Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- پیغمبر پرشاعری کی تہمت کیوں؟

										
																									
								

Ayat No : 221-227

: الشعراء

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ۲۲۱تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ۲۲۲يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ ۲۲۳وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ۲۲۴أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ۲۲۵وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ۲۲۶إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ۲۲۷

Translation

کیا ہم آپ کو بتائیں کہ شیاطین کس پر نازل ہوتے ہیں. وہ ہر جھوٹے اور بدکردار پر نازل ہوتے ہیں. جو فرشتوں کی باتوں پر کان لگائے رہتے ہیں اور ان میں کے اکثر لوگ جھوٹے ہیں. اور شعرائ کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جو گمراہ ہوتے ہیں. کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ وہ ہر وادئی خیال میں چکر لگاتے رہتے ہیں. اور وہ کچھ کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں. علاوہ ان شعرائ کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور بہت سارا ذکر خدا کیا اور ظلم سہنے کے بعد اس کا انتقام لیا اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائیں گے.

Tafseer

									  چند اہم نکات 
 1- پیغمبر پرشاعری کی تہمت کیوں؟ 
 جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ قرآن مجید کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخافلین اسلام اور دشمنان پیغمبر آپؐ پر جو الزام تراشی کیا کرتے تھے اس میں آپ کی 

طرف شعر اور شاعری کی نسبت بھی تھی اور مندرجہ بالا آیات اسی الزام کے جواب میں ہیں ۔
 وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ قران مجید ذرہ برابر بھی اشعارسے مشابہ نہیں ہے یعنی "آن اور اشعار کا کوئی بھی جوڑ نہیں ہے۔ نہ تو ظاہرلحاظ سے یعنی نظم ، 

وزن اور قافیہ کے لحاظاور نہ ہی مضامین کے اعتبارسے ،یعنی شاعرانہ تشبیات، تخیلات اور تغزل کے اعتبارسے۔
 لیکن چونکہ وہ دیکھتے تھے کہ قرآن مجید لوگوں کے افکارواذہان میں بےحد اثر کر رہا ہے اور اس کا دلنشین لحن ان کی روح کے اندراتر رہا تھا لہذا اس نور خداوندی 

پر پردہ ڈالنے کے لیے کبھی تو اسے جادو کا نام دیتے اور کبھی شعر کا ، جادواس لیے کہ وہ اذہان پر بہت زیادہ تاثیر کرتا ہے اور شعراس کہ دلوں میں ارتعاش پیدا کرکے انھیں اپنی 

طرف مائل کرلیتاہے۔
 وہ تو درحقیقت اس کی مذمت کرنا چاہتے تھے لیکن ان الفاظ کے ساتھ اس کی تعریف کررہے ہوتے تھے اوران کی یہ گفتگو اس بات کی دلیل تھی کہ قرآن مجید دلوں اور 

دماغوں پر معجزانہ اثرکرتا ہے۔ 
 قرآن مجیدی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں کہتا ہے:- 
  وماعلعناہ و الشعر وما ينبغي له ان هوالا ذکرو قران مبین لينذر 
  من كان حيًا 
  ہم نے انھیں شعرکی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی ان کے شایان شان ہے بلکہ یہ توواضح ذکر، بیداری
  اور قرآن ہے تاکہ جن لوگوں کے بدن میں جان ہے انھیں ڈرائیں۔ (یس ــــــــــــــ  69-70)۔1