت دی تھی ۔ اور ۔ تم نے اسے قبول کرلیا۔ 
 اگلی آیت میں ان تمام - مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا هے جو اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں ۔ چنانچہ خداوند عالم فرماتاہے : ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہرقسم کی مثالیں بیان کی 

ہیں (مثلًا وعده و وعید ، امرونہي ، بشارت و انذار ، آیات آفاق و انفس ، دلائل مبدا و معاد اور غیب کی خبریں حاصل کلام یہ کہ قران میں ہر اس بات کا ذکر ہے جس کا انساني نفوس پراثرہوسکتاہے) )

ولقد ضربنا للناس في هذا القران من كل مثل)۔ 
 درحقیقت قران كليةً اور بالخصوص سورۃ روم کہ ہم جس کی تفسیر اختتام کے مرحلے میں ہیں ، ایسے مائل کا مجموعہ ہے جو انسانوں کے ہر طبقہ اور ہر گروہ اورہرطرز فکر اور ہر 

عقیدے کے لوگوں کو بیدار کرنے والے ہیں۔ 
 قرآن ــــــــ درس ہائے عبرت ، مسائل اخلاقی عملی پروگرام اور امور اعتقادی کا ایسا مجموعہ ہے جس میں ہی مسائل اس اسلوب سے بیان کیے گئے ہیں ٓکہ وہ ہر ممکن طریقے سے 

فکرانسانی میں نفوذ کر جائیں اور انھیں راہ سعادت پر گامزن کردیں ۔ 
 مگر اس کے باوجود اس گروہ ایسا ہے کہ ان تاریک اور سیاه دلوں پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ لہذا تم ان کے سامنے جو آیت اور حق کی نشانی بھی پیش کروگے تو یہ کفارکہیں 

گے کہ تم اہل باطل ہو اور تم جو کچھ کہتے ہو بے بنیاد باتیں ہیں : (ولئن جئتھم باية ليقولن الذين كفروا أن انتم الامبطلون)۔ 
 آیت میں کلمہ " مبطلون" ایک جامع لفظ ہے جس میں مشرکین کے تمام ناروا الزامات تہمتیں اور لیبل شامل ہیں مثلاً : دروغ ، سحر اور جنون کا اتہام ، کلام الٰہی کو خرافاتی افسانے اور 

اساطیر الاولین کہنا. یہ جملہ امور باطل اس ایک کلمہ میں جمع ہیں
 یہ مسلم ہے کفار کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ پیمبران خدا کو ان اتہامات میں سے کسی ایک سے متہم کرتے ہیں تاکہ چند روز میں اس وسیلے سے پاک دل لوگوں کو حق سے غافل 

رکھ سکیں۔ 
 آیت میں کلمہ " انتم" ضمیر جمع استعمال ہوئی ہے. ممکن ہے کہ اس سے پیمبر اور راست باز مومنین ہردو مراد ہوں اور ممکن ہے کہ جملہ انبیاء ، پیشوایان الٰہی اور طرفداران حق 

مراد ہوں ، کیونکہ کفار کا ہٹ دھرم گروه تو مکتب دین کے تمام طرف داروں ہی کا مخالف تھا۔ 
 آیہ مابعد میں اس گروہ کی مخالفت حق کی وجہ بالوضاحت بیان کی گئی ہے ۔ گروہ کفار کی خیرہ سری ۔ ان کے قلب کا قبول حق سے گریز اور ہر حقیقت دشمنی اس وجہ سے ہے کہ 

کثرت گناہ اور کج فکری کی وجہ سے ان کی حس قبول حق و امتیاز مردہ ہوگئی ہے ، اب ان کو کسی طرح بھی ادراک حقیقت ہوتاہی نہیں ہے۔ 
 خدا ایسے لوگوں کے دلوں پر جو علم و آگاہی نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے ، (كذالك يطبع الله على قلوب الذين لا يعلمون)۔ 
 کلمہ "يطبع " کا مادہ "طبع " ہے. اس کے معنی ہیں مہر لگانا۔ 
 یہ دستور پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے کہ ہم کسی شے کو اس طرح محفوظ کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی اسے نہ چھوے اوراس میں مطلقًا تصرف نہ کرے تو اگر اسے کسی کپڑے میں 

سیے یاکاغذ میں لپیٹتے ہیں تو اس کے جوڑ پر اور اگر صندوق میں بند کرتے ہیں تو قفل پر لاکھ سے مہر لگا دیتے ہیں۔ یہ امر بدیہی ہے کہ اس بنڈل یا صندوق کو بغبر مہر توڑے کھولنا ممکن نہیں ہے 

۔ اور اگر مہرتوڑی جاۓ گی تو فورًا بات کھل جائے گی۔  
 قرآن میں ایسے قلوب کی حالت کو جن میں قبول حق کی صلاحیت ہی نہیں رہی اور ایسے لوگوں کی کیفیت ہے جن میں نہ عقل ہے ، نہ علم ، نہ وجدان نیز جن کے ہدایت یافتہ ہونے 

کی کوئی توقع ہی نہیں رہی بطور کنایہ مہرکردہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
 یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیات گزشتہ میں علم کو ایمان کی اساس کام کہا گیا ہے اور اس آیت میں جہل کو کفر اور عدم قبول حق کی بنیاد قراردیا  گیا ہے۔
 سورہ روم کی آخری آیت میں(جو زیر بحث آیات میں سے آخری آیت بھی ہے) پیمبرگرامی اسلامؐ کو دو اہم احکام اور ایک عظیم بشارت دی گئی ۔ تاکہ آں جناب کو اس جنگ و پیکار میں 

