Tafseer e Namoona

Topic

											

									  رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی ذمہ داری

										
																									
								

Ayat No : 89-93

: النمل

مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ ۸۹وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۹۰إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۹۱وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ ۹۲وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۹۳

Translation

جو کوئی نیکی کرے گا اسے اس سے بہتر اجر ملے گا اور وہ لوگ روزِ قیامت کے خوف سے محفوظ بھی رہیں گے. اور جو لوگ برائی کریں گے انہیں منہ کے بھل جہّنم میں ڈھکیل دیا جائے گا کہ کیا تمہیں تمہارے اعمال کے علاوہ بھی کوئی معاوضہ دیا جاسکتا ہے. مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے مالک کی عبادت کروں جس نے اسے محترم بنایا ہے اور ہر شے اسی کی ملکیت ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اطاعت گزاروں میں شامل ہوجاؤں. اور یہ کہ میں قرآن کو پڑھ کر صَناؤں اب اس کے بعد جو ہدایت حاصل کرلے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو بہک جائے گا اس سے کہہ دیجئے کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں. اور یہ کہئے کہ ساری حمد صرف اللہ کے لئے ہے اور وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھلائے گا اور تم پہچان لو گے اور تمہارا پروردگار تمہارے اعمال سے سے غافل نہیں ہے.

Tafseer

									  تفسیر 
        (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی ذمہ داری 
گزشتہ آیات میں بندوں کے اعمال اور خدا کی ان اعمال سے آگاہی کا ذکر تھا۔ زیرنظر آیات میں سب سے پہلے نیک اعمال کی جزا اور قیامت کی ہلاکت آفرینیوں سے ان کے محفوظ رہنے کی بات بوری 

ہے۔ 
 فرمایا گیا ہے ۔جولوگ نیک اعمال بجالائیں گے وہ ان کی جزا ان سے بہترا پائیں ہے اور اس دن کی وحشت سے امان میں ہوں گے (من جاء بالحسنة فله خير منها وهم من فزع يومئذ 

أمنون)۔ 
 "حسنة" سے کیا مراد ہے : اس بارے میں مفسرین نے مختلف آراء بیان کی ہیں :
 کوئی کہتا کہ اس سے مراد  کلمہ توحيد " لا اله الا الله " اور خدا پرایمان ہے ۔ 
 بعض مفسرین ایسے امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ اسلام کی ولایت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اوراس بارے میں اہلیت اطہار کے حوالے سے وارد ہونے والی متعد در روایات 

بھی اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں منجملہ ان کے : 
 حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام سے منقول کی حدیث میں ہے کہ : 
 حضرت علی علیہ اسلام کے دوستوں میں سے ایک شخص ابوعبداللہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 
 امام نے فرمایا : کیا خدا کے اس فرمان" من جاء بالحسنة فله خير منها ... (آیت کے آخر تک) کے بارے میں تمھیں بتاؤں؟ جو انھوں نے عرض کیا : جی ہاں امیرالمومنین! میں آپ پر 
قربان جاؤں۔ 

 تو امام نے فرمایا : 
  الحسنه معرفة الولاية و حيتا أهل البيت و السیئة انكار الولایة و بغضنا اهل 
  البیت  
  حسنۃ ہماری ولایت اور ہم اہل بیت کی دوستی کی شناخت کا نام ہے اور"سیئہ" اہلبیت کی ولایت کا انکار اور دشمنی کا نام ہے۔ ؎1
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
   ؎1    اصول کافی منقول از تفسیرنورالثقلین جلد 4 ص 104-
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
 البتہ جیسا کہ ہم پہلے بھی بارہا بتاچکے ہیں کہ آیات کا معنی وسیع ہوتا ہے اور یہاں پر "حسنہ" اور"سئیہ" کا معنی بھی وسیع ہے جو تمام نیکیوں پر محیط ہے جن میں خدا و رسول اور 

آئمہ کی ولایت پراس کا اطلاق ہوسکتا ہے جو تمام نیکیوں کے سرفہرست ہے اور یہ امر اس بات سے بھی مانع نہیں ہے کہ دیگر اعمال صالح بھی اس آیت کا مصداق ہیں ۔
 بعض لوگوں کو لفظ "خیر" کی عمومیت دیکھ کر ایک پریشانی ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ایمان خدا سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے جس کی جزا زیادہ ہو تو اس کا جواب 

واضح ہے اور وہ یہ کہ خدا کی رضا اور خوشنودی اس پر ایمان سے ہی بالاتر ہے باالفاظ دیگر سب کی خوشنودی رب کا مقدمہ ہیں اور ہر چیز اپنے مقدمہ سے افضل ہوتی ہے۔ 
 ایک اور سوال جو یہاں پر پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ (سورہ حج کی آیت 3 جیسی) بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے خوف کی لپیٹ میں سب لوگ  جائیں گے تو پھر نیکوکار 

