Tafseer e Namoona

Topic

											

									  دلائل اعجاز قرآن

										
																									
								

Ayat No : 50-55

: العَنکبوت

وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِنْ رَبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ۵۰أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۵۱قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ۵۲وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۵۳يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ ۵۴يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۵۵

Translation

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ آخر ان پر پروردگار کی طرف سے آیات کیوں نہیں نازل ہوتی ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ آیات سب اللہ کے پاس ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر عذاب هالہٰی سے ڈرانے والا ہوں. کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میںرحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاددہانی کا سامان موجود ہے. آپ کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے خدا کافی ہے جو آسمان اور زمین کی ہر چیز سے باخبر ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کا انکار کرتے ہیں وہ یقینا خسارہ اٹھانے والے لوگ ہیں. اور یہ لوگ عذاب کی جلدی کررہے ہیں حالانکہ اگر اس کا وقت معین نہ ہوتا تو اب تک عذاب آچکا ہوتا اور وہ اچانک ہی آئے گا جب انہیں شعور بھی نہ ہوگا. یہ عذاب کی جلدی کررہے ہیں حالانکہ جہّنم یقینا کافروں کو اپنے گھیرے میں لینے والا ہے. جس دن عذاب انہیں اوپر سے اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور کہے گا کہ اب اپنے اعمال کا مزہ چکھو.

Tafseer

									اس میں شک نہیں کہ قرآن پیغمبراسلام کا عظیم ترین معجزہ ہے اور یہ معجزہ جاودانی ، اپنی دلیل آپ ، منہ بولتا ، محسوس اورہر زمانہ کے لیے مناسب اور انسانوں کے ہر طبقہ کے لیے ہے ۔
ہم اعجاز قرآن کے متعلق مشرح اورتوضیحی بحث جلد اوّل میں سورہ بقرہ کی آیت۲۴ کے تحت تحریر کی ہے . اس مقام پر اس کی تکرار کی حاجب نہیں ہے ۔
۲۔ انکار معجزات کاثبوت :بعض مغرب زدہ دانشور چاہتے ہیں کہ پیمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معجزات کا انکار کردیں . ان کااصرار ہے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرآن کے علاوہ کوئی اور معجزہ صادر نہیں ہوا ا ن حضرات کے مزاج سے یہ بھی امکان ہے کہ وہ قرآن کو بھی معجزہ نہ سمجھیں حالانکہ ان کاانکار معجزات آیات قرآنی ،روایات متواتر اوراسلام کی مسلمہ تاریخ کے خلاف ہے ۔
ہم نے اس موضوع کو جلد ۱۲ میں س ورہ بنیاسرائیل کی آیات ۹۰ تا ۹۳ کے تحت بیان کیاہے ۔
۳۔ من پسند کے معجزات : پیمبروں کے مخالفین کی ہمیشہ ایک روش یہ بھی رہی ہے کہ وہ معجزات کو ایک ایساعمل بتاتے رہے ہیں جو پیمبرو ں سے فی البدیہہ ار تجالاسرزد ہوتاہے ۔
وہ اپنے اس عمل سے ایک طرف تومعجزے کی اہمیت کم کرکے اسے بے قدر اور مبتذل ثابت کرناچاہتے تھے دوسر ی طرف وہ اس بہانے سے انبیاء کی دعوت کور د کرناچاہتے تھے ۔
لیکن ابنیاء کبھی بھی ان کی اس سازش کاشکار نہیں ہوئے . جیساکہ آیات بالامیں مذکورہ ہے . وہ ان کے جواب میں کہتے تھے کہ : 
” معجزات ہمارے اختیار میں نہیں ہیں کہ جنہیں تمہاری مرضی اورخواہش کے مطابق ہرروز گھڑی دکھایاجائے بلکہ معجزہ توصرف حکم خدا سے صادر یوتا ہے اورہمارے اختیار سے باہر ہے “ 
معجزات اقتراحی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ہشتم میں سورہ یونس کی آیت ۲۰ کے تحت تفصیل بیان ہو چکی ہے ۔ بعض مفسرین نے ” یوم “ کوفعل مقدر کا ظرف سمجھا ہے .اور بعض نے ” محیطة “ سے متعلق جاناہے ۔