مردے اور بہرے تیری بات میں سنتے
وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِهِ يَكْفُرُونَ ۵۱فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ ۵۲وَمَا أَنْتَ بِهَادِ الْعُمْيِ عَنْ ضَلَالَتِهِمْ ۖ إِنْ تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ ۵۳اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ ۵۴
اور اگر ہم زہریلی ہوا چلا دیتے اور یہ ہر طرف موسم خزاں جیسی زردی دیکھ لیتے تو بالکل ہی کفر اختیار کرلیتے. تو آپ مفِدوں کو اپنی آواز نہیں سناسکتے ہیں اور بہروں کو بھی نہیں سناسکتے ہیں جب وہ منہ پھیر کر چل دیں. اور آپ اندھوں کو بھی ان کی گمراہی سے ہدایت نہیں کرسکتے ہیں آپ تو صرف ان لوگوں کو سناسکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان ہیں. اللرُ ہی وہ ہے جس نے تم سب کو کمزوری سے پیدا کیا ہے اور پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا کی ہے اور پھر طاقت کے بعد کمزوری اور ضعیفی قرار دی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے کہ وہ صاحب هعلم بھی ہے اور صاحب قدرت بھی ہے.
تفسیر
مردے اور بہرے تیری بات میں سنتے :
از بسکہ گزشتہ آیات میں بابرکت ہواؤں کا ذکر تھا جو پر برکت بارشوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں مگر زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت میں زیاں رساں ہواؤں کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں
خدا فرماتا ہے اگر ہم ہوا بھیجیں (کہ جو گرم اور جلادینے والی اور جھلسادینے والی ہویا سرد خشک ہو) اور اس کے اثرسے یہ لوگ اپنے باغات اور زراعت کو زرد اور پژمردہ دیکھیں تونا شکرگزاری
کرنے لگتے ہیں اور اس روش پر قائم رہتے ہیں : ( ولئن ارسلناریحا فرأوه مصفرا الظلوامن بعده يكفرون).
یہ لوگ کم ظرف ہیں ۔ ان کا حال یہ ہے کہ نزول باراں تے قبل مایوس اور شکستہ خاطر ہوتے ہیں اور جب مینہ برس جاتا ہے تو بہت خوش ہوتے ہیں ۔ اور اگر کسی دن تو چلنے لگے
اور وقتی طور پر وہ اذیت میں مبتلا ہوجائیں تو فریاد کرنے لگتے ہیں اور خدا کی شکایت کرنے لگاتے ہیں۔
اس کے برعکس راست باز مومنین کا یہ حال ہے کہ جب انہیں خدا کی کوئی نعمت ملتی ہے تو شکر کرتے ہیں اور مصیبتوں میں صبر کرتے ہیں ۔ مادی زندگی کے نشیب و فراز سے
ان کے ایمان میں ذره بھرخلل نہیں پڑتا۔ اور ضعیف الایمان کور دلوں کی طرح ہوا کے ایک موافق جھونکے سے مومن اور دوسرے مخالف جھونکے سے کافر نہیں ہوجاتے۔
کلمہ " مصفرا" کا مادہ "صفره " ( بوزن "سفرہ") ہے۔ اس کے معنی زرد رنگ کے ہیں ۔ بعض مفسرین کے و نزدیک "راؤہ" کی ضمیر کا مرجع درخت اور گھاسیں ہیں جو مضرت رساں
ہوائیں چلنے سے بہت جلد پژمردہ اور ذرد ہوجاتی ہیں۔
بعض مفسرین یہ خیال ہے کہ "رأوه" کی ضمیر کا مرجع ابر ہے کیونکہ زرد رنگ کے بادل نازک ہوتے ہیں تو برستے نہیں ہیں ۔ ان کے برخلاف کالے اور گھنے بال خوب برستے ہیں۔
بعض مفسرین اس ضمیر کا مرجع "ريح" (ہوا) کرتے ہیں کیونکہ معمول کی ہوئیں تو بے رنگ ہوتی ہیں لیکن باد سموم جو بیابان کے گرد و غبار بھی اپنے ساتھ اڑا لاتی ہے، زرد رنگ کی
ہواتی ہے.
