۳۔ قدرت کے باوجود رحیم ہے
فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ ۶۰فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ۶۱قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ۶۲فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ ۶۳وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ ۶۴وَأَنْجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ ۶۵ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ۶۶إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۶۷وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۶۸
پھر ان لوگوں نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کا صبح سویرے پیچھا کیا. پھر جب دونوں ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو اصحاب موسیٰ نے کہا کہ اب تو ہم گرفت میںآجائیں گے. موسیٰ نے کہا کہ ہرگز نہیں ہمارے ساتھ ہمارا پروردگار ہے وہ ہماری راہنمائی کرے گا. پھر ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا دریا میں مار دیں چنانچہ دریا شگافتہ ہوگیا اور ہر حصہّ ایک پہاڑ جیسا نظر آنے لگا. اور دوسرے فریق کو بھی ہم نے قریب کردیا. اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی. پھر باقی لوگوں کو غرق کردیا. اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور بنی اسرائیل کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار صاحبِ عزّت بھی ہے اور مہربان بھی.
یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اس سلسلے کی آخری آیت جو موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کے مجموعی کاموں اور لشکر حق کی فتح اور لشکر باطل کی شکست اور تباہی کے نتیجے کے طور پر ہے ، خدا وند عالم کی دو صفات بیان کر رہی ہے ایک ”عزت“ اور دوسری ” رحمت“ پہلی صفت اس کی قدرت کے ناقابل تسخیر ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری اپنے بندوں پر اس کی رحمت کی وسعت کا پتہ دیتی ہے اور پھر ”عزیز“ کو ”رحیم“ پر مقدم کرکے یہ بتا یا جارہا ہے کہ لوگ یہ خیال نہ کریں کہ یہ رحمت اس کی کمزوری کی وجہ سے ہے ، نہ ! نہ ! بلکہ وہ قدرت رکھنے کے باوجود رحیم ہے ۔
البتہ بعض مفسرین کا یہ نظر یہ ہے کہ اس کی عزت سے توصیف اس کے دشمنوں کی شکست کی طرف اور رحمت سے توصیف اس کے دوستوں کی فتح کی جانب اشارہ ہے اور اگر دونوں صفات دونوں گروہوں کے لئے ہوں تو بھی کوئی ہرج کی بات نہیں کیونکہ گناہگار وں سمیت سب اس کی رحمت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں اور نیک لوگوں سمیت سب اس کے جاہ و جلال اور سطوت اور دبدبے سے خوف کھاتے نظر آتے ہیں ۔