شان نزول
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ ۶۷وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ ۶۸وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ۶۹
کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے واسطے ایک محفوظ حرم بنادیا ہے جس کے چاروں طرف لوگ اچک لئے جاتے ہیں تو کیا یہ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کردیتے ہیں. اور اُس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی طرف جھوٹی باتوں کی نسبت دے یا حق کے آجانے کے بعد بھی اس کا انکار کردے تو کیا جہّنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے. اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اللرُحسن عمل والوں کے ساتھ ہے.
تفسیر” درالمنثور “ میں زیر بحث آیت کے متعلق ابن عباس سے یہ روایت منقول ہے ۔
مشرکین کے ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ کہا : ہم آپ کے دین میں اس وجہ سے داخل نہیں ہوتے کہ ہم ڈرتے ہیں کہ لوگ ( مخالفین ) ہمیں اٹھاکرلے جائیں گے ( اور جلد ہی موت کے گھاٹ اتار دیں گے کیونکہ ہماری تعداد کم ہے . اور مشرکین عرب کی جمعیت زیادہ ہے . جیسے ہی انھیں یہ اطلاع ملے گی کہ ہم نے آپ کادین قبول کرلیاہے تو وہ ہمیں اٹھا کر لے جائیں گے ہم ان میں سے صرف ایک ہی شخص کو خوراک ہیں ۔