Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- قوم ثمود کو کیا سزاملی 

										
																									
								

Ayat No : 48-53

: النمل

وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ۴۸قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ۴۹وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۵۰فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ ۵۱فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ۵۲وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ۵۳

Translation

اور اس شہر میں نو افراد تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے. ان لوگوں نے کہا کہ تم سب آپس میں خدا کی قسم کھاؤ کہ صالح اور ان کے گھر والوں پر راتوں رات حملہ کردو گے اور بعد میں ان کے وارثوں سے کہہ دو گے کہ ہم ان کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہیں تھے اور ہم اپنے بیان میں بالکل سچےّ ہیں. اور پھر انہوں نے اپنی چال چلی اور ہم نے بھی اپنا انتظام کیا کہ انہیں خبر بھی نہ ہوسکی. پھر اب دیکھو کہ ان کی مکاّری کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے ان رؤسائ کو ان کی قوم سمیت بالکل تباہ وبرباد کردیا. اب یہ ان کے گھر ہیں جو ظلم کی بنائ پر خالی پڑے ہوئے ہیں اور یقینا اس میں صاحبانِ علم کے لئے ایک نشانی پائی جاتی ہے. اور ہم نے ان لوگوں کو نجات د ے دی جو ایمان والے تھے اور تقویٰ الٰہی اختیار کئے ہوئے تھے.

Tafseer

									  چند اہم نکات 
 1- قوم ثمود کو کیا سزاملی ؟ 
 اس سرکش اور ظالم قوم کے بارے میں بھی تو قرآن یوں فرماتا ہے ؟ 
  فاخذتهم الجفة 
  انھیں زلزلے نے آلیا اور تباہ و برباد کر دیا ۔ ( اعراف  /  78)۔ 
 کبھی فرماتا ہے: 
  فاخذتهم الصاعقة 
  کڑ کنے والی، بجلی ان پر گری۔ ( ذاریات/  44)۔ 
 اور کبھی کہتا ہے: 
  واخذ الذين ظلموا الصيحة
  آسمانی چیخ نے ان کا کام تمام کر دیا ۔ (ہود  / 67 ) 
 اگر غور کیا جائے تو ان تینوں تعبیروں میں کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جاتا کیونکہ "صاعقه" بجھی بجلی کی بہت بڑی چنگاری ہوتی ہے جو بادل کے ٹکڑوں اور زمین 

کے درمیان کی آتی رہتی ہے ۔ عظیم اور مہیب آواز بھی اس کے ہمراہ ہوتی ہے اور دا اور جب ہمارا حکم پہنچ گیا تو ہم نے صالح اور ان لوگوں کو نجات دے دی جوصالح پر اینان لا " 
چکے تھے اور ظالموں کو آسمانی چیخ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ اپنے ہی گھروں میں زمین پر گر پڑے اور مرگئے 
 بنابریں حضرت صالح کے قتل کی سازش کے بعد ہی عذاب نازل نہیں ہوا بلکہ قوی احتمال یہ ہے کہ خدا کے اس پیغمیر کے قتل کی سازش کے واقعے میں فقط سازشی 

ٹولے ہلاک ہوئے اور دوسرے ظالموں کو سنبھل جانے کے لیے مہلت دی گئی، لیکن ناقہ کے قتل کے بعد تمام ظالم اور بے ایمان گناہ گارفنا ہو گئے۔ لہذا اس سورہ کی اور سورہ  ہود اور 

سورہ اعراف کی آیات کے ملانے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ 
 بالفاظ دیگر زیرنظر آیات میں حضرت صالح اور ان کے اہل خانہ کے قتل کی سازش کے نیتجے میں نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ ہے اور سوره اعراف اور ہود کی 

آیات میں ناقہ  صالح کے قتل کے نتیجے میں عذاب کے نازل ہونے کا بیان ہے توان دونوں صورتوں کو مل کر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ ان ظالموں نے پہلے تو جناب صالح کے قتل کے 

منصوبے بنائے لیکن جب اس میں انھیں کامیابی نہ ہوئی تو پھران کے عظیم معجزہ یعنی ناقہ کوقتل کر دیا اور تین دن کی مہلت کے بعد انھیں دردناک عذاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 
 یہ احتمال بھی ہے کہ انھوں نے پہلے تو ناقہ کو قتل کیا ہو اور جب جناب صالح عبدالسلام نے انھیں تین دن کے نازل 
مرنے والے عذاب سے ڈرایا ہو تو انھین بھی شہید کرنے کی ٹھان لی ہو لیکن اس شیطانی منصوبے میں ناکامی کے بعد تباہ و بربارباد ہوگئےہوں،
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
   ؎1  "تفسير روح البیان" اسی آیت کے ذیل میں۔