سوره روم / آیه 1 - 7
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الم ۱غُلِبَتِ الرُّومُ ۲فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ۳فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۴بِنَصْرِ اللَّهِ ۚ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۵وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۶يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ۷
الۤمۤ. روم والے مغلوب ہوگئے. قریب ترین علاقہ میں لیکن یہ مغلوب ہوجانے کے بعد عنقریب پھر غالب ہوجائیں گے. چند سال کے اندر ,اللہ ہی کے لئے اوّل و آخر ہر زمانہ کا اختیار ہے اور اسی دن صاحبانِ ایمان خوشی منائیں گے. اللرُکی نصرت و امداد کے سہارے کہ وہ جس کی امداد چاہتا ہے کردیتا ہے اور وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور مہربان بھی ہے. یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے بھی بے خبر ہے. یہ لوگ صرف زندگانی دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے بالکل غافل ہیں.
۱ ۔ الم ۔
۲۔ غُلِبَتِ الرُّومُ ۔
۳۔ فی اٴَدْنَی الْاٴَرْضِ وَ ہُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُونَ ۔
۴۔ فی بِضْعِ سِنینَ لِلَّہِ الْاٴَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَ یَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۔
۵۔ بِنَصْرِ اللَّہِ یَنْصُرُ مَنْ یَشاء ُ وَ ہُوَ الْعَزیزُ الرَّحیمُ ۔
۶۔ وَعْدَ اللَّہِ لا یُخْلِفُ اللَّہُ وَعْدَہُ وَ لکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُونَ ۔
۷۔ یَعْلَمُونَ ظاہِراً مِنَ الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ ہُمْ عَنِ الْآخِرَةِ ہُمْ غافِلُونَ ۔
ترجمہ
۱۔ المّ
۲۔ اہل روم مغلوب ہوگئے
۳۔ ( اور یہ شکست ) نزدیک کے ملک میں دونما ہوئی لیکن وہ مغلو ب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے ۔
۴۔ چند ہی سال میں . سب کام حکم خداسے ہوتے ہیں خواہ ( ا س شکت و کامیابی سے ) قبل ہوں یابعد میں اوراس رو ز مومنین خوش ہوجائیںگے ۔
۵۔ خداکی مدد کی سبب سے . خدا جسے چاہتا ہے فتح و نصرت دیتا ہے اوروہ عزیز و رحیم ہے ۔
۶۔ یہ خدا کا وعدہ ہے اوروہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا . لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
۷۔ یہ لوگ تو دنیا کی طرف ظاہری زندگی کو جانتے ہیں آخرت کی زندگی سے غافل ہیں ۔