Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره نمل / آیه 65 - 68

										
																									
								

Ayat No : 65-68

: النمل

قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ۶۵بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا ۖ بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ ۶۶وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا وَآبَاؤُنَا أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ ۶۷لَقَدْ وُعِدْنَا هَٰذَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۶۸

Translation

کہہ دیجئے کہ آسمان و زمین میں غیب کا جاننے والا اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ انہیں کب دوبارہ اٹھایا جائے گا. بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ناقص رہ گیا ہے بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں مبتلا ہیں بلکہ یہ بالکل اندھے ہیں. اورکفّار یہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا سب مٹی ہوجائیں گے تو پھر دوبارہ نکالے جائیں گے. ایسا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے بہت پہلے سے کیا جارہا ہے اور یہ سب اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور بس.

Tafseer

									(65) قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّـٰهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ 
(66) بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ ۚ بَلْ هُـمْ فِىْ شَكٍّ مِّنْـهَا ۖ بَلْ هُـمْ مِّنْـهَا عَمُوْنَ 
(67) وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا ءَاِذَا كُنَّا تُرَابًا وَّاٰبَـآؤُنَـآ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ 
(68) لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَاٰبَـآؤُنَـا مِنْ قَبْلُ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْـرُ الْاَوَّلِيْنَ  

  ترجمہ

(65) کہہ دو : جو بھی زمین و آسمان میں ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا کے سوا غیب سے آگاہ نہیں ہے اور وہ بھی نہیں جانتے کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ 
(66) یہ مشرک لوگ آخرت کے بارے میں کچھ بھی صحیح علم نہیں رکھتے بلکہ یہ خود اس کے بپا ہونے کے بارے میں شک کرتے ہیں ، بلکہ یہ تو اس سے بالکل اندھے ہیں۔ 
(67) کافروں نے کہا : جب ہم اور ہمارے آباؤ اجداد خاک ہوجائیں گے تو کیا پھر دوبارہ نکالے جائیں گے ؟
(68) یہ وہی وعدہ ہے جو ہم سے اور ہمارے آباؤ اجداد سے پہلے بھی کیا جاچکا ہے۔ یہ تو پہلے لوگوں کے افسانے ہیں۔