Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ مجرموں کی مدد کرنا بہت بڑا گناہ ہے

										
																									
								

Ayat No : 14-17

: القصص

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۴وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِنْ شِيعَتِهِ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبِينٌ ۱۵قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۱۶قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ ۱۷

Translation

اور جب موسٰی جوانی کی توانائیوں کو پہنچے اور تندرست ہوگئے تو ہم نے انہیں علم اور حکمت عطا کردی اور ہم اسی طرح نیک عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں. اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسٰی نے اسے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا اور کہا کہ یہ یقینا شیطان کے عمل سے تھا اور یقینا شیطان دشمن اور کھنَا ہوا گمراہ کرنے والا ہے. موسٰی نے کہا کہ پروردگار میں نے اپنے نفس کے لئے مصیبت مول لے لی لہذا مجھ معاف کردے تو پروردگار نے معاف کردیا کہ وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے. موسٰی نے کہا کہ پروردگار تونے میری مدد کی ہے لہذا میں کبھی مجرموں کا ساتھی نہیں بنوں گا.

Tafseer

									اسلامی فقہ میں ارتکاب کناہ کسی کی اعانت کرنے اورظالمین کی مدد کرنے کے بارے میں ایک مفصل باب ہے ، جب میں احدیث کثیر ہ کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ بد ترین گناہوں میں سے میں ایک گناہ ظالموں ،ستمگاروں کے اورمجراموں کی اعانت کرنابھی ہے . اگر کوئی ایساکرتا ہے تو اس کایہ عمل امرکا باعث بنتاہے کہ اس کا ( مدد گار کا ) حشر اورعاقبت بھی ان ا ہی ستمگاروں کے ساتھ ہوگی ۔
یہ امر مسلّم ہے کہ ہر معاشرے میںظالم،ستمگار اور فرعون جیسے کچھ لوگ ہوتے ہیں اگر اس معاشرے کے عوام ان لوگوں کے کوموں ک یتا ئید نہ کریں (یعنی خا موش نہ رہیں اوراظہار پسند ید گی کریں ) تو پھر کوئی بھی فرعون نہ بن سکے ۔
ا ن ظالم فرعونوں کے موئید ین عام طوپر کمینے ، مفلوک یاابن الوقت دنیا پرست لوگ ہوتے ہیں ، جو ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور ان کے دست و بازو یاکم ازکم ان کے لشکر اورجمعیت میں اضافے کاسبب بن جاتے ہیں تاکہ ان ستم شعاروں کے لیے شیطانی قوّت فراہم کریں ۔
قرآن مجید میں اخلاق کے اس بنیاد ی اصول کے متعلق بہ تکرار ھدایات موجود ہیں .چنانچہ سورئہ مائدہ کی دوسری آیت میں مذکور ہے : 
” وتعا ونوا علی البرّ والتقوی ولا تعاو نو علی الاثم والعدوان “۔
ایکدوسر ے سے نیکی اورتقویٰ کے کاموں میںتعاون کرومگر گناہ اور تعدّی کے کاموں میں مدد نہ کرو ۔
قرآن میں بصراحت مذکور ہے کہ ظالموں کے ساتھ ” رکون “ عذاب جہنم کاسبب ہے ۔
” رکون “ کے معنٰی خواہ قلبی میلان ہوں یا کسی کے ساتھ اس کے کام میںظاہر ی شریک ، یاکسی کے فعل پراظہار رضایت ، دوستی وخیر خواہی یااطاعت ،مفسرین نے ان میں سے ہر معنی کی تفسیر کی ہے ۔
