Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره قصص / آیه 18 - 22

										
																									
								

Ayat No : 18-22

: القصص

فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنْصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ ۱۸فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَنْ يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِنْ تُرِيدُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ ۱۹وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ ۲۰فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۲۱وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّي أَنْ يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ ۲۲

Translation

پھر صبح کے وقت موسٰی شہر میں داخل ہوئے تو خوفزدہ اور حالات کی نگرانی کرتے ہوئے کہ اچانک دیکھا کہ جس نے کل مدد کے لئے پکارا تھا وہ پھر فریاد کررہا ہے موسٰی نے کہا کہ یقینا تو کھنَا ہوا گمراہ ہے. پھر جب موسٰی نے چاہا کہ اس پر حملہ آور ہوں جو دونوں کا دشمن ہے تو اس نے کہا کہ موسٰی تم اسی طرح مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک بے گناہ کو قتل کیا ہے تم صرف روئے زمین میں سرکش حاکم بن کر رہنا چاہتے ہو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ تمہارا شمار اصلاح کرنے والوں میں ہو. اور ادھر آخ» شہر سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ موسٰی شہر کے بڑے لوگ باہمی مشورہ کررہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں لہذا تم شہر سے باہر نکل جاؤ میں تمہارے لئے نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں. تو موسٰی شہر سے باہر نکلے خوفزدہ اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اور کہا کہ پروردگار مجھے ظالم قوم سے محفوظ رکھنا. اور جب موسٰی نے مدین کا رخ کیا تو کہا کہ عنقریب پروردگار مجھے سیدھے راستہ کی ہدایت کردے گا.

Tafseer

									۱۸۔فاصبح فی المدینة خائفا یترقب فاذاالذی استنصرہ بالا مس یستصرخہ قال لہ موسی انک لغوی مبین 
۱۹۔ فلما ان اراد ان یبطش بالذی ھو عدو لھما قال یموسی اترید ان تقتلنی کماقتلت کما تفسا م با لا مس ان ترید الاان تکون جبّار فی الارض وما ترید ان تکون من المصلحین 
۲۰۔ وجاء من اقصالمدینة یسعٰی قال یموسٰی ان الملا یاتمرون بک لیقتلوک فاخرج انی لک من النصحین 
۲۱۔ فخرج منھا خائفا یترقب قال رب نجنی من القوم الظلمین 
۲۲ ۔ ولما توجہ تلقاء مدین قال عسی ربی ان یھدینی سواء السبیل


ترجمہ

۱۸۔ موسٰی نے شہر میں بحالت خوف صبح کی جبکہ ہر لحظ وہ کسی حاد ثے ( او رکسی کبر ) کے انتظار مین تھا .ناگہاں اس نے دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی .آج پھراسے پکار رہاہے اوراس سے نصرت طلب کررہا ہے .موسٰی نے اس سے کہاکہ تو آشکار ا طور پر گمراہ ہے ۔
۱۹۔ پس جب اس ( موسٰی ) نے ارادہ کیا کہ ا س شخص کوجوان دونوں کادشمن تھا پکڑلے تواس نے کہا : اے موسٰی ! کیا تو آج مجھے بھی اسی طرح قتل کرناچہاتاہے جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیاتھا . کیا تو چاہتاہے کہ تو زمین میںظالم بن کر رہے اور کیا تو مصلحین میں سے نہیں ہوناچاہتا ؟
۲۰ ۔ (اس وقت ) ایک شخص شہر کے دور کے حصّہ سے (فرعونیوں کے مرکز سے ) تیزی سے آیا اور کہا کہ سردار تیرے بارے میں مشورہ کررہے ہیں کہ تجھے قتل کردیں . پس توفورا ً شہر سے نکل جاکہ میں تیراخیر خوا ہ ہوں ۔
۲۱۔ وہ شہر سے ڈرتے ہوئے نکلا اور ہر لحظ کسی حادثے کاکھٹکاتھا ۔(اس نے خداسے دعاکی ) : اے میرے رب ! تومجھے ان ظالم لوگوں سے نجات دے ۔
۲۲۔ اورجب ا س نے مدین کی طرف رخ کیاتو کہا : مجھے امید ہے کہ میرا ر ب مجھے راہ راست کی ھدایت کریگا ۔