Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 56-60

: العَنکبوت

يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ ۵۶كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ۵۷وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ۵۸الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ۵۹وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۶۰

Translation

میرے ایماندار بندو! میری زمین بہت وسیع ہے لہٰذامیری ہی عبادت کرو. ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والاہے اس کے بعد تم سب ہماری بارگاہ میں پلٹا کر لائے جاؤ گے. اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں انہیں ہم جنّت کے جھروکوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے کہ یہ ان عمل کرنے والوں کا بہترین اجر ہے. جن لوگوں نے صبر کیا ہے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں. اور زمین پر چلنے والے بہت سے ایسے بھی ہیں جو اپنی روزی کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے ہیں لیکن خدا انہیں اور تمہیں سب کو رزق دے رہا ہے وہ سب کی سننے والا اور سب کے حالات کا جاننے والا ہے.

Tafseer

									بہت سے مفسرین کانظر یہ ہے کہ زیر نظر پہلی آیت ا ن مو منین کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں کفار کاظلم برداشت کررہے تھے .یہاں تک کہ وہ فرائض اسلامی کو بھی ادا نہ کرسکتے تھے . اس لیے انھیں حکم دیاگیاکہ اس سرزمین سے ہجرت کرجائیں ۔
نیز بعض مفسرین کا خیال ہے کہ آخری زیر نظر آیت یعنی ’ ’ وکاین من دابة لاتحمل روزقھا “ 
ان مومنین کی شان میں ہے جو مکہ میں دشمنو ں کے ستم سہہ رہے تھے . اورکہتے تھے . کہ اگرہم مدینہ کو ہجرت کرجائیں تو وہاں نہ ہماراکوئی گھرہوگا نہ زمین . و ہاں ہمیں کو ن آب وغذادے گا ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی جس میں ہے کہ زمین پر تمام حرکت کرنے والے خداکے خوان نعمت سے روزی کھاتے ہیں . تم بھی اپنی روزی کی فکرنہ کرو۔