اس کلمہ کا ایک اور مفہوم ہے جوان معانی کاجامع ہے اور وہ بھر وسہ ، اعتما د اور وابستگی ہے . یہ مفہوم ہمارے مقصود کا زندہ گواہ ہے ۔
امام زین العابدین علی بن الحسین سے ایک حدیث منقل ہے : 
محمدبن مسلم زہری ایک عالم شخص تھا . وہ بنی امیّہ کی حکومت بالخصوص ہشام بن عبد الملک کے ساتھ تعاون کیاکرتاتھا . امام علیہ اسلام نے جب اس کو ظالمین کی اعانت کرتے سے پرہیز کرنے کی ھدایت فرمائی تو اسے متنبہ کرنے کے لیے یہ الفاظ فرمائے :
اولیس ندعائھم ایاک حین دعوک جعلوک قطبا ادار وربک رحی مظالمھم ، وجسرا یعبرون علیک الی بلا یاھم سلما الی ضلا لتھم دایاالی عینھم سالک سبیلھم ، ید خلون بک الشک علی العماء و یقتادون بک قلوب الجھال الیھم ... فمااقل مااعطوک فی قدر مااخذو ا منک ! وما الیسرما عمرو ا لک فی جنب ماحز بوا علیک فانظر لنفسک فانہ لاینظرلھا غیرک وحاسبھا حساب رجل مسئول ! 
کیا انھوں نے (بنی امیّہ نے ) تجھے اپنے گرد مجتمع ہونے کی دعوت نہیں د ی؟ او ر کیا تجھے انھوں نے وہ محور نہیں بنایا جس کے گرو ان کے ظلم کی چکّی گھومتی ہے .اور کیا انھوں نے تجھے وہ پل قرار نہیں دیاجس پر سے مبور کرکے وہ اپنی بلاؤں کی طرف جاتے ہیں ۔ 
اور کیا انھوں نے تجھے اپنی ضلالت کے لیے سیڑھی نہیں بنای. اور کیاانھوں نے تجھے اپنی جہالت اور گمراہی کی طرف داعی اور پنی شرمناک راہ کا راہر و قرار نہیں دیا ؟ وہ تیرے ذریعے وہ جو کچھ تجھ سے لیتے ہیں اس کے عوض تجھے کس قدر قلیل معاوضہ دیتے ہیں اور تیر ے ذریعے وہ جتنا برباد کرتے ہیں اس کے مقابلے میں کتنا کم آباد کرتے ہیں ۔
پس تواپنے نفس پر غور کر کیونکہ خود تجھ سے زیادہ ، تیر اکوئی ہمدرد نہیں ہے .اور ایک شخص مسئول کی طرح توخود اپنے نفس کا حساب لے ( 1)۔
حقیقت یہ ہے کہ امام (علیه السلام) کی یہ معنٰی آشکار اور دلنشین ہراس عالم کو جو درباررس اور دابستئہ حکومت ہوااس کے بارے میں ہے او رواضح کرتی ہے کہ اس کے نتائج کس قدر برے اور نحس ہوتے ہیں ۔ 
ا بن عباس کہتے ہیں :کہ یہ آیت ” رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیر ا للمجرمین “ 
میں جملہ ان آیات کے ہے جو یہ گواہی دیتی ہیں کہ مجرمین کی مدد کرنا جرم و گناہ ہے اور مومنین کی اعانت کرنا فرمان الہٰی کی اطاعت ہے کہتے ہیں کہ لوگوں نے کسی عالم سے کہا کہ : 
” فلاں آدمی فلاں ظالم کامحرّ ر ہوگیا ہے اورصرف اس کی آمدنی اورخرچ کاحساب لکھتا ہے . اگر واہ اس کام کے معاوضے میں کچھ معاوضہ لے تو اس کی گزر بسر ہوجائے گی ورنہ وہ خود اور اس کے عیال فقرو فاقہ میں مبتلا ہوجائیں گے “ 
اس عالم نے اس سوال کے جواب میں صرف ایک جملہ کہا :
کہاتم نے اس مرد صالح ( حضرت موسٰی (علیه السلام) ) کاقول نہیں سنا ؟ 
ر ب بما انعمت علی فلن اکون ظھیرا للمجرمین 
خدا وند ا ان نعمتوں کے شکر انے میں جو تونے مجھے بخشی ہیں ، میں ہرگز مجر مین ک اعانت نہیں کروں گا ( 2) ۔
1۔ تحف العقول ،صفحہ ۶۶ ۔
2۔ ظالموں کی اعانت کے بارے میں ہم پہلے ہی دو تفصیل احادیث ذکر کرچکے ہیں . دیکھئے تفسیر نمونہ ج ۴ ،سورئہ مائد ہ کی آیت ۲ کی تفسیر کے ذیل میں اور ج ۹ سورہ ہود کی آیت ۱۱۳ کی تفسیر کے ذیل میں ۔