Tafseer e Namoona

Topic

											

									  خدائے واحد ہی مالک حقیقی ہے

										
																									
								

Ayat No : 26-29

: الروم

وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ ۲۶وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۲۷ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ ۖ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۲۸بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ۲۹

Translation

آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں. اور وہی وہ ہے جو خلقت کی ابتدا ئ کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھی پیدا کرے گا اور یہ کام اس کے لئے بے حد آسان ہے اور اسی کے لئے آسمان اور زمین میں سب سے بہترین مثال ہے اور وہی سب پر غالب آنے والا اور صاحب هحکمت ہے. اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی مثال بیان کی ہے کہ جو رزق ہم نے تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہارے مملوک غلام و کنیز میں کوئی تمہارا شریک ہے کہ تم سب برابر ہوجاؤ اور تمہیں ان کا خوف اسی طرح ہو جس طرح اپنے نفوس کے بارے میں خوف ہوتا ہے ...._ بیشک ہم اپنی نشانیوں کو صاحب هعقل قوم کے لئے اسی طرح واضح کرکے بیان کرتے ہیں. حقیقت یہ ہے کہ ظالموں نے بغیر جانے بوجھے اپنی خواہشات کا اتباع کرلیا ہے تو جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے اور ان کا تو کوئی ناصر و مددگار بھی نہیں ہے.

Tafseer

									  تفسیر 
                خدائے واحد ہی مالک حقیقی ہے 
 گزشتہ آیات میں "توحید خالقیت " اور " توحید ربوبیت" کے متعلق بحث تھی ۔ مگر زیر نظر آیات میں پہلی آیت میں توحید کی ایک اور شاخ یعنی "توحید مالکیت" کا ذکرہے۔ چنانچہ خدا 

فرماتا ہے: زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اس کے لیے ہے ( وله من في السماوات والارض)۔ اور چونکہ سب اس کی ملکیت ہیں ، اس لیے سب کے سب اس کے سامنےفروتن اور مطیع (كل له 

قانتون)۔ 
 یہ ظاہر ہے کہ اس مقام پر مالکیت اور مطیع ہونے کا مفہوم مالکیت و اطاعت تکوینی ہے ، یعنی قانون آفرنیش کے لحاظ سے ہرشے کی زمام امر اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ 

خواہ نہ خواہ اس کے قوانین کا پابند ہے۔ 
 یہاں یہ کہ نافرمان ، باغی اور قانون شکن گناہ گار بھی خدا کے قوانین تکوینی کی پابندی پر مجبور ہیں ۔ اسی مالکیت کی دلیل ، اس کی وہی خالقیت اور ربوبیت ہے ۔ وہ ذات جس نے 

ابتدا میں کائنات کو خلق کیا اور اس کا نظام و تدبیر بھی جس کی قدرت میں ہے ، لازمًا اس کا مالک اصلی بھی وہی ہے۔ 
 چونکہ جہان ہستی کی تمام موجودات اس امر میں یکساں ہیں۔ (یعنی جہان تکوین میں جملہ مخلوقات قوانین فطرت کی مطیع ہیں )۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی مالکیت میں کوئی 

شریک نہیں ہے. یہاں تک کہ مشرکین کے خیالی معبود بھی اسی مالک الملوک کے مملوک اور مطیع فرماں ہیں۔ 
 ضمنًا یہ بھی ملحوظ رہے کہ " قانت" کا مادہ "قنوت" ہے ، جس کے معنٰی ہیں ایسی اطاعت جس میں عاجزی اور انکساری بھی شامل ہو ، بقول راغب اصفہانی درمفردات: 
 جناب رسالت مآبؐ سے ایک حدیث مروی ہے :
  کلی قنوت في القران فھوطاعة 
  قرآن میں جہاں کہیں بھی کلمہ قنوت آیا ہے اس کے معنٰی اطاعت کے ہیں۔ 
 اطاعت بھی دو طرح کی بے ، تکوینی اور تشریعی۔ 
 یہ جو بعض مفسرین نے اس مقام سے قانتون کے معنی " قائمون بالشهادة على وحدانيتهٖ" کیے ہیں ، درحقیقت یہ مفہوم بھی اطاعت کا ایک پہلو ہے ، کیونکہ وحدانیت خدا کی شهادت دینا 