جو اس زمانہ میں جاہل ، بے خرو اور سنگ دماغ کفار سے مسلسل جاری تھی ، استقامت اور استقلال عطا ہو ۔ 
 پہلا حکم یہ ہے کہ آپ جملہ حوادث ، تمام آزار و زحمات اور ہر قسم کی ناروا تہمتوں کے مقابلے میں صبر کیجئے (فاصبر)۔ 
 کیونکہ صبر و شکیبائی اور استقامت ہی کامیابی کی اصلی کلید ہے ۔ اور اس غرض سے کہ پیمبراکرم تبلیغ اسلامؐ کی راہ میں زیادہ سرگرم  ہوجائیں اضافہ کیا گیا ہے : خدا کا وعدہ یقینًا 

حق ہے  (ان وعد الله حق )۔ 
  خدا فرماتا ہے کہ ہم نے آپ سے اور مومنین سے فتح و کامرانی ، زمین کی خلافت اور کفر پراسلام کے غلبے کا وعدہ کیا ہےاور یہ کہا ہے کہ نور کو ظلمت پر اور علم کو جہل پر 

غلبہ حاصل ہوگا۔ 
 اس مقام پر کلمہ "وعدہ" سے مراد وہ وعدے ہیں تو قرآن میں مومنین کیفیت کی فتح یابی کے بارے میں بار بار کیے گئے ہیں۔ من جملہ ان کے ہم اسی سورہ کی آیت 47 میں پڑھتے 

ہیں : 
  وكان حقًا علينا نصر المؤمنین 
  مومنین کی مدد کرنا ہمیشہ ہم پر فرض رہا ہے اور ہے۔
 اسی طرح سوره مومن کی آیت 51 میں ہے :- 
  آتالنصر رسلنا والذین امنوا في الحياة الدنيا ویوم  یقوم الاشهاد 
  ہم اپنے رسولوں اور مومنین کی اس دنیا کی زندگی میں اور روز قیامت جب کہ گواہ 
  پیش ہوں گے مدد کریں گے۔
 نیز سورہ مائدہ کی آیت 52 میں ہے : 
  فان حزب الله هم الغالبون 
  بھ تحقیق حزب خدا ہی فتح مند ہے  
 دوسرا حکم الٰہی یہ ہے کہ آپ کفارسے اس سخت اور مسلسل جنگ میں اپنے اعصاب پر قابو رکھیں اور طبیعت کی متانت اور اطمینان قلب کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔ چنانچہ 

فرمایا گیا ہے : جو لوگ ایمان نہیں رکھتے وہ تمیں غصہ ور اور تند خود نہ بنا دیں . (ولایستخفنك الذين لا يوقنون )- 
 اس قسم کے لوگوں کے مقابلے میں آپ کا فرض بردباری ، تحمل ، حوصلہ اور حفظ متانت ہے کہ جو ایک پیمبر کے شایان شان ہے۔ "لايستخفنک"  کا مادہ خفت ہے بمعنی "سبکی"۔ 
 رسول کریمؐ کو ہدایت ہے کہ آپ اس قدر ثابت قدم اور خود دار رہیں کہ یہ لوگ آپ کو سبک نہ سمجھنے لگیں اور آپ کو اپنے کا مقصد کی راہ سے ہٹانہ سکیں۔ آپ اپنی راہ نصب العین 

میں محکم اور استوار رہیئے ۔ کیونکہ وہ لوگ تو یقین نہیں رکھتے اور آپ یقین و ایمان کا مرکز ہیں۔ 
 اس سورہ کے مومنین کی دشمنوں پر فتح کے وعدے سے آغاز ہوا تھا اور کامیابی کے وعدے ہی پر اس کا اختتام ہوتا ہے مگر اس فتح مبین کی شرط اصلی رسولؐ اور مومنین کا صبرو 

استقامت بیان کی گئی ہے 
 پروردگارا تو ہمیں بھی ایسا صبر اور استقامت عطا کرکہ مشکلات و حوادث کے طوفان ہمارے استقلال میں خلل انداز نہ ہو سکیں۔ 
 خداوندا - ہم تیری ہی ذات پاک کے دامن تحفظ میں پناہ لیتے ہیں ۔ 
  تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہمارا شمار ان لوگوں میں سوجن پی سی ونظر ، نمیت، عبرت اور خولیت کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ 
 بارالها ـــــــ دشمن باہم مربوط اور متحد ہیں اور طرح طرح کے شیطانی اسلحے سے مسلح ہیں ۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں بیرونی دشمنوں اور اندرون شیطانوں پر فتح عنایت کر۔ آمین 

- یارب العالمین . 
 سورہ روم کی تفسیر اور تفسیر نمونہ کی جلد 16 کا اختتام ہوتا ہے. 
    21 ذیقعدہ 1403 ہجری
 تفسیر نمونہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  جلد 16 
 کے ترجمے کا اختتام ـــــــــــــــــــــــــ 
 اس حقیر پر تقصیر ــــــــــــــــــــــــــــ سید صفدرحسین نجفی فرزند سیدغلام سرور نقوی مرحوم کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوا ۔ 
 بروز ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جمعہ 
 بوقت ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ساڑھے دس بجے صبح 
 بتاریخ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  8رببع الثانی  1406ہجری 
 بمطابق ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 20 دسمبر 1985  عیسوی 
 برمکان ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ سیٹھ نوازش علی - 81- ای 
   (ان کے بیٹے رضا موسٰی کی شادی خاتہ آبادی کے روز) 
  والحمد لله اولا و أخرا و الصلوة على النبي واله سرمدًا ابدًا 
     سید صفدر حسین نجفی