۳۔ کفار اورظالمین
وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ۴۶وَكَذَٰلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ ۚ فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَمِنْ هَٰؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُونَ ۴۷وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ ۴۸بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ ۴۹
اور اہلِ کتاب سے مناطرہ نہ کرو مگر اس انداز سے جو بہترین انداز ہے علاوہ ان سے جو ان میں سے ظالم ہیں اور یہ کہو کہ ہم اس پر ایمان لائے ہیں جو ہماری اور تمہاری دونوں کی طرف نازل ہوا ہے اور ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم سب اسی کے اطاعت گزار ہیں. اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور ِن میں سے بھی بعض لوگ ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار کافروں کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ہے. اور اے پیغمبر آپ اس قرآن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے ورنہ یہ اہل باطل شبہ میں پڑ جاتے. درحقیقت یہ قرآن چند کھلی ہوئی آیتوں کا نام ہے جو ان کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار ظالموں کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ہے.
آیات زیربحث میں ایک مرتبہ ہمیں یہ جملہ نظر آتا ہے :
ہماری آیات کا کوئی انکار نہیں کرتامگر کفار کہ وہ از روی عناد انکار کرتے ہیں ۔
یہی جملہ بار دیگر قدر ے تفاوت کے ساتھ نظر آتا ہے .جس میں کافرون کے بجائے ظالمون استعمال ہواہے :
”ہماری آیات کاظالموں کے سواکوئی انکار نہیں کرتا “
ان دونوں آیات کے تقابل سے ثابت ہوتاہے کہ یہ تکرا ر مطلب نہیں ہے بلکہ ان میں دومختلف مطالب بیان کیے گئے ہیں ۔
آیت ۴۷ میں جہاں کافروون استعمال ہوا ہے یہاں اشارہ منکرین کے عقیدے کی طرف ہے اورآیت ۴۹ میں جہاں ظالموں کہاگیاہے یہاں اہل انکارکاعمل مرا د ہے ۔
اول یہ فرمایاگیا ہے . کہ وہ لوگ جنھوں نے اپنی رائے اور تجویزیا اپنے بزرگوں کی رانہ تقلید کی وجہ سے کفرو شرِک کو اختیار کرلیاہے ، وہ ہرمنزل من اللہ آیت کا نکار کرتے ہیں .خواہ ان کی عقلاسے درست اورحق ہی سمجھتی ہو ۔
دوسرے مقام پریہ فرمایاگیا ہے کہ وہ لوگ جنہیں نے اپنی ذات پر اور معاشرے پر ظلم کی راہ اختیار کی ہے ، اسی طرز عمل میں اپنے ناجائز مفاد ات دیکھتے ہیں اوراس ظلم کو جاری رکھنے کامصمم ارادہ کیے ہوئے ہیں .تو یہ فطری امر ہے . کہ وہ ہماری آیات کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ہماری آیات جس طرح ان کے اسلوب فکر سے ہم آہنگ نہیں ہیں. ان کے شیوئہ عمل سے بھی مطابقت نہیں رکھتیں ۔