بھی ایک قسم کی اطاعت خدا ہی ہے ۔ ؎1 
 آیات گزشتہ اور آیات آئندہ میں مبداء اور معاد کے مسائل تانے بانے کی طرح بنے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ زیر قلم آیات میں سے آیت 27 میں پھر مسئلہ معاد کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا 

ہے۔ "اسی کی ذات ہے جس نے آفرنیش کا آغاز کیا اور وہ پھر اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان تر ہے:" (وهوالذى یبد الخلق ثم یعیدہ وهو اهون عليه)۔ ؎2 
 اس آیت میں مختصر ترین استدلال کے ساتھ امکان معاد کو ثابت کیا گیا ہے۔ ورح بیان سے ہے کہ:- 
 جب تم یہ مانتے ہو کہ آغاز آفرینش اسی کی طرف سے ہے ۔ تو بعد فنا" تجدید حیات" جوتخلیق اول کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے ، اس پر وہ کیوں قادر نہیں ہو سکتا؟ 
 اعادہ تخلیق کے ، آغاز تخلیق سے آسان تر ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ابتدا میں سرے سے کسی چیز کا وجود ہی نہ تھا اور خدا سے عدم سے وجود میں لایا ہے مگر بعد فنا اعادہ کے 

لیے کم از کم مواد اصلی تو موجود ہوگا۔ جس کا کچھ حصہ مٹی میں ملا ہوگا اور کچھ حصہ فضا میں پراگندہ ہوگا ۔ خدا کا کام تو أن اجزائے منتشر کو صرف منتقل کرنا اور انھیں عورت بخشتاہی ہوگا ۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1     آلوسی نے اپنی کتاب روح المعانی میں ، اس آیت کے تحت اس رائے کو کسی ماقبل مفسر نقل کیاہے۔ 
  ؎2      فخررازی نے تفسیر کے حوالہ سے یوں نقل کیاهے کہ : خدا نے جناب مسیح کی بغیر باپ کے پیدائش سے متعلق یہ کہا ہے" هوعلى هين" اور علٰی کا مقدم ہونا حصر کی دلیل ہے۔ یعنی یہ 

کام صرف میرے لیے آسان ہے نہ کہ میرے غیر کے لیے ۔ اور زیر نظرآیت "ھواهون عليه کہا ہے۔ یہاں علیه حصر کے معنٰی نہیں دیتامراد یہ ہے کہ جو شخص کسی کام کا آغاز کرسکتا وہ اس کا 

اعادہ بھی کرسکتاهے۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 اس مقام پر ایک نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ کسی کام کا آسان یا سخت ہونا فکر انسانی کے مطابق ہے جب کہ ذات لامحدود کے لیے سخت و آسان میں کوئی تفاوت 

نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کام کا سخت و آسان ہونا اس مقام پرمتصور ہوتا ہے جہاں فائل کی قدرت محدود ہو کر وہ ایک کام کرو تو آسانی سے کرسکے اور دوسرے کام کو دشواری سے  لیکن جب فاعل کی 

قدرت لامحدود ہو تو پھر سخت و آسان کے الفاظ بے معنٰی ہیں ۔ 
 درحقیقت کلمات "آسان" اور "دشوار" کا مفہوم اضافی ہے ۔ خدا کے لیے عظیم ترین پہاڑ کو اٹھا لینا اتنا ہی آسان ہے جتنا انسان کے لیے گھاس سے تنکے کو۔ 
 شاید اسی وجہ سے آیت میں بلافاصلہ یہ الفاظ ہیں :(وله المثل الأعلى في السماوات والارض - 
 آسمانوں اور زمین میں خدا کے لیے توصیف برتر ہے۔ 
 کیونکہ آسمان و زمین میں کسی وجود کے متعلق بھی جو وصف کمال قصور کیا جائے مثلًا : علم ، قدرت ، مالکیت ، عظمت ، جود و کرم تو اس کا مصداق اتم واکمل خدا ہی ہے۔ کیونکہ 

