Tafseer e Namoona

Topic

											

									  انفس و آفاق میں خدا کی آیات

										
																									
								

Ayat No : 20-22

: الروم

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ ۲۰وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۲۱وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ ۲۲

Translation

اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں خاک سے پیدا کیا ہے اور اس کے بعد تم بشر کی شکل میں پھیل گئے ہو. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کی خلقت اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف بھی ہے کہ اس میں صاحبانِ علم کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں.

Tafseer

									  تفسیر 
                انفس و آفاق میں خدا کی آیات : 
  ان آیات اور ان کے بعد آنے والی آیات کے کچھ حصے میں نظام عالم ہستی میں خدا کی نشانیوں اور دلائل توحید کے جاذب توجہ نکات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بیان سے گزشتہ مباحث 

کی تکمیل ہوتی ہے۔ 
 یہ کہہ سکتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی یہی آیات قرآن کی آیات توحید کا ایک اہم حصہ ہیں۔ 
 یہ آیات جو سب کی سب " من اياته" (یعنی خدا کی نشانیوں میں سے ایک) سے شروع ہوتی ہیں ، ان کا ایک مخصوص آہنگ ہے ، لب و لہجہ دلچسپ اور دلکش ہے اور ان کی تعبیرات 

موثر اور عمیق ہیں۔ 
 مجموعی طور پر یہ آیات سات ہیں ۔ ان میں چھ تو مسلسل ہیں اور ایک آیت نمبر 42 الگ ہے۔ 
 آیات آفاقی داننسی کے لحاظ سے ان آیات کی تقسیم دلچسپ ہے۔ اس طرح سے کہ ان میں سے تین آیات میں "آیات  انفس کا ذکر ہے. (یعنی خود انسان کی ذات میں کون سی آیات الٰہی 

ہیں)۔ 
 اور تین آیات میں آیات آفاق کا بیان ہے (یعنی عالم خارجی میں عظمت پروردگار کی کون کون سی نشانیاں ہیں)۔ 
 جب کہ ایک آیت میں آیات انفس و آفاق دونوں کا ذکر ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ وہ آیات جو" من اياته" سے شروع ہوتی میں قرآن میں گیارہ سے زیادہ نہیں ہیں ۔ جن میں سے سات 

تو اسی سورہ روم میں ہیں اور دو آیتیں سورہ حم سجدہ  (37- 39) میں اور دو آیات سوره شوری میں ہیں (29 - 32) اور حق یہ ہے کہ ان گیارہ آیات کا مجموعہ اثبات توحید پر کاملًا حاوی ہے۔ 
 آیات زیر نظر کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے ہم اس نکتے کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جن مسائل اور رموز فطرت کی طرف  قرآن کی ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ 

بظاہر عام آدمیوں کے لیے قابل ادراک اور قریب نعہم ہیں ۔ لیکن انسان علم و دانش کی و ترقی کے ساتھ ساتھ ان آیات الٰہی کے تازہ رموز و نکات کا انکشاف ہوتا جاتا ہے۔ اس تفسیرمیں ہم ان میں سے 

بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ 
 قرآن میں سب سے پہلے انسان کی آفرنیش کا ذکر ہے اور تخلیق انسان اللہ کی پہلی اور سب سے اہم نعمت اوراحسان ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ آیات الٰہی میں سے ایک یہ ہے کہ 

اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ اس کے بعد تم انسان بن گئے اور روئے زمین پر پھیل گئے :( و من آياته أن خلقكم من تراب ثم اذا انتم بشرتنتشرون)۔ 
 اس آیت میں خدا کی دو نشانیوں کا ذکر ہوا ہے ۔
 اول انسان کی مٹی سے پیدائش کا۔ اس سے پہلے انسان یعنی آدم کی تخلیق مراد ہے یا تمام انسانوں کی پیدائش مرا د کیونکہ وہ مواد غذائی جس سے انسان کا جسم پرورش پاتا ہے بلا 

واسطہ یا بالواسطہ زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ 
 دوسری نشانی ہے کہ نسل انسانی کثیر ہوگئی اور نسل آدم تمام روئے زمین پر پھیل گئی ۔ اگر خدا آدم میں افزائش نسل کی خصوصیت نہ رکھتا تو اس کی نسل کا سلسلہ کب کا منتقطع 

ہوچکا ہوتا۔ 
 مقام حیرت ہے کہ کثیف مٹی کہاں اور انسان جیسی لطیف ہستی کہاں ؟ 
 مقام غور ہے کہ آنکھ کے نازک ترین پردے جو برگ گل سے بھی لطیف تر، حساس تر اور نازک تر ہوتے ہیں ، اسی طرح سے دماغ کے لطیف اور غیر معمولی حساس خلیات کو اگر ہم 

مٹی کے پاس رکھیں اور پھر دونوں کا مقابلہ کریں تو اس وقت یہ راز سمجھ میں آئے گا کہ خالق کائنات نے کسی حکمت بالغہ سے مٹی کے مادہ کثیف سے کسی قسم کے نازک ، دقیق اور قمیت آلات 

سریع الحس تخلیق کیے ہیں۔ 
 مٹی میں نہ تو نوربپے، نہ حرارت ہے ، نہ زیبائی . - نہ طراوت ، نہ حس و حرکت ۔ مگر بایں ہمہ خلقت وجود انسانی کا خمیراسی  سے اٹھا ہے۔ 
 جو ذات کے ایسے بے جان مادہ سے ( جو موجودات عالم میں سب سے کمتر اور پست ترین شمار ہوتا ہے) اسی عجیب و غریب مخلوق پیدا کرسکتی ہے ، وہی اس قدرت اور لا محدود 

علم و دانش کے لیے ہر قسم کی تحسین و ستائش کی مستحق ہے۔ 

  تبارك الله احسن الخالقين 
 اس بیان سے اس واقعیت کا علم بھی ہوتا ہے کہ بحیثیت نوع انسانوں میں بھی فرق نہیں ہے۔ ان کا جوہر آفرینش آیات کی ہے ۔خاک سے سب کا ناقابل انقطاع تعلق ہے اور طبعًا أخرکار 

سب کے سب خاک کی طرف لوٹ جائیں گے۔ 
 قابل توجہ امر یہ ہے کہ لغت عرب میں کلمہ " اذا " امور ناگہانی کے موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ 
 اس مقام پر اس کلمہ کے استعمال سے ممکن ہے یہ مراد ہوکہ خدا نے آدم کو "تکثیرمثل کی اتنی قدرت دی کہ قلیل مدت میں اس کی نسل تمام روئے زمین پر پھیل گئی اور ایک انسانی 

معاشرہ وجود میں آ گیا۔ 
 زیر بحث آیات میں سے دوسری آیت میں تخلیق انسان کا حال بیان کرنے کے بعد ان نشانیوں کا ذکر ہے جو انسان  کے نفس میں موجود ہیں ۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے ۔ آیات الٰہی میں سے 

ایک اور بات یہ ہے کہ تمہاری ہی جنس سے تمهارے لیے ازواج کو پیدا کیا گیا ہے تاکہ تم ان کی قربت میں سکون حاصل کرو : (ومن آياته أن خلق لكم من انفسكم ازواجًالتكنوا اليها)۔ 
 اور چونکہ زن و شوہر کے درمیان رشتہ محبت کی بقا کے لیے بالخصوص اور تمام انسانوں کے درمیان بالعموم ، ایک جذبہ اور روحانی وقلبی کشش کی ضرورت ہے ، اس لیے آیت 

میں ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا ۔ تمہارے درمیان محبت اور رحمت کو پیدا کیا:  (وجعل بينكم مودة ورحمة)۔
  آیت کے اخیر میں تاکید مزید کےلئے فرمایا گیا ہے۔ ان امور میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں: ( ان في ذالك لايات لقوم يتفكرون )۔
 یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں شادی کا مقصد سکون و راحت بیان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے نہایت پُرمعنی لفظ "لتسكنوا" استعمال کیا گیا ہے۔ اس ایک لفظ میں بہت سے مسائل بیان 

کر دیئے گئے ہیں۔ 
 اس قسم کی تعبیر کی نظیر سورہ اعراف کی آیت 189 میں بھی ملتی ہے۔ 
 یہ حق ہے کہ ان خصوصیات کے ساتھ شریک حیات کا وجود کہ وہ ایک دوسرے کے لیے زندگی کی راحت کا باعث ہیں خدا کی بہت بڑی نعمت ہے ۔
 زندگی کے اس راحت و آرام کا باعث یہ ہے کہ یہ دونوں اصناف ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی اور ایک دوسرے کی خوشی مسرت اور پرورش کا وسیلہ ہیں ۔ یہاں تک کہ ان میں 

سے ہر ایک ، ایک دوسرے کے بغیر ناقص ہے اور یہ فطری امر ہے کہ ایک شخصیت موجود اور دوسرے اس کے باعث تکمیل وجود میں اس قسم کا خوش آیند جذبہ موجود ہونا چاہیے۔  
 اس اصول فطرت سے یہ نتیجہ نکالنا درست ہے کہ جو لوگ اس سنت الٰہی کو ترک کرتے ہیں ان کی شخصیت ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ ان کی تکمیل شخصیت کا ایک مرحلہ طے نہیں 

ہوا۔ 
 تجرد کی زندگی صرف ان حالات میں جائز ہے جب انسان کسی خاص ضرورت یا شرائط کے تحت مجبور ہو۔ 
 بہرحال زندگی کا یہ آرام و سکون ، جسمانی ، روحانی ، انفرادی اور اجتماعی ہرحثیت سے ہے ۔
 اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ترک ازدواج کی وجہ سے بعض جسمانی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں - اسی طرح مجرد افراد میں جو نفسیاتی ألجھنیں اور روحانی اضطراب 

ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے، جو سب پر روشن ہے ۔
 معاشرتی نقطہ نگاہ سے مجرد لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس بہت کم ہوتا ہے۔ اسی لیے ان میں خودکشی کے واقعات بہت نظر آتے ہیں اور ان سے خوفناک جرائم بھی سرزد 

ہوتے ہیں ۔  
 جس وقت انسان تجرد کی زندگی کو چھوڑ کر خانگی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے اندر ایک تازہ شخصيت کا احساس کرتاہے نیز اسے اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہونے لگتا ہے ۔ 

حالت ازدواج میں انسان کو جو راحت ملتی ہے ، اس میں یہ امور بھی داخل ہیں۔
  اب رہا "مودت اور رحمت" کا مسئلہ تو درحقیقت یہ دونوں چیزیں انسانی معاشرے کی عمارت کی تعمیر کامسئلہ ہیں کیونکہ ہر معاشرہ افراد کے اجتماع سے بنتا ہے. اس کی مثال اس 

عمارت کی سی ہے جواینٹوں اور پتھروں سے ٹکڑوں سے مل کر تعمیر ہوتی ہے۔ اگر افراد انسان پراگندہ حالت میں رہیں تو کوئی معاشره بھی وجود میں نہیں آسکتا ہے جیسے کہ اجزائے تعمیر اگرباہم 

مربوط نہ ہوں تو کوئی عمارت بھی وجود میں نہیں آسکتی۔ 
 وہ ذات جس نے انسان کو معاشرتی زندگی کے لیے پیدا کیا، اسی نے اس کی فطرت میں باہمی تعاون اور الفت کا جذبہ بھی ودیعت کردیا ہے. 
 ممکن ہے کہ "مودت" اور "رحمت میں مختلف جہات سے فرق ہو.
 1-      "مودت" وہ داخلی تحریک ہے جو ابتداء میں ارتباط کا سبب بنتی ہے. لیکن ــــ عمر کے آخری حصے میں اگر زوجین میں سے ایک ضعیف و ناتوان ہوجائے اور اس میں اتنی 

طاقت نہ رہے کہ دوسرے کی خدمت کرسکے تو اس وقت "رحمت"  مودت کی جگہ لے لیتی ہے۔ 
 2-      "مودت"  کا تعلق سن رسیدہ لوگوں سے ہے جو ایک دوسرے کی خدمت کرسکتے ہیں ۔ لیکن اولاد اور چھوٹے بچے سایہ رحمت میں پرورش پاتے ہیں۔ 
 3-       مودت یک طرفہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے طرف ثانی کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن " رحمت " ایثار ہوتا ہے۔ 
 اس لیے وہ یک طرفہ ہوتی ہے ۔ کیونکہ ایک معاشرے کی بقا کے لیے کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے تعاون سے خدمت کریں اور یہ جذبہ مودت سے پیدا ہوتاہے اور کبھی ایسا 

ہوتا ہے کہ خدمت کے صلہ کی توقع نہیں کی جاتی اسے " ایثار"کہتے ہیں ، جو جذبہ رحمت کا نتیجہ ہوتاہے. 
 اگر آیت میں "زوجین" کے درمیان "مودت " اور "رحمت" دونوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس لیے اس تعبیر سے یہ احتمال ہوتا ہے کہ یہ خصوصیت جملہ بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ جن 

میں زوجین کا تعلق ان جذبات کا واضح مصداق کہے جاسکتے ہیں۔ 
 بنی نوع انسان کے تمام معاشروں میں خاندانی زندگی ایسی چیز ہے جس کا وجود مودت اور رحمت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اگر افراد خاندان کے درمیان یہ جذبات نہ رہیں یا کمزور 

ہوجائیں تو اس سے معاشرے میں ہزاروں اضطراب ، بے چینیاں اور مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ 
 
 زیر بحث آیات میں سے آخری آیت ان مضامین کا ایک مجموعہ ہے جن کا ان آیات میں ذکر ہوا ہے جن میں انفس و آفاق میں پائی جانے والی نشانیوں کا ذکرہ ہے۔ 
 اس میں سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے ــــــ خدا کی عظیم آیات میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق بھی ہے (و من أياته خلق 

السماوات والارض )۔ 
 آسمان پر سیاروں کے کرات ہیں۔ ان کے نظامات ، کہکشائیں اور ان کی بلندی اور مسافت کا یہ عالم ہے کا انسان کا بلند پرواز تخیل ان کی عظمت کا ادراک کرنے سے عاجز اور ان 

کے مطالعے سے انسان تھک جاتا ہے ۔ انسان کا علم و دانش جس قدر بھی ترقی کرتا جاتا ہے ، اسی قدر خدا کی عظمت کے تازہ نکات اس پر شکار ہوتے جاتے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ انسان بلندی پر 

نظر آنے والے ستاروں کی تعداد صرف اتنی ہی سمجھتا تھا جتنے نظر آتے تھے۔ 
 ماہرين علم ہیئت نے ان ستاروں کی تعدار جو بغیر دوربین کے نظر آتے میں پانچ ہزار سے چھ ہزار تک بیان کی ہے۔لیکن جس رفتار سے بڑی بڑی دوربینوں کی ایجاد میں اضافہ ہواہے 

اسی رات مزید آسمانی الحبثہ کرات دریافت ہوتے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ علمائے ہیئت کا خیال ہے کہ یہ کہکشاں جو ہم سے قریب تر ہے اور جو خلائے لامحدود میں موجود کثیر کہکشاؤں میں سے 

ایک ہے ، اس میں ایک ارب سے زیادہ ستارے ہیں ۔ جن میں ہمارا سورج اپنی خیرہ کن عظمت کے باوجود کہکشاں کے متوسط ستاروں میں شمار ہوتا ہے ۔ یہ تو صرف خدا ہی کو علم ہے کہ ان تمام 

کہکشاؤں میں جن کا ابھی تک شمار نہیں ہوسکا ، کتنے ستارے ہوں گے۔ 
 اسی طرح جس سرعت سے سائنسی علوم مثلًا : علم الارض ، علم نباتات ، علم الحیات ، علم تشریح اعضاء ، طبیعیات علم النفس اور تحلیل نفسی ترقی کر رہے ہیں ، اسی رفتار سے 

آفرنیش زمین کے متعلق تازه انکشافات ہو رہے ہیں، جن میں سے ہرایک عظمت الٰہی کی ایک آیت ہے۔ 
 اس کے بعد کلام کا پہلو بدل کر انسان کے نفس میں من جملہ آیات عظیم کے ایک آیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایاگیا ہے تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اس کی آیات عظمت میں 

سے ہے ( واختلاف النتكم والوانكم). 
 اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی اجتماعی زندگی افراد و اشخاص کی شناخت کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اگر کوئی ایسا وقت آجائے کہ دنیا کے تمام انسانوں کی شکلیں ، قیافہ ، قد 

اور ڈیل ڈول یکساں ہوجائے تو اسی دن ان کی زندگیوں کا شیرازه بکھر جائے گا۔ باپ اور بیٹے ، اپنے اور غیر کی پہچان نہ ہوسکے گی۔ اور ـــــ نہ مجرم دبے گناہ ، قرض خواہ و مقروض ، حاکم و 

محکوم رئس و مرؤس ، میزبان و مہمان اور دوست و دشمن کی تمیز ہوسکے گی ۔ ایسی حالت میں کیسا عجیب گھپلا اور گڑ بڑ پیدا ہوجائے گی ۔
 کبھی کبھی دو جڑواں بھائیوں کے ، جوہر جہت سے باہم مشابہہ ہوتے ہیں ، لوگوں سے ملنے اور ان کی شناخت کے بارے میں یہ دشواری پیش آتی ہے ۔ چنانچہ ہم نے سنا ہے کہ دو 

، ہم رنگ و ہم شکل بھائیوں میں سے ایک بیمار ہوا اورماں نے دوا دوسرے کو پلا دی۔ 
 اس لئے معاشرہ کی تنظیم کے لیے خدا نے انسانوں کی آوازوں اور رنگوں کو مختلف بنایا ہے۔ 
 جیسا کہ فخرالدين رازی نے آیت زیر بحث کے ذیل میں کہا ہے: 
 ایک انسان دوسرے انسان کو یا تو آنکھ سے دیکھ کر پہچانتا ہے یا اس کی آواز سن کر ، اس لیے خدائے بزریعہ چشم شناخت کرنے کے لیے انسانوں کے رنگ ، صورتوں اور شکلوں کو 

مختلت بنایا ہے۔ 
 اور بذریعہ گوش شناخت کرنے کے لیے آوازوں اور لہجوں میں اختلاف پیدا کردیا ہے۔ 
 یہاں تک کہ ـــــــ تمام دنیا میں دو انسان بھی ایسے نہیں مل سکتے جو چہرے کی بناوٹ اور آواز کے لہجے میں ہرلحاظ سے یکساں ہوں ۔ یعنی انسان کی صورت جو ایک چھوٹی سی 

بات ہے اور اس کی آواز کا لہجہ جو ایک سادہ سی چیز ہے، قدرت خدا سے کروڑوں آدمیوں کا بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے. اور یہ خدا کی عظیم آیات میں سے ہے۔ 
 إن موقع میر ایک احتمال اور بھی ہے اور بعض مفسرین نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ اختلاف السنہ مراد بولی جانے والی زبانوں کا فرق مراد ہے جیسے عربی ، فارسی ، 

ترکی وغیرہ اور رنگوں کے اختلاف سے نسلوں کے رنگوں کا اختلاف مراد ہے۔ نگہبان خلیئے اس فرض کو ادا کرتے ہیں۔
 ہم نے اس بات کو خود اپنے اوپر بارہا آزما کے دیکھا ہے کہ اگر ہم نے اپنے دل میں یہ طے کرلیا ہے کہ صبح سویرے یا آدھی رات کو ہمیں کسی سفر یا اہم پروگرام پر جانا ہے تو 

توعین وقت پر آنکھ کھل جاتی ہے۔ جب کہ دیگر مواقع پر ہم گھنٹوں پڑے سوتے رہتے ہیں۔
 خلاصہ گفتگو ہے کہ نیند ایک روحانی مظہر ہے اور روح ایک پراسرار عالم ہے۔ لہذا کیا عجب ہے کہ اس مسئلے کےبہت سے پہلو ایسے ہوں جو ابھی انسان ہرمنکشف نہ ہوئے ہوں۔ 

مگر انسان اس اسرار کی گرہ کشائی میں جتنا بھی زیادہ غور و فکر کر رہا ہے اتنا ہی اس پر اس مظہر سے خالق کی عظمت واضح ہوتی جاتی ہے۔
 4-           میاں بیوی کی باہمی محبت :         آگرچہ ــــــ انسان کا اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے رابطہ نسبی ہے جس کی بیناد رشتہ داری کے گہرے تعلق پر ہے. اس کے 

مقابلے میں زوجین کا باہمی تعلق صرف قانون اور معاہدۂ باہمی پر ہے ، کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان محبت رشتہ داری سے تعلق پر سبقت کے جاتی ہے۔ مذکورہ بالا آیات میں "وجعل 

بينكم مودة ورحمة"  میں انسان کی اسی کی فطرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
 جناب رسالتمآب نے ایک حدیث مروی ہے کہ : جناب احد کے بعد اپنے بنت حجش فرمایا کہ " تیرے ماموں حمزه شهید ہوگئے"۔ تو اس نے جواب دیا : "انالله و انا اليه راجعون " " میں خدا 

اس مصیبت کا اجر چاہتی ہوں"۔
 آپ نے پھر اس نے کہا ـــــــــ "تیرا بھائی بھی شہید ہو گیا ۔
 اس لڑکی نے پھر "انا لله" پڑھا اور اس کا اجر خدا سے مانگا۔ مگر جناب رسالت مآبؐ نے جیسے ہی اسے اس کے شوہر کہ مرنے کی خبر سنائی ، تو وہ سر پٹینے اور فریاد کرنے لگی۔
 ہاں ـــــــــ یہ قول کتنا سچا ہے : 
  مایعدل الزوج عند المرأة شيء 
  عورت کے لیے کوئی شے بھی اس سے شوہرکے مانند نہیں ہے . ؎1
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نور الثقلین، جلد4 ، ص 174 -