۲۔ بہت سی سبق آموز باتیں
وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِنْ دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ۲۳فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ۲۴فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۲۵
اور جب مدین کے چشمہ پروارد ہوئے تو لوگوں کی ایک جماعت کو دیکھا جو جانوروں کو پانی پلارہی تھی اور ان سے الگ دو عورتیں تھیں جو جانوروں کو روکے کھڑی تھیں .موسٰی نے پوچھا کہ تم لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ان دونوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے ہیں جب تک ساری قوم ہٹ نہ جائے اور ہمارے بابا ایک ضعیف العمر آدمی ہیں. موسٰی نے دونوں کے جانوروں کو پانی پلادیا اور پھر ایک سایہ میں آکر پناہ لے لی عرض کی پروردگار یقینا میں اس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری طرف بھیج دے. اتنے میں دونوں میں سے ایک لڑکی کمال شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور اس نے کہا کہ میرے بابا آپ کو بلارہے ہیں کہ آپ کے پانی پلانے کی اجرت دے دیں پھر جو موسٰی ان کے پاس آئے اور اپنا قصّہ بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈرو نہیں اب تم ظالم قوم سے نجات پاگئے.
حضرت موسٰی (علیه السلام) کی سرگزشت کے اس حصّے میں بکثرت سبق آموز باتیں ہیں :
(ا) پیمبران خداہمیشہ مظلوموں کے حامی رہے ہیں .حضر ت موسٰی (علیه السلام) اس زمانے میں بھی جبکہ وہ مصر میں تھ اور اس وقت بھی جبکہ وہ مدین میں آگئے ، غرض جہاں بھی وہ ظلم و ستم کامنظر دیکھتے تھے بے چین ہوجاتے تھے . ا ن کا یہ عمل عین حق تھا کیونکہ بعثت انبیاء سے خدا کاایک مقصد یہ بھی ہے ۔
(ب) بعض اوقات انسان کامعمول خیرکتنا پربرکت ثابت ہوتاہے . حضرت موسٰی (علیه السلام) نے کنویں سے پانی کا صرف ایک ڈو ل کھینچا .اس عمل سے ان کا مقصد رضائے الہٰی کے حصول کے علاوہ کچھ نہ تھا لیکن یہ چھوٹا ساکام کس قدر پر برکت ثابت ہوا ! کیونکہ یہی عمل خیرا س امرکا سبب ہوا کہ وہ پیغمبر خدا حضرت شعیب (علیه السلام) کے مکان پر پہنچ گئے . انھیں احساس مسافرت سے نجات ملی اورایک اطمینان بخش پناہ گاہ مل گئی . انھیں غذا ، لباس ارایک پاکدامن زوجہ بھی نصیب ہوئی . علاو ہ بریں افضل ترین نعمت نصیب ہوئی کہ وہ دس سال کی مدّت تک حضرت شعیب (علیه السلام) جیسے پیر روشن ضمیر کے انسان ساز مکتب تربیت میں رہ کر مخلوق کر رہبری کے لےے تیار ہوگئے ۔
( ج ) مردان خداکسی کی خدمت بھی کو بھی بالخصوص مزدور وں کی خدمت کو بے اجرو بے معاوضہ نہیں رہنے دیتے .اسی وجہ سے جب حضرت شعیب (علیه السلام) نے اس اجنبی کے متعلق سناکہ اس نے میرے بھیڑوں کوپانی پلایاہے تو چین سے نہ بیٹھے .فورا ً اپنی بیٹی کواس کی تلاش میں بھیجاتاکہ اس کی مزدوری اداکریں ۔
(د) حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی میںیہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ وہ ہمیشہ یاد خدا میں مشغول رہتے تھے اور ہر مشکل کے حل کے لیے اسی سے دعاکرتے تھے ۔
جس وقت ایک قبطی ان کے ہاتھ سے مارا گیا اورترک اولیٰ سرزد ہوا تو انھوں نے خداسے فورا ً عفور اور مغفرت کی دعاکی :
قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی
خدایامیں نے اپنے اوپر ظلم کیاہے تومجھے معاف کردے .
اورجس وقت وہ ملک مصر سے باہر آئے تو دعاکی :
قال رب نجنی من القوم الظالمین
خدایاتو مجھے اس ستمگار قوم سے نجات دے
اور جس وقت وہ شہر مدین کی طرف روانہ ہوئے تو متوجہ الی اللہ ہوکر کہا :
قال عسٰی ربی ان یھدینی سواء السبیل
مجھے امید ہے کہ خدامجھے راہ راست کی ھدایت کرے گا ۔
اور جس وقت حضرت شعیب کی بھیڑوں کو سیراب کیا او سائے میں آرام کرنے لگے توخداسے عرض کیا :
فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر
اے پر وردگار تومجھے نعمت عطاکرے گا میں اس کا محتا ج ہوں ۔
خصوصا یہ آخر ی دعاجو انھوں نے زندگی کے بحرانی ترین وقت میں مانگی م نہاہیت مودبانہ ، پر اطمینا ن اورسکون آمیز تھی انھوں نے یہ نہیں کہا کہ خدایا میری حاجت کو روافرما . بلکہ صرف یہ کہاکہ ” میں تیرے احسان اورخیرکامحتاج ہوں “ ۔
(ر) یہ خیال نہ کیاجائے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) صرف سختی کے وقت ہی خداکویاد کرتے تھے بلکہ قصر فرعون میں بھی جبکہ ان کا وقت نازو لغم میں گزررہاتھا وہ خدا کونہ بھولے . ہم رویات میں پڑ ھتے ہیں کہ ایک روز فرعون کے سامنے انھیںچھینک آگئی . تو انھوں نے فورا ً ”الحمد اللہ رب العالمین “ کہا . فرعون یہ بات سن کر ناراض ہوگیا اوران کے ایک تھپڑ مارا . حضرت موسٰی (علیه السلام) نے بھی جواب میں اس کی لمبی داڑھی پکڑ کر کھینچی .فرعون کواس پرسخت غصّہ آیا اورانھیںقتل کا کرنے کا ارادہ کرلیا مگر بیوی نے انھیں یہ کہہ کربچالیاکہ ابھی بچّہ ہے اسے ابھی کیا پتہ “ (1)۔
1۔تفسیر نواثقلین جلد ۴ صفحہ ۱۱۷۔