صرف ذات الٰہی ہی لا محدود ہے۔ باقی ما سواللہ محدود ہے علاوہ بریں خدا کے اوصات ذاتی ہیں اور دیگر ہر شے کے اضافی اور عارضی ہیں ۔ نیزیہ کہ جملہ کمالات کا منبع اصلی وہی ہے.  
 ہماری زبان (ہر زبان جو انسان بولتا ہے) روزمرہ کے دنیاوی مطالب کے افہام و تفہیم اور مقصد بر آری کے لیے بے کوئی زبان بھی ماورائی حقائق اور ذات باری تعالٰی کے اوصاف 

بیان نہیں کرسکتی جس طرح کہ ہم نے کلمہ " اهون" کو دیکھا ۔
 جملہ مافوق بھی ان جملوں کی مانند ہے جیسے سوره اعراف آیه 180 میں ہے : 
  ولله الأسماء الحسنی فادعوه بها 
  خدا کے لیے بہترین نام ہیں اسے ان ناموں سے پکارو ۔ 
 یاجیسے سوری شوریٰ کی آیت 11 میں آیا ہے:  
  لیس کمثلہ شیء 
  کوئی شے بھی دنیا میں اس کی مثل نہیں ہے 
 اہمیت کے اختتام پر بہ عنوان تاکید یا بطور دلیل فرمایا گیا ہے : اور وہی عزیز و حکیم ہے ( وهو العزيز الحكيم)۔ 
 وہ عزیز اور شکست ناپذیر ہے۔ لیکن قدرت نا محدود کے ہوتے ہوئے بھی وہ کوئی کام بے حساب انجام نہیں دیتا اس کے تمام کام حکمت پر مبنی ہیں ۔ 

 گذشتہ آیات میں توحید و معاد کے متعلق کچھ دلائل بیان کرنے کے بعد ایک مثال کی صورت میں نفی شرک کی دلیل دی گئی ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے: خدا خود تمہارے ہی حالات سے 

تمہارے لیے ایک مثال دیتا ہے (ضرب لكم مثلًا من انفسكم)۔ 
 وہ مثال یہ ہے کہ اگر تمہارے غلام اور خادم ہوں تو کیا یہ لوگ اس روزی میں جو ہم نے تمہیں دی ہے ، تمهارے شریک ہو جائیں گے؟ (هل لكم من ما ملكت ايمانكم من شركاء في 

مارزقناكم)۔ 
 اس طرح کی شرکت کہ تم دونوں ہرطرح سے مساوی ہو  (فانتم فيه سواء )۔ اور اس طرح بے تکلف شریک ہوں کہ تمہیں یہ ڈر پو کہ وہ تمہاری اجازت کے بغیر تمهارے مال میں 

تصرف کریں گے جس طرح کہ تم اپنے آزاد شرکا (یعنی رشتہ داروں) سے اپنے مال اور میراث کے متعلق ڈرتے ہو ( تخافونھم كخيفتكم انفسكم ) ۔ یا یہ کہ تمہارا یہ حال 
ہو جائے کہ تم اپنے مال میں ان کی اجازت کے بغیر تصرف نہ کرسکو۔ 
 (مثال کا نتیجہ یہ ہے کہ) جب کہ تم اپنے غلاموں کی "جو تمہاری مجازی ملکیت ہیں" اپنے کاروبار اور اموال میں اس طرح شرکت کو نادرست سمجھتے ہو تو پھر ان مخلوقات کو جو 

خدا کی حقیقی ملکیت ہیں اس کا شریک کس طرح سمجھتے ہو ؟یا جب پیغمبروں کو (مثلًا مسیحؑ کو) یا ملائکہ کو ، یا ایسی مخلوق کو جیسے جنات ہیں یا پتھر یا لکڑی کے بتوں کو خدا کا شریک سمجھتے 

