Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 1-7

: الروم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الم ۱غُلِبَتِ الرُّومُ ۲فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ۳فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۴بِنَصْرِ اللَّهِ ۚ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۵وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۶يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ۷

Translation

الۤمۤ. روم والے مغلوب ہوگئے. قریب ترین علاقہ میں لیکن یہ مغلوب ہوجانے کے بعد عنقریب پھر غالب ہوجائیں گے. چند سال کے اندر ,اللہ ہی کے لئے اوّل و آخر ہر زمانہ کا اختیار ہے اور اسی دن صاحبانِ ایمان خوشی منائیں گے. اللرُکی نصرت و امداد کے سہارے کہ وہ جس کی امداد چاہتا ہے کردیتا ہے اور وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور مہربان بھی ہے. یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے بھی بے خبر ہے. یہ لوگ صرف زندگانی دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے بالکل غافل ہیں.

Tafseer

									جملہ مفسرین بزرگ کااس پراتفا ق ہے کہ اس سورة کی پہلی آیات ا س وقت نازل ہوئی تھیں جب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکّہ میں تھے اورمومنین بہ لحاظ تعداد اقلیّت میں تھے . اس زمانے میں ایرانیوں اور رومی حکومت میں جنگ ہوئی . جس میں ایرانی جوفی کوفتح ہوئی تھی ۔
مکّہ کے مشرکین نے اس فتح کوفال نیک سمجھ کراپنے شرک کومبنی بر حق ہونے کی دلیل قرار دیا اور کہاکہ ایرانی تو مشرک اور مجوسی ہیں کیونکہ وہ ثنویت پرست ہیں مگر رومی مسیحی اور اہل کتاب ہیں . لہذا جس طرح ایرانی غالب اور رومی مغلوب ہوئے اسی طرح آخر ی فتح شرک ہی کی ہوگی . اسلام کادور جلد ختم ہوجائے گا اورہم فتح مند ہوں گے ۔
اگرچہ اس قسم کی خوش فہمیاں بے بنیاد ہوتی ہیں . لیکن معاشرے اور ماحول کے جہلامیں یہ پرو پیگنڈ ابے اثر نہیں رہ سکتاتھا . لہذا یہ امر مسلمانوں پر گراں گزرا ۔
اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں . جن میں حتمی طو ر پر یہ کہاگیا کہ اگر چہ ایرانی اس جنگ میں کامیاب ہوگئے ہیںلیکن زیادہ وقت نہیں گزرے گا . کہ رومی فوج سے شکست کھائیں گے ، یہاں تک کہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے کاوقت بھی بتا دیاگیااور کہا کہ چند سال کے اندر ہی یہ امر وقوع پذیر ہوگا ۔
قرآن کی یہ حتمی گوئی ایک طر ف تواس کتاب آسمانی کے اعجاز کی علامت اوراس امر کی دلیل تھی کہ اس کے لانے والے کوخدا کے علم بے پایاں اوراس کے عالم الغیب ہونے پر کتنا بھروسہ تھا .دوسری طرف . یہ مشرکین کی فال گیری نقیض تھی . اس پیش گوئی نے مسلمانوں کوایسا آسودہ مطمئن کردیا کہ ان میں سے بعض نے اس مسئلہ پر مشرکین سے شرط باندھنی شروع کردی .( یہ ملحوظ رہے کہ اس وقت تک اس قسم کی شرط بندی کی ممانعت کاحکم نہیں آیا تھا (1) ۔
 1۔ یہ شان نزول مختلف تعبیرا ت سے تفاسیر مجمع البیان ،المیزان ، نورا ثقلین ، ابو الفتوح رازی ، تفسیر فخررازی ، تفسیر فی ضلال اوردوسری تفاسیر میں آئی ہے ۔