Tafseer e Namoona

Topic

											

									   تسبیح و حمد ہرحال میں خدا کے لیے ہے

										
																									
								

Ayat No : 17-19

: الروم

فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ۱۷وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ۱۸يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ ۱۹

Translation

لہذا تم لوگ تسبیح پروردگار کرو اس وقت جب شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو. اور زمین و آسمان میں ساری حمد اسی کے لئے ہے اور عصر کے ہنگام اور جب دوپہر کرتے ہو. وہ خدا زندہ کو مفِدہ سے اور مفِدہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد پھر زندہ کرتا ہے اور اسی طرح ایک دن تمہیں بھی نکالا جائے گا.

Tafseer

									  تفسیر
               تسبیح و حمد ہرحال میں خدا کے لیے ہے 
 آیات گزشتہ میں مبداء و معاد کے موضوع پر ایک طویل بحث گزری ہے اور کسی قدر مومنین کے اجراور مشرکین  کی پاداش عمل کا ذکر آیا ہے۔ 
 آیات زیر نظر میں خدا کی حمد ، تسیع اور ہر قسم کے شرک ، نقص اور عیب سے اس کے منزہ ہونے کا ذکر ہے ۔
 چنانچہ خدا فرماتا ہے: 
 تسبیح و تنزیہ اسی خدا کے لیے مخصوص ہے جس وقت کہ تم صبح کرتے ہو اور شام کرتے ہو (فسبحان الله حین تمسون وحين تصبحون)۔ 
 آسمان و زمین میں حمد اور ستائش اسی ذات پاک کے لیے مخصوص ہے اور بوقت عصر اور جب ظہر کا وقت ہوتا ہے : (وله الحمد في السماوات والارض وعشيًا وحين تظهرون)۔ 
 ان دو آیات میں اس ترتیب سے تسبیح پروردگار کے لیے چار اوقات کا بیان ہے: 
  1-    آغاز شب  (حين تمسون)۔  
  2-    طلوع صبح (وحين تصبحون)۔ 
  3-    وقت عصر (وعشیًا)۔  
  4-    زوال آفتاب یعنی ظہر کا وقت (وحين تظهرون)۔ ؎1 
 لیکن بحیثیت مکان " ادائے حمد " میں عمومیت ہے ۔جس میں آسمانوں اور زمین کی وسعتیں شامل ہیں۔ آیات فوق میں مذکورہ بالا چار اوقات کے ذکر سے ممکن ہے بطور محاورہ یہ مراد 

ہو کہ ہمیشہ اور دائمی طور پر تسبیح کرتے رہو ۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ " فلاں شخص کی صبح و شام دیکھ بھال کرتے رہو اور مراد ہوتی ہے کہ ہمیشہ اور ہر وقت اس کے نگران حال نہ ہو ۔
 بعض مفسرین نے یہ خیال بھی ظہر کیا ہے کہ مذکوره چاراوقات سے نماز کے چار اوقات مراد ہیں۔ مگر اس اعتراض کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ پانچ اوقات کے بجاۓ صرف 

چار اوقات کا ذکر کیوں ہے ؟
 (یعنی وقت عشاء کا کوئی ذکر نہیں ہے)  
 لکین ـــــــ ممکن ہے کہ اس سوال کا یہ جواب دیا جاۓ کہ چونکہ مغرب و عشا کی نمازوں کا وقت نسبتًا نزدیک هے اور ان دونوں نمازوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹے کا 

فاصلہ ہے۔ اس لیے دونوں کا ذکر ایک ہی جگہ کر دیا گیا ، جب کہ نماز ظہر و عصر کے اوقات فضیلت میں چند گھنٹے کا فاصلہ ہے۔
 لیکن ــــــ اگر ہے ہم حمد و تسبیح کا وہ وسیع مفہوم لیں جو آیات زیر بحث سے مترشح ہوتا ہے تو پھر سے پانچ نمازوں میں محدود نہ رہے گی ۔ ہر چند کہ ان نمازوں میرے اس کا 