اس مقام پر ایک اور احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ کلمہ " مصفر“ کے معنی "خالی" بھی ہیں ۔ جیساکہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے کہ خالی برتن ، غذا سے خالی پیٹ ، خون
سے خالی رگوں کو "صفر" (بروزن "سفر") کہتے ہیں۔ بنا برایں "مصفر" کا معنی وہ وائیں جو بارش سے خالی ہوں۔
اس صورت میں "رأوه" کی ضمیر کا مرجع "ریح" (ہوا) ہے (یہ مقام غور طلب ہے)۔ ہمارے خیال میں تفسیر اول سب سے زیادہ مشہور ہے۔
اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ برسنے والی اور مفید ہواؤں کے لیے "ریاح" کلمہ جمع استعمال ہوا ہے. لیکن زیاں رساں ہوا کے لیے کلمہ مفرد "ریح" آیا ہے۔
اس کی یہ وجہ ہے کہ اکثر ہوائیں مفید ہی ہوتی ہیں اور باد سموم کبھی کبھی مہینوں یا سالوں میں ایک مرتبہ چلتی ہے. لیکن مفید ہوائیں تو ہمیشہ چلتی ہی رہتی ہیں۔
یا ممکن ہے کہ "ریاح" بصورت جمع اس لیے استعمال کیا گیا ہوکہ مفید ہواؤں کا اس صورت میں منفی اثر ہوتا ہے کہ پے درپے چلتی رہتی ہیں ۔ جب کہ مضر ہوا ایک ہی مرتبہ چل کر
اپنا تباہ کن اثر چھوڑ جاتی ہے.
اس آیت کے ذیل میں ایک آخری نکته قابل ذکر یہ ہے کہ آیت نمبر 48 میں کلمہ " يستبشرون" جو نفع بخش ہواؤں کے ذکر میں استعمال ہوا ہے اور جملہ "لظلوا من بعده يكفرون" (اس
کے بعد وہ اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں) اس آیت میں آیا ہے۔ ان دونوں کا فرق قابل لحاظ ہے۔
ان کلمات کے استعمال میں جو تفاوت ہے اس سے ثابت ہے کہ ایسے بندے بھی ہیں کہ جب وہ خدا کی پے درپے نعمتوں کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں لیکن اگر وہ ایک دن کے
لیے یا صرف ایک بار کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائیں تو شکایت کرنے اور رونے دھونے لگتے ہیں اور کفر کی طرف اس طرح مائل ہوجاتے ہیں ۔ گویا انھوں نے کبھی اسے چھوڑا ہی نہ تھا۔
ان لوگوں کی مثال ایسے افراد کی سی ہے کہ جو ساری عمر صحت مند اور سلامتی سے رہتے ہیں ۔ مگر ــــ کبھی خدا کا شکر ادا نہیں کرتے۔ لیکن ـــــــ اگر کبھی ایک رات کے تیز
بخار میں مبتلا ہوجائیں تو جو کفر اور ان کی بھی ان کی زبان پرآتی ہے ، بکتے رہتے ہیں اور بے دانش اور ضعیف الایمان لوگوں کا یہی حال ہے۔
اس موضوع پر ہم نے اسی سورت کی آیت 35 اور سورہ ہود کی آیت 9، 10 اور سورہ حج کی آیت 11 کے ذیل میں بھی بحث کی ہے۔
اس کے بعد کی دو آیات میں آیت ماقبل کے مضمون کی مناسبت سے انسانوں کو چار گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے
اول : وہ لوگ جو اگرچہ جسمانی اعتبار سے زندہ نہیں لیکن باعتبار قلب و روح مردہ ہیں کروه اور ادراک حقائق سے قاصر ہیں ,
دوم : وہ لوگ کہ ان کے کان تو ہیں مگروہ کلمۃالحق سننا نہیں چاہتے ۔
سوم : وہ گروہ جن کی آنکھیں چہرہ حق کو دیکھنے سے محروم ہیں
چهارم : راست باز مومنین کا گروه جودلہائی دانا ، گوشہای شنوا اور چشم ہائے بینا رکھتے ہیں ،
پہلی بات یہ کہی ہے کہ : اپنی حق باتیں مردوں کو نہیں سنا سکتے اور جن کے قلب مردہ ہوچکے ہیں ان پر تمہاری نصیحتوں کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا۔ ( فانك لا تسمع الموتی )۔
نیز یہ کہ "تم اپنی بات بہروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔ بالخصوص اس وقت کہ جب وہ کلمہ حق سننے سے پشت پھیرلیں" (ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین ).