اس سے کیونکر مستثنٰی ہوں گے۔ 
 سوره انبیا کی آیت 103 اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ جس میں ہے: 
 صالح مومنین اس عظیم وحشت سے امان میں ہوں گے۔ 
 ہم جانتے ہیں کہ اس عظیم وحشت سے مراد روز قیامت اور جہنم کا خوف ہے نہ کہ وہ خوف کہ جو صور پھونکنے کے وقت لاحق ہوگا۔ (غور کیجیے گا)
 پھراس گروہ کے مدمقابل گروہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جو لوگ برے کام کریں کے وہ منہ کے بل آتش جہنم  ڈالے جائیں گئے (و من جاء بالسيئة فكبت وجوههم في النار) ۔
 اور انھیں اس کے علاوہ کوئی اور توقع رکھنا بھی نہیں چاہیے " کیا تمھارے ان اعمال کی پاداش اس کے علاوہ کچھ اور ہوسکتی ہے؟ اهل تجزون الا ما کنتم تعملون) ۔
 "کبت " کب " (بروزن "جد") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو اوندھے منہ زمین پر ڈالنا۔ آیت میں لفظ "وجوہ" کا ذکر تاکید کے لیے ہے۔ 
 ایسے لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالنا عذاب کی ایک بدترین قسم ہوگا۔ علاوہ ازیں جب یہ لوگ حق سے اپنا منہ موڑ لیا کرتے تھے اوراسی منہ کے ساتھ گناہوں کا استقبال کیا 

کرتے تھے اب انھیں سزا بھی اسی نوعیت کی ملنی چاہیے۔ 
 ممکن ہے کر" هل تجزون الأماكنتم تعملون " کا جملہ اس سوال کا جواب ہو جو یہاں پر پیش آسکتا ہےاور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص کہے "یہ بہت ہی سخت قسم کی سزا ہے تو اس 

کے جواب میں کیا جائے گا یہ وہ تمھارے اعمال ہیں جوتمھیں دامن گیر ہوچکے ہیں اور تمھاری جزا صرف تمھارے اعمال ہی ہیں ۔ (غور کیجیے گا) 
 پھرآخری تین آیات میں روئے سخن پیغبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہوتا ہے اور آپ سے کچھ حقائق بیان کیے جاتے ہیں جو دراصل اس حقیقت کو بیان کر رہے ہیں کہ 

آپ ان سے کہہ دیجیے میں تو اپنے فرائض بجا لاتا رہوں گا خواہ تم ہٹ دھرم مشرکین ایمان لاؤ یا نہ لاؤ ۔ 
 سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: - (کہہ دو) مجھے حکم دیا جاچکا ہے کہ اس (مقدس )شهر (مکہ٭) کے پروردگار کی عبادت  کرتا رہوں (انما امرت ان اعبد رب هذه البلدة) - 
 یہ ایک ایسا مقدس شہر ہے جس سے تمھارے تمام اعزازات اور آبروئیں وابستہ ہیں ایسا مقدس شہر ہے کہ جس کی برکتیں خدا نے
تمھیں عنایت فرمائی ہیں لیکن تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے انکار کرتے ہو ۔
 ایسا مقدس شہر حرم امن خدا بھی ہے ، روئے زمین کا معززترین نقطہ بھی ہے اور توحید کی قدیم ترین عبادت گاہ بھی ۔ 
 جھی ہاں مجھے تو حکم ہی یہ ہے کہ "میں اسی پروردگار کی عبادت کروں جس نے اس شهر کو حرمت بخشی ہے۔ (الذی حرمها) - 
 اللہ نے اس شہرکو کچھ خصوصیات عطا فرمائی ہیں ، کچھ خوبیاں بخشی ہیں ، اس کے لیے کچھ خاص احترام اور احکام مقرر فرمائے ہیں ، اس کے لیے کچھ پابندیاں مقرر کی ہیں جو 

دوسرے شہروں کے لیے نہیں ہیں ۔  
 لیکن تم یہ بھی نہ سمجھ لینا کہ صرف یہی سرزمین خدا کی ملکیت ہے اور بس ! نہیں بلکہ کائنات کی ہر شے اسی کے لیے ہے (وله كل شيء)۔
  اور دوسرا حکم جو مجھے دیا گیا ہے یہ ہے کہ "میں نامور ہوں کہ مسلمین میں سے رہوں "پروردگار عالم کے حکم کے سامنے غیر مشروط طور پر سرجھکا ئے رہوں نہ کہ اس کے 

