Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سورۂ نمل کے مضامین

										
																									
								

Tafseer

									  سورۂ نمل کے مضامین 
  جیساکہ ہم بتاچکے ہیں مشہور قول کی بنا پر یہ سورہ مکہ میں سورہ شعراء کے بعد نازل ہوئی ہے ۔
 مجموعی طور پراس سورة کے مضامین بھی وہی ہیں جو دوسری مکی سورتوں کے ہوتے ہیں یعنی اعتقادی لحاظ سے زیادہ تر مبداء و معاد پر زور دیاگیا ہے اور قرآن 

مجید، وحی ، عالم آفرنیش میں خداوند عالم کی نشانیوں اور قیامت کی کیفیت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔
 عملی اور اخلاقی مسائل کی رو سے اللہ تعالی کے پانچ عظیم نبیوں کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ منحرف اور گمراہ اقوام کے ساتھ ان کے مقابلے کا ذکر ہے کہ اس 

طرح سے ایک توان مومنین کی تسلی کا سامان فراہم کیا جا سکے جوخاص طور پر ان دنوں مکہ میں نہایت اقلیت میں تھے اور دوسرے ہٹ دھرم اورظالم مشرکین کے لیے تنبیہ ہوتا کہ وہ 

صفحہ تاریخ میں گزشتہ سرکشوں کا انجام دیکھ کرکچھ عبرت حاصل کریں بیدار ہوں اور ہوش میں آجائیں : 
 اس سورہ کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سباء کی داستان، ملکہ کے توحید پرایمان لانے کی کیفیت، جناب سلیمانؑ کے ساتھ ہدہد 

جیسے پرندوں اور چیونٹی جیسے حشرات کی گفتگو پر مشتمل ہے۔ 
 اس وجہ سے اس سورت کا نام بھی "نمل" (چیونٹی) ہے۔ عجیب بات یہ بھی ہے کہ بعض روایات میں اسے "سورہ سلیمان" کےنام سے یاد کیاگیا ہے (کبھی سورة سلیمان 

اور کبھی سورہ نمل) اور جیساکہ آگے چل کرہم دیکھیں گے کہ اس کے یہ نام بہت ہی مناسب ہیں اور پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے لیے گئے ہیں ۔ ان میں ایسے اہم 

واقعات کو بیان کیا گیا ہے کہ لوگ عام طور پر ان سے بے خبر تھے ۔
 ساتھ ہی اس سورت میں پروردگار عالم کے بے انتہا علم ، کائنات میں اس کی ہر چیز پر نگرانی اور بندوں پر اس کی حاکمیت کہ جس کی طرف توجہ انسان کی تربیت کے 

لیے نہایت ہی موثر ہے کا ذکر بھی ہے۔ 
 یہ سورت "بشارت" کے ساتھ  شروع ہوتی ہے اور "تنبیہ" پر ختم ہوجاتی ہے ۔ بشارت وہ جوقرآن مجید مومنین کے لیے لایا ہے اور تنبیہ اس بات کی کہ خداوند عالم تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