واضح اطلاق ہوتا ہے۔ 
 اس مقام میر اس نکتے کا ذکر بھی لازمی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ "سبحان الله"  "وله الحمد" کہہ کر خدانے اپنی تسبیح و حمد خود ہی کی ہو ۔ جیسا کہ سورہ مومنون کی آیت میں فرمایا 

گیا ہے:
  فتبارك الله احسن الخالقين 
  پُر برکت اور جاوید وہ خدا جو خلق کرنے والوں میں بہترین ہے۔ 
 یا ــــــ ممکن ہے کہ یہ حمد و تسبح بمعنی امر ہو۔ یعني "ستبحوه واحمد والہ" یعنی اس کی تسبیح اور حمد کرو 
 یہ تفسیر اس مفہوم سے قریب تر معلوم ہوتی ہے کہ آیات زیر بحث میں تمام بندوں کو ہرصبح و شام اور بوقت ظہر و عصر حمد و
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1       ملحوظ خاطر رہے کہ "عشیًا" و"حين تظھرون" " عطف ہے "حين تمسون" پر جس کا تعلق موضوع  تسبیح سے ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 لیکن ـــــ بعض مفسرین نے زندہ کو مردہ سے نکالنے کی یہ تفسیر کی ہے کہ انسان و حیوان نطفے سے پیدا ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہاہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کافر کے گھر میں 

مومن پیدا ہو جاۓ ۔ بعض نے سونے والوں کا بیدار ہونا مراد لیا ہے۔ 
 لیکن یہ قطعی عیاں ہے کہ یہ تمام تعبیرات و تاویلات آیت کے لغوی معنی سے مطابقت نہیں رکھتیں ۔ کیونکہ نطفے ہی کو لیجئے تو وہ مردہ نہیں ہوتا بلکہ وہ موجود زندہ ہوتا ہے۔ اسی 

طرح ایمان و کفر کے استعارات کو آیت کے باطن سے تو اخذ کیا جاسکتا ہے لیکن ظاہری معنی اس طرح رائج نہیں ہیں۔ 
 آیت کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ خدا ہمیشہ مردہ موجودات سے زندہ موجودات کو نکالتا ہے۔ اور زندہ موجودات کو بے جان موجودات میں بدل دیتا ہے۔ دور حاضر میں انسان نے علوم 

میں تجربات اور مشاہدات سے جتنی بھی ترقی کی ہے اور معلومات کا جو ذخیرہ مبہم پہنچایا ہے اس کے مطابق ہے یہ ہرگز نہیں دیکھا گیا کہ غیر ذی حیات تو زنده وجود پیدا ہوجائے۔ یعنی زندگی سے 

زندگی پیدا ہوتی ہے نہ کہ موت سے ۔ بلکہ ہمیشہ زندہ موجودات بیج ؎1 یا کسی دوسرے سے زندہ وجود کے نطفے سے تولد ہوتے ہیں۔ 
 ابتدا میں بی کره زمین آگ کا ایک گولا تھا ۔ اس پر زندگی کا وجود نہ تھا۔ بعد میں ان مخصوص اسباب کی وجہ سے (جن کا علوم حاضر کے ذریعے سے اب تک انکشاف نہیں ہوسکا) اس 

بے جان زمین سے  ، ایک عظیم تحریک کے ساتھ زنده مخلوقات پیدا ہوگئی۔ 
 لیکن جہاں یہ موجودہ حالات میں ، انسان کے علم و دانش کی رسائی ہے اس کے ذریعے کره زمین کے موجوده  حالات میں یہ تحریک نظر نہیں آتی ۔ (ممکن ہے کہ سمندروں کی 

گہرائی میں اب تک یہ عظیم تحریک حیات موجود ہو)۔ 
 لیکن ہمارے لیے  جو بات محسوس اور کاملًا قابل ادراک ہے وہ یہ ہے کہ بے جان موجودات زنده موجودات کے اجسام کا جزو بن جاتے ہیں اور پھر خود بھی زنده مخلوقات میں شامل 

ہوجاتے ہیں۔ 
 ہم جو آب و غذا کھاتے ہیں وہ زندہ مخلوق نہیں ہے۔ لیکن وہ جیسے ہی ہمارے جسم کا جزو بنتی ہے، ایک زنده مخلوق بن جاتی ہے ۔ غذا کی وجہ سے ہمارے بدن کے خلیوں CELLS 