غیر کے سامنے (و امرت ان اكون من المسلمين)۔ 
 تو اس طرح سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دو اہم ذمہ داریوں اور فرائض منصبی کو بیان کردیا ۔ ایک تو "خداوند وحده لا شریک کی عبادت" اور دوسرے "اس کے 

حکم کی غیر مشروط طور پر پابندی"۔ 
 پھران دو مقاصد تک پہنچنے کا ذرایعہ یوں بیان کرتے ہیں "مجھے حکم ہے کہ میں قرآن کی تلاوت کروں (وان اتلوا القران)۔ 
 اس کے چراغ سے روشنی حاصل کروں اس کے چشمہ آب حیات سے پانی پیوں اور اپنی زندگی کے تمام پروگراموں میں اس سے راہنمائی حاصل کروں کیوں کہ ان دو مقدس مقاصد 

تک پہنچنے کے لیے یہ میرا وسلیہ ہے اور ہر قسم کے شرک ، کج روی اور گمراہی سے نجات کا ذریعہ ہے۔ 
 اس کے بعد فرماتے ہیں : تم یہ نہ سمجھنا کہ تمھارے ایمان لانے سے میرا یا اس سے بڑھ کر خداوند عظیم کا کوئی فائدہ ہوا گا نہیں نہیں" بلکہ جو ہدایت پا جائے گا وہ اپنے لیے ہدایت 

پائے گا" (فمن اهتدى فانمایهتدی لنفسه)۔ 
 اوراس ہدایت سے حاصل ہونے والے فوائد خواہ اس دنیا میں ہوں یا آخرت میں تمھارے ہی لیے ہوں گے ۔ 
 اور جو شخص گمراہ ہوجائے گا تو اس کا بوجھ اور وبال اس کے اپنے اوپر ہوگا اور تم کہہ دو کہ میں تو صرف ڈرانے والوں ميں  سے ہوں (ومن ضل فقل انما انا من المنذرین)۔ 
 اس کے خطرناک نتائج میراگریبان نہیں پکڑیں گے ۔ میرا کام تو واضح تبلیغ ہے ۔ میرا فریضہ یہی ہے کہ میں تمھیں سیدھی راہ کی ہدایت کرتا ہوں لیکن جو شخص اس بات پر مصر ہے 

کہ گمراہی میں ہی پڑا رہے تو وہ اپنے آپ ہی کو بدبخت کرے گا۔ 
 یہاں پر یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ ہدایت کے بارے میں قران فرماتا ہے جو شخص ہدایت پائے گا اس کے اپنے آخری دن ہے اور عنقریب ماہ رمضان کا چاند دکھائی دینے والا 

ہے۔ 
 پروردگارا ! ہم تجھے تیرے ان باعظمت مہینوں کی قسم دے کرسوال کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی خالص بندگی ، اپنے فرمان کے آگے سرجھکا دینے اور اپنے قرآن مجید کی تلاوت کی توفیق 

عنایت فرما۔ 
 "خداوندا ! ہمیں ہر روز اپنی نت نئی نشانیاں دکھلا تاکہ ہم تجھے ہر روز پہلے سے بہتر پہنچانتے رہیں اور ان سب نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں جو تو نے ہمیں عطا فرمائی ہیں۔  

بارا لہا ! ہمارے اسلامی معاشرے کو گوناگوں مشکلات نے گھیر رکھا ہے اور اندرونی اور بیرونی دشمن اس بات کی زبردست کوشش کر رہے ہیں کہ تیرے نور کو بجھادیں - 
 لیکن تونے ہی سلیمان کو اس قدرقدرت عطا فرمائی ، موسٰی کو فرعون اور فرعونیوں کے مقابلے میں اس قدر قوت عطا فرمائی ، ہمیں بھی ان دشمنوں پر کامیابی عطا فرما اور جولوگ 

قابل ہدایت نہیں انھیں قوم عاد، قوم ہود و ثمود اور قوم لوط کی طرح نیست و نابود فرما ۔ 
و     الحمد لله رب العالمین 
     20 / شعبان 1403 ہجری 
   تفسیر نمونہ کی پندرہویں جلد کا ترجمہ بروز پیر بوقت پونے تین بجے سہ پہر بتاریخ 26 شوال 
   1405 ہجری مطابق 15 جولائی 1985 عیسوی برمکان عزیزم محمد حسن فرزند سیٹھ نوازش علی 
   سیٹھ برادرز بہادر یار جنگ روڈ کراچی میں حقیر پرتقصیر سید صفدر حسین نجفی  فرزند سید 
   غلام سرور نقوی کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوا۔ 
      الحمد لله اولاً و اخرًا 
      والصلوة والسلام محمد و اله دائمًا سرمدًا