اسی طرح تمهارے امکان میں یہ بھی نہیں کہ تم اندھوں کو گمراہی سے نکال کر راه راست کی ہدایت کرو (وما انت بهادي العمى عن ضلالتهم )۔
تم اپنے کلمات حق صرف ان لوگوں کے کانوں تک پہنچا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں: (ان تسمع الا من يؤمن با یاتنا
فیرمسلمون )۔
جس طرح کہ ہم نے اس سے قبل بھی کسی مقام پر کہا ہے کہ قرآن مادی حیات و مرگ اور ــــــــ ظاہری بینائی اورسماعت کے علاوہ ایک برتر حیات و مرگ اور دید و شنید کا قائل ہے
کہ انسان کی سعادت اور بدبختی کا انحصار ان آخر الذکر حواس باطنی پر ہے۔
جس شخص کا دل بیدار ہے اس کی نظر مادی اور جسمانی فوائد پر نہیں رہتی بلکہ اس کا نقطہ نگاہ روحانی اور معنوی ہوتا ہے۔
ادراک حقیقت کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ انسان کا قلب آماده تر اور اس کی آنکھ بینا اور کان سننے والے ہوں۔
اگر کسی شخص کا دل کثرت گناه ، دماغ کی سنگینی اور غرور کی وجہ سے مردہ اور اس کی روح خوابیدہ ہو چکی ہے اور اس میں ادراک حقیقت اور امتیاز حق و باطل کی استعداد ہی
نہیں رہی ، تو اگر تمام انبیاء اور اولیاء بھی جمع ہوکر تمام آیات الٰہی اسے سنائیں تو اس پر کچھ بھی اثر ہوگا۔
اگر قرآن میں حواس خمسہ میں سے صرف دو حواس ظاہر کا اور قوت ادراک کا ذکر ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عالم خارجی سے جو معلومات حاصل کرتا ہے ان کا
بیشتر حصہ ان ہی دو حواس ( بصارت و سماعت) یا وجدان اور تحلیل عقل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے.
یہ امر توجہ طلب ہے کہ آیات بالا میں راہ راست سے انحراف اور عدم ادراک حقیقت کے تین مراحل بیان کیے گئے
ہیں جن میں سے مرحله اول یعنی حالت مرگ شدید ہے اور مرحله سوم یعنی نابینائی خفیف ہے۔
مرحله اول : "دل کی موت" ہے کہ قرآن میں مردہ دل لوگوں کور "موتی" کہا گیا ہے کہ ان کے اندر حق کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔
مرحله دوم : "عدم سماعت" ہے۔ بالخصوص وہ بہرے کہ جنھوں نے کلمۃ الحق سے روگردانی کرلی ہے اور دور بھاگ رہے ہیں ۔ ان کی گراں کوشی کا یہ حال ہے کہ نزدیک کی شدید
چیخ پکار ان کے کانوں پر جس کے اثر ہونے کا امکان ہوسکتا تھا ان پر اس کا بھی اثر نہیں ہوتا۔
البتہ ان بہروں کا گروہ مردوں کے مانند نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کبھی علامت یا اشارے سے انھیں کوئی بات سمجھائی جاسکے۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے حقائق ایسے
ہیں کہ انھیں ایما و اشارہ سے سمجھایا نہیں جاسکتا۔ بالخصوص اس حالت میں کہ مخاطب پشت پھیرلے۔
مرحله سوم : عدم ابصارت (نابینائی) ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اندھوں کے ساتھ ، مردوں کی نسبت ، زندگی بسر کرنا آسان تر ہے کیونکہ کم از کم ان کے کان تو کھلے ہوتے ہیں اور ان
کے سامنے بہت سے مطالب بیان کیے جاسکتے ہیں۔ مگر ـــــــــــ پھربھی:
دیکھنا اور سنا برابر تو نہیں ۔
عالاوہ بریں اندھے کے سامنے کسی شے کی کیفیت کا بیان کر دینا ہی کافی نہیں کیونکہ مادی اشیا کی حقیقت ان کے دیکھے بغیر سمجھ میں نہیں آتی. بعض بسيط تصورات کا بھی یہی
حال ہے۔ مثلا اندھے سے کہا جائے کہ دائیں نہیں یا بائیں طرف چلو تو اس حکم پر عمل کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات معمولی سی غلطی سے وہ کسی گڑھے میں جا گرے گا۔
قرآن مجید میں "موت و حیات" کا جو تصورہے نے اسے سورہ نحل کی آیات 80 اور 81 کے تحت بالتشریح بیان کیا ہے ۔ اور وہابیوں کے اس کمزور اعتراض کا ذکر بھی کیا ہے۔
جو وه پیغمبراکرمؐ اور آئمہؑ سے توسل کے خلاف ان آیات زیر بحث اور دیگر آیات کے حوالے سے کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان آیات سے ثابت ہے کہ مردے مطلقًا کچھ نہیں سمجھتے مگر ثابت ہم
نے ثابت کیا ہے کہ انسان اور خصوصًا پیشوایان بزرگ اس دنیا سے سفر کرنے کے ایک "برزخی زندگی" گزرتے ہیں۔ قرآن اور احادیث کی بہت سی اسناد اس پر گواہ ہیں اور حیات برزخی میں ان کی
استعداد ادراک و بصیرت حیات دنیاوی کی نسبت وسیع تر ہوجاتی ہے
(مزید توضیح کے لیے جلد 15 میں آیات مذکورہ کے ذیل میں ملاحظہ فرمایئے)۔
اس مقام پر ہمیں اس جملے کا اضافہ بھی کرنا چاہیئے کہ تمام مسلمان اپنی نمازوں میں تشہد پڑھتے وقت پیغمبرگرامیؐ کومخاطب کرکے ان پر ان الفاظ سے سلام کہتے ہیں: السلام عليك
ايها النبي ورحمة الله و بركاته"۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ تخاطب حقیقی سے نہ کہ مجازی اور سلام اس ذات کے لیے ہے جو سنتی اور ادراک کرتی ہے۔ اس لیے پیمبراکرم کو بصورت خطاب سلام کرنا اس امر کی دلیل
ہے کہ آنحضرتؐ کی روح مقدس ہم سب کے سلاموں کوسنتی ہے۔ اور کسی جہت سے بھی ہم ان خطابوں کو مجاز پر محول نہیں کرسکتے۔
زیر بحث آیات میں سے آخری آیت جس میں توحید باری تعالٰی کی دلیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو دلیل فقروغناکہلاتي ہے اس دلیل سے خدا ان تمام دلائل کی جو اثبات توحید کے
لیے اس سورۃ میں بیان ہوئے میں تکمیل کرتا ہے ارشاد ہوتا ہے: ذات الٰہی وہی ہے جس نے تم کو جب پیدا کیا تو تم ضعیف و ناتوان تھے۔ اسی نے تمہیں اس ضعف و ناتوانی کے عرصے کے بعد قوت
اور توانائی عطا کی کہ تمہارے شباب اور جوانی کا زمانہ آگیا ۔ اس دور کے بعد پھر اضمحلال قوی کا زمانہ آیا اور تم پر ضعف پیری غالب آگیا ۔ ( الله الذي خلقكم من ضعف ثم جعل من بعد ضعجٍ قوة ثم
جعل من بعد قوة ضعفًا وشيبة)۔
وہی خدا ہے کہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور وہی عالم و قادرہے۔ (يخلق مايشاء وهوالعلیم القدیر)۔
تم آغاز حیات میں اپنے ضیعف و ناتوان تھے کہ اپنے اوپر سے مکھی بھی بنہیں اڑا سکتے تھے اور نہ اپنے منہ کی رال کو صاف کرسکتے تھے اور تمہاری یہ حالت جسمانی اور
