شان نزول
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۶۲لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۶۳أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۶۴
مومنین صرف وہ افراد ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان رکھتے ہوں اور جب کسی اجتماعی کام میں مصروف ہوں تو اس وقت تک کہیں نہ جائیں جب تک اجازت حاصل نہ ہوجائے بیشک جو لوگ آپ سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں لہذا جب آپ سے کسی خاص حالت کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے حق میں اللہ سے استغفار بھی کریں کہ اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے. مسلمانو ! خبردار رسول کو اس طرح نہ پکارا کرو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے خاموشی سے کھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ حکهِ خدا کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس امر سے ڈریں کہ ان تک کوئی فتنہ پہنچ جائے یا کوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے. اور یاد رکھو کہ اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی کل کائنات ہے اور وہ تمہارے حالات کو خوب جانتا ہے اور جس دن سب اس کی بارگاہ میں پلٹا کر لائے جائیں گے وہ سب کو ان کے اعمال کے بارے میں بتادے گا کہ وہ ہر شے کا جاننے والا ہے.
زیرِ نظر پہلی آیت کے بارے میں مفسرین نے مختلف شان ہائے نزول نقل کی ہیں:
بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت حنظلہ بن ابی عیاش کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مسئلہ یہ تھا کہ وہ جس رات شادی کرنا چاہتے تھے اس سے اگلے دن جنگ احد برپا ہوئی ، پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم اپنے اصحاب سے جنگ کے بارے میں مشورہ کررہے تھے کہ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کی کہ اگر رسول الله اجازت دیں تو یہ رات اپنی بیوی کے ساتھ گزار لوں، آنحضرت نے انھیں اجازت دے دی۔
صبح کے وقت انھیں جہاد میں شرکت کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ وہ غسل بھی نہ کرسکے، اسی حالت میں معرکہٴ کاراز میں شریک ہوگئے اور بالآخر جام شہادت نوش کیا۔
رسول الله نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا:میں نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ آسمان وزمین کے درمیان حنظلہ کو غسل دے رہے ہیں ۔
اسی لئے انھیں ”حنظلہ“ کو ”غسیل الملائکہ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے(1)۔
ایک اور شان نزول میں ہے کہ یہ آیت جنگ خندق کے موقع پر نازل ہوئی ، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم تمام مسلمانوں کے ساتھ بڑی تیزی کے ساتھ مدینے کے اطراف میں خندق کھودنے میں مصروف تھے، کچھ منافقین کہ جو ظاہراً مسلمانوں کی صف میں تھے، بہت آہستہ آہستہ کام کررہے تھے، وہ لوگ جب دیکھتے کہ مسلمان متوجہ نہیں ہیں تو رسول الله سے اجازت لیے بغیر چپکے سے اپنے گھروں کو چلے جاتے لیکن اگر حقیقی مسلمانوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ رسول الله کی خدمت میں آکر اجازت لیتے اور کام انجام دے کر فوراً واپس آجاتے اور خندق کھودنے میں مشغول ہوجاتے تاکہ اس کار خیر میں وہ پیچھے نہ رہ جائیں ۔
یہ آیت پہلے گروہ کی مذمت اور دوسرے کی تعریف کررہی ہے(2)۔
1۔ تفسیر علی بن ابراہیم کے حوالے سے نور الثقلین، ج۳، ص۶۲۸ پر شان نزول نقل کی گئی ہے ۔
2 ۔ تفسیر فی ظلال، ج۶، ص۱۲۶، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