ہو تو بتاؤ کہ یہ تمہارا کیسا غیر منطقی اور غلط فیصلہ ہے؟ یہ مجازی غلام جوممکن ہے کہ بہت جلد آزاد ہوجائیں اور تمہاری ہی صف میں آکھڑے ہوں  (چنانچہ اسلام میں اس مساوات کی بنیاد ڈال 

دی گئی ہے) جب تک غلام ہیں اپنے مالک کے مساوی نہیں ہوسکتے اوراس کے اختیارات میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتے۔ 
 تو ــــــ پھر تم نے ان حقیقی غلاموں کو کیونکر خدا کا شریک سمجھ لیا ہے کہ جو اپنی ذات اور وجود کے لیے خدا کے محتاج ہیں اور خدا کے ساتھ ان کی احتیاج کا تعلق کبھی منقطع 

نہیں ہوسکتا ۔ ان کے پاس جو کچھ ہے اس کا دیا ہوا ہے اور اس کے فضل کے بغیروہ ہیچ و پوچ ہیں۔ 
 بعض مفسرین نے کہاہے کہ اس آیت میں ان کلمات کی طرف اشارہ ہے جو مشرکین قریش مراسم حج کے وقت جب "لبیک" کہتے تھے تو کہا کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے:
  لبيك ، اللهم لا شريك لك ، الاشريكا هولك تملكه وما ملك 
  لبيک ، اے خدا ! تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، مگر تیرا ایک شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور اس کی املاک کامالک بھی هے۔ ؎1 
 یہ امر بدیہی ہے کہ اس آیت کی یہ شان نزول دیگر آیات کی طرح اس کے معنٰی کو محدود نہیں کرتی۔ ہرحال میں یہ آیت تمام مشرکین کے لیے جواب ہے جو ان ہی کی زندگی سے لیا 

گیا ہے ، جس کا مدار غلامی کے رواج پر تھا۔ اس آیت میں اس دلیل سے ان پر اتمام حجت کی گئی ہے 
 کلمه " مارزقناكم" کے استعمال سے مقصود یہ ہے کہ تم درحقیقت میں نہ تو إن غلاموں کے حقیقی مالک ہو اور نہ اس مال کے جو تمہارے پاس ہے کیونکہ ان سب چیزوں کا مالک 

حقیقی خدا ہے ۔ لیکن اس علم کے باوجود تم اس بات کے لیے تیار نہیں ہوکہ اپنے مجازی مال و دولت کو ایسے افراد کے سپرد کر دو جوبطور مجاز تمهارے مملوک کہلاتے ہیں اور انہیں اپنی دولت میں 

شریک سمجھو۔ حالانکہ عام فطرت انسان کے نقطہ نگاہ سے یہ امر محال نہیں ہے۔ کیونکہ اگر غلام پر اختیار ہوتو 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       تفسیر المیزان و تفسير مجمع البیان و تفسیر نورالثقلين زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
اسے مال میں حق تصرف دیا جاسکتا ہے ۔ 
 لیکن خدا اور مخلوقات میں خالق اور مخلوق کا ناقابل تغیر فرق ہے۔ یہ امر محال ہے کہ مخلوق ، خالق کے اختیارات میں شریک ہوسکے۔ 
 علاوہ بریں ـــــ جب کسی ذات یاشے کی پرستش کی جاتی ہے تو اس کے دو بی سبب ہوتے ہیں ، یا تو اسے ، اس کی کی غظمت کی وجہ سے پوجا جاتا ہے۔ یا بہ تمنائے سود یا بخوف 

زیاں ( جواس سے انسان کو پہنچ سکتا ہے ) مگر ان خود ساختہ معبودوں میں تو ان میں سے ایک بات بھی نہیں ۔ ؎1 
 آیت کے اخیر میں اس مسئلے پر زیادہ غور و خوض کرنے کے لیے بطور تاکید فرمایا گیا ہے :ہم اس طرح ان لوگوں کے لیے 
جو غور و فکر کرتے ہیں اپنی آیات کی تشریح کرتے ہیں (كذالك نفضل الآيات لقوم يعقلون )۔
 البتہ ـــــــ تمہاری ہی زندگیوں سے واضح مثالوں کا ذکر کرکے ہم تمہیں بہ تکرار حقائق سمجھاتے ہیں تاکہ تم ان پر غور کرو کم ازکم اتنا تو سمجھو کہ جو بات تم اپنے لیے پسند نہیں 

کرتے وہ رب العالمین کے لیے بھی پسند نہ کرو۔ 

 مگریہ آیات بنیات اور اس قسم کی واضح اور روشن مثالیں صاحبان فکر کے لیے ہیں ۔ نہ کہ بے دانش نفس پرست ظالموں کے لیے ، جن کے دلوں پر جہل و نادانی کے پردے پڑے 

ہوتے ہیں اور ایام جاہلیت کی خرافات اور تعصبات نے ان کی فضائے فکر کو تیره و تار کردیا  ہے۔ اس لیے آیہ بعد میں یہ اضافہ کرتی ہے:ظالم ، علم و آگائی کے بغیر اپنی ہواوہوس کی پیروی کرتے 

ہیں ۔ ان کا عمل کسی دلیل کے تحت نہیں ہے (بل اتبع الذين ظلموا أهواءهم بغير علم)۔ 
 خدا نے ایسے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے وادی ضلالت میں پہنچا دیا ہے. بھلا ان لوگوں کی ہدایت کون کرسکتا ہے جنہیں خدا نے گمراہ کیا ہو( فمن یھدی من اضل الله) 
 آیت نمبر 29 میں " أشركوا" کے بجاۓ "ظلموا" استعمال ہوا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ "شرک" بجائے خودت بڑا ظلم ہے ۔ یہ خالق پر ظلم ہے ۔ کیا مشرکین خدا کی مخلوق کو اس کا 

ہم پایہ بنا دیتے ہیں۔ 
 نیز یہ خلق خدا پر بھی ظلم ہے ، کیونکہ مشرکین انھیں راہ توحید سے جو درحقیقت راہ خیر و سعادت ہے، گمراہ کرتے ہیں۔ 
 "شرک" اپنی ذات پر بھی ظلم ہے۔ کیونکہ مشرک اپنی زندگی کو برباد کرکے گمراہی میں سرگرداں رہتا ہے۔ 
 ضمنًا - کلمه "ظلموا " کا استعمال موخر جملہ کے لیے بطور مقدمہ ہے۔ یعنی اگر خدا نے ان ظالموں کو راہ حق سے گمراہ کردیا ہے تو یہ ان کے ظلم کا نتیجہ ہے۔ جس طرح کہ ہم 

سورہ ابراہیم کی آیت 27 میں پڑھتے ہیں : 
  ویضل الله الظالمين 
  خدا ظالموں کو گمراہ کر دیتاہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1  بعض مفسرین نے جملہ "تخافونھم کخیفتکم انفسکم" کی کچھ اور تسفیر کی ہے ، جس کا ماحصل یہ ہے کہ ان خود ساختہ معبودوں میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ تم ابٓن ڈرو ، اتنا بھی نہ ڈرو جتنا 

ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ، اس سے زیادہ ڈرنے کا کیا موقع ہے ، مگر ہم نے جو تفسیر ابتداء میں کی ہے وہ زیادہ بہتر ہے
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
 یہ مسلم ہے کہ خدا جن لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے تو ان کا کوئی بھی یادر و ناصر نہ ہوگا (ومالهم من ناصرین) 
 خدا نے اس عنوان سے گروہ ظالمين ومشرکین کی منحوس سرنوشت کو بیان کیا ہے۔ اور جیسا کہ فرمایا گیا ہے، وہ اسی کے مستحق ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ عظیم ترین مظالم کے مرتکب 

ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عقل و فکر سے دست کش ہوکر آفتاب علم و دانش کی طرف سے منہ موڑ لیا ہے اور ظلمت ہوا و ہوس کی طرف رخ کرلیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ فطری امر ہے کہ خدا ان 

سے اپنی توفیق سلب کرنے اور انھیں کفرو شرک کی تاریکیوں میں چھوڑ دے جہاں ان کا کوئی یادر و ناصر نہ ہوگا۔