فکری لحاظ سے "لا تعلمون شيئًا" کے مصداق تھی (یعنی تم کچھ نہیں جانتے) یہاں تک کہ تم اپنے ماں باپ کو جو دائمًا تمهاری نگہداشت کرتے تے نہیں پہنچانتے تھے۔
لیکن ــــ رفتہ رفتہ تم میں نمو ، بالیدگی اور توانائی پیدا ہوگئی - تمهارا جسم قوی ہوگیا ۔ اور ۔ تم میں عقل ، قوت متفکرہ اور وسیع ادراک پیدا ہوگیا۔
تاہم ـــــ تم اس طاقت و توانائی کا تحفظ نہیں کرسکتے تھے۔ تمہاری مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی دامن کوہ سے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائے اور وہ پھروہاں سے نیچے آجائے ۔ تمہارا
حال بھی ایسا ہی ہے کہ عہد طفلی کے ضعف و ناتوانی سے جوانی کی توانائی تک ترقی کرتے ہو۔ پھر زوال شروع ہوجاتاہے اور جسمانی و روحانی ضعف و ناتوانی کے قعر میں گر پڑتے ہو۔
زندگی میں یہ تغیرات اور نشیب و فراز اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ نہ تو وه قوت و توانائی تم نے اپنے ارادے سے پیدا کی تھی اور نہ إس ضعف و ناتواني پر تمہیں اختیار ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ این جملہ تغیرات کا منبع کوئی اور ہی ذات ہے. اور تمہاری بہر جہت بے بسی اس امر کی دلیل ہے کہ تمہارے وجود کے پہیے کو کوئی اور رات ہی گھماتی ہے
اور تمہاری بر کیفیت حیات عارضی ہے۔
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب نے اپنے ان اقوال میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے. آپؑ فرماتے ہیں :
عرفت الله سبحانہ بفسخ العزائم وحل العقود ونقض الهمم۔ ؎1
میں نے اپنے خدا کومحکم ارادوں کے فتح ہونے ، مشکلات کے حل ہونے اور
قوی ارادوں کے ٹوٹنے اور ناکام ہونے سے پہچانا۔
میں ان تغیرات سے سمجھ گیا کہ اختیار مطلق کسی اور ہی ذات کے اختیار میں ہے۔
ہمیں اپنے معاملات میں کچھ اختیار نہیں ۔ مگر اتنا ہی جتنا اس نے بخشاہے۔
یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ـــــــــ آیت 54 میں جب بار دوم کلمہ ضعف آیا ہے تو اس کے ساتھ کلمہ شيبة کا اضافہ بھی ہے جس کے معنی پیری ہیں ۔ لیکن جب بار اول "ضعف" کہا
تھا تو وہاں طفرلیت کا ذکر نہیں ہے ۔
غالبًا اس ترتیب میں یہ مصلحت ہے کہ ضعف پیری بہت اذیت رساں ہے۔ کیونکہ طفلی کے برعکس ضعف پیری کا انجام مرگ و فنا . دوم یہ کے تجربہ کار اورسال خورده لوگوں سے
جو توقعات وابستہ ہوتی ہیں وہ بچوں سے نہیں ہوتیں ،
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نہج البلاغہ ، كلمات قصار جملہ 250 -
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حالانکہ بعض اوقات بلحاظ ضعف و ناتوانی ان کی حالت یکساں ہوتی ہے ۔ یہ مقام بہت عبرت انگیز ہے۔
آیت 54 کا آخری جملہ ، جس میں خدا کے علم اور قدرت کا ذکر ہے وہ معنًا بشارت بھی ہے اور تنبیہ بھی ۔
تنبیہ اس جہت سے ہے کہ خدا تمہارے جملہ اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے اور ان اعمال کی جزا و سزا دینے پر قادر ہے۔