پرمزید خلایا کا اضافہ ہوتا جاتا ہے  ۔ چنانچہ اسی طرح ایک طفل شیر خوار جوان ہوکر قوی ہیکل بن جاتا ہے۔ 
 کیا یہ اصول تغذیہ موت سے زندگی کو برآمد کرنا نہیں ہے؟ 
 بنا بریں کہا جاسکتا ہے کہ عالم طبیعی کے نظام میں دائما ایک دور جاری رہتا ہے کہ موت سے زندگی اور زندگی سے
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1     مصنف نے بیج کی مثال تو دی ، مگر اس کی تشریح نہیں کی ۔ ہر بیج میں قابلیت نشو و نما خفتہ ہوتی ہے ۔ زمین کی قوت نامیہ اسے بیدار کرتی ہے اور روح پیدا کردیتی ہے ۔ صرف جدید 

علمائے حیاتیات BIOLOGIST ہی نہیں  ، قدمانے بھی یہ معلوم کرلیا تھاکہ نباتات میں بھی زندگی ہے ۔ اس کا نام انھوں نے روح نباتی رکھا تھا ۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم قطعی واضح ہے کہ خدا 

مرده شے سے زندہ کو وجود میں لاتاہے۔ مفسرین نے زندگی کا صرف ایک ہی صورت کو پیش نظررکها جو حیوانات میں ہے ۔ اسی وجہ سے انھوں نے ادھر ادھر کی تاویلات کی ہیں۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 اسی دلیل سے وہ خدا جو خالق فطرت ہے اس امر پر میں قادر ہے کہ بروز قیامت مردوں کو زندہ کر دے۔ 
 البتہ ، جیسا کہ تم نے سطور بالا میں کہا ہے ، معنوی اور باطنی لحاط سے آیۂ بحث کی اور تفاسیر بھی ہوسکتی ہیں مثلًا: کافر کی نسل سے مومن پیدا ہوجائے اور مومن  پیدا ہوجائے 

اور مومن کی اولاد کافر ہوجائے ، جاہل کی اولاد عالم ہوجاۓ اور عالم کا فرزند جاہل رہ جاۓ، مفسد کاخلف صالح ہو اور صالح کا خلف مفسد ہوجاۓ۔ بعض اسلامی روایات میں اس طرف اشاره بھی 

ہواہے۔ 
 ممکن ہے کہ بطون آیت سے یہ معانی اخذ کیے گئے ہوں۔ کیونکہ آیات قرآن کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی نیز یہ بھی ممکن ہے کہ مرگ و حیات کے ایک جامع اور وسیع معنی ہوں جن 

میں مادی اور روحانی دونوں کو شامل ہوں۔ 
 امام موسٰی بن جعفر علیہ السلام سے یہ "یحى الارض بعد موتها" کی تفسیرمیں ایک روایت مروی ہے کہ آپ نے فرمایا "لیس یجمیهای بالقطر ولكن یبعث الله رجالًا فيحيون العدل فتحي 

الارض لاحياء العدل ولاقامة العدل فيه انفع في الارض من القطرار یعين صباحًا -  
 اس آیت کا مقصود یہ نہیں ہے کہ خدا زمین کو بارش کے ذریعے زندہ کرتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو پیدا کرتا ہے جو اصول عدل کو زندگی بخشتے ہیں اور احیاء 

عدل سے زمین زندہ  ہوجاتی ہے اور آگاہ رہو کہ زمین پر عدل کا قائم ہونا چالیس روز تک مسلسل بارش سے زیادہ نافع ہے۔ ؎1 
 امام کے اس قول سے کہ آیت کا مقصد" نزول باران" نہیں ہے 
 اس آیت کے معانی کو محدود کرنے کی نفی ہوجاتی ہے یعنی آیت کی تفسیر کو بارش کے معنی ہی تک محدود نہ کرنا چاہیئے کیونکہ عدالت کے ذریعے زمین کی معنوی زندگی نزول 

باراں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     نقل از کتاب کافي ۔ نورالثقلین ، جلد 4 